پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی توڑنے سے انکاری ہو گئے

پنجاب کے سیانے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے بظاہر اسمبلی نہ توڑنے کا بہانہ تراشتے ہوئے عمران خان کے ساتھ جنرل باجوہ کیخلاف بولنے پر پنگا ڈال لیا ہے حالانکہ جب عمران نے باجوہ پر الزام لگائے تب پرویز الہی ان کی دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ عمران کی باجوہ مخالف گفتگو کی مذمت کرتے ہوئے پرویز الہی نے پنجاب اسمبلی نہ توڑنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ لیکن پرویز الہی نے اب یہ کہہ دیا ہے کہ 23 دسمبر کو اسمبلیاں تحلیل کرنا دور کی بات ہے، کیونکہ 99 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ ایسا نہ کیا جائے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی بھی اپنے حلقے کے لئے کچھ کیے بغیر اگلے الیکشن میں نہیں جانا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت اسمبلیاں تحلیل کرنے سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گا جس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا اور مزید خرابی پیدا ہو گی۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ نظام چلے، اور پنجاب اور وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے، لیکن اگر اسمبلیاں توڑنے پر اصرار جاری رہا تو پھر ملک میں ایک برس کی معاشی ایمرجنسی بھی لگ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرویز الہی پہلے دن سے ہی پنجاب اسمبلی نہیں توڑنا چاہتے تھے اور عمران خان نے جنرل باجوہ کے خلاف گفتگو کرکے انہیں پھڈا ڈالنے کا بہانہ فراہم کر دیا ہے جس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسمبلی توڑنے سے انکاری بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت اسمبلیاں تحلیل کرنے سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو گا جس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا اور مزید خرابی پیدا ہو گی۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ نظام چلے، اور پنجاب اور وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے، لیکن اگر اسمبلیاں توڑنے پر اصرار جاری رکھا گیا تو پھر ملک میں ایک برس کی معاشی ایمرجنسی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
اے آر وائی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پرویز الہیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ احسان فراموش نہ بنے، جنرل باجوہ کے ہم سب پر احسانات ہیں، سچ تو یہ ہے کہ باجوہ صاحب عمران خان کو اٹھا کر کہاں سے کہاں تک لے گئے، پرویز الہیٰ نے بتایا کہ میں نے عمران کو کہا تھا کہ جنرل باجوہ ہمارے محسن ہیں، آپ کے محسن ہیں، پی ٹی آئی کے محسن ہیں، لہذا کا خوف کریں اور ان کے خلاف نہ بولیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تحریک انصاف والوں کو احسان فراموشی نہیں کرنی چاہیے خصوصاً جب جنرل باجوہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی اسمبلیاں توڑنے کے اعلان والے دن بھی جب میں دوپہر کو ان سے ملا تو یہی کہا کہ وہ جنرل باجوہ کے بارے میں منفی گفتگو نہ کریں، انہوں نے کہا کہ مجھے اور بہت لوگ بھی سفارش کر رہے ہیں، اُس پر میں نے کہا کہ پھر آپ مان لیں اور باز آ جائیں۔ لیکن عمران خان نے میرے ساتھ یہ زیادتی کر دی کہ مجھے ساتھ بٹھا کر جنرل باجوہ کو برا بھلا کہہ ڈالا۔ پرویز الہی نے عمران خان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب اگر کسی نے جنرل باجوہ کے خلاف بات کی، تو سب سے پہلے میں بولوں گا، اس کے بعد میری ساری پارٹی بولے گی، پی ٹی آئی والوں نے تو مذاق بنا لیا ہے، کیا کوئی بندہ اتنا احسان فراموش بھی ہو سکتا ہے، یہ کیا بات ہوئی کہ منہ اٹھا کر جس کا جو دل کرے بولنا شروع ہو جائے۔پرویز الہیٰ نے کہا کہ جمشید چیمہ اور اسکی بیگم مسرت اپنی اوقات میں رہیں اور جنرل باجوہ کے خلاف بک کرنا بند کر دیں۔
انٹرویو کے دوران پرویز الہی نے جو مجموعی تاثر دیا وہ یہ تھا کہ صوبائی اسمبلیوں کو بھی نہیں چھوڑا جانا چاہیئے۔ اسمبلیوں کی تحلیل بارے سوال کے جواب میں پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے لیے بھی ایک بہت بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ ہماری معیشت پہلے ہی ڈوبی ہوئی ہے، اسمبلی ٹوٹی تو سٹاک مارکیٹ اور بھی نیچے جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے حامی بھی چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں چلیں، کیوں کہ روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر کے استعفے کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے کابینہ اجلاس میں بیٹھ کر بک بک شروع کر دی، میں نے کہا کہ ’گیٹ آؤٹ‘، اسے باہر نکال دیا، اسکے بعد اس نے استعفیٰ دیا جو میں نے منظور کر لیا، اس طرح نہیں ہوتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ جب عمران خان جنرل باجوہ کے حوالے سے بات کر رہے تھے تو آپ کو برا لگا، اس پر پرویز الہیٰ نے کہا مجھے بہت برا لگا، اب ہم برداشت نہیں کریں گے، وہ ہمارے محسن ہیں، ہم نے شریفوں کے وقت بھی باجوہ صاحب کے بارے میں کوئی فضول بات نہیں سنی تھی۔ پرویز نے دعویٰ کیا کہ عمران مونس الہیٰ کو وزیر نہیں بنانا چاہتے تھے، اسکے علاوہ جنرل فیض حمید نے ہمارے ساتھ بہت ساری زیادتیاں کیں، جنرل فیض ہمارے سخت خلاف تھے۔ جب جنرل باجوہ کی توسیع کا مسئلہ چل رہا تھا تو ہم ان کو سپورٹ کررہے تھے، تب بھی بڑی عجیب صورت حال ہوئی، جنرل فیض حمید نے چیئرمین نیب کو بلا کر کہا کہ پرویز الہیٰ اور مونس کو بھی اندر کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جنرل باجوہ کو فون کیا، انہوں نے جنرل (ر) فیض کی اچھی طرح ٹھکائی کی، اس نے کہا کہ پیچھے سے عمران خان کا حکم آیا ہے۔ لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب عمران نے مونس الہیٰ کو وفاقی وزیر اور مجھے وزیراعلی بنایا ورنہ انکی اپنی جماعت فارغ ہو جاتی۔
ایک سوال پر پرویزالٰہی نے کہا کہ میرا اب بھی یہ موقف ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کرنے کی صورت میں ن لیگ کا فائدہ ہوگا اور ہم سب کا نقصان ہو جائے گا خصوصی جب نواز شریف پاکستان واپسی کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ پرویز الہی نے تصدیق کی کہ انہوں نے عمران سے پنجاب اور قومی اسمبلی میں اگلے الیکشن کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولا مانگ لیا ہے۔ میں نے ان سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا کہا ہے جس میں اسد عمر، پرویز خٹک اور سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان شامل ہوں، ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر چکے ہیں، تو وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ میں ایک مہینہ پہلے سمری پر دستخط کر کے دے آیا تھا۔
لیکن 23 دسمبر کو اسمبلیاں تحلیل کرنا ابھی بڑی دور کی بات ہے۔
