پرویز الٰہی کا اظہارناراضی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی

مرکز اور پنجاب میں کپتان کی اہم ترین اتحادی جماعت کے لیڈر اور سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی جانب سے ایک ہفتے میں دو مرتبہ وزیراعظم عمران خان سے کھلے عام اظہار ناراضی نے حکومتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
چند روز پیشتر ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کو اتحادیوں کے مسائل نظر انداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد اب اسپیکر پنجاب اسمبلی نے یہ کہہ دیا ہے کہ حکومت قاف لیگ کے ساتھ سوتن والا سلوک کر رہی ہے اور اس کی نیت پر شک کرتی ہے جو کہ مناسب نہیں یے۔ پرویز الٰہی دراصل اس بات پر ناراض تھے کہ کپتان نے حال ہی میں اتحادیوں کے ساتھ معاملات بہتر کرنے کے لئے جہانگیر ترین کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی کو تحلیل کرکے ایک نئی کمیٹی بنا دی جس کے ممبران میں گورنر پنجاب چوہدری سرور اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار شامل ہیں۔ پرویز الہی کہتے ہیں کہ یہ دونوں افراد بے اختیار ہیں اور انہی کی وجہ سے پنجاب میں اتحادیوں کو مسائل کا سامنا ہے لہذا انہیں مسائل کے حل کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کا ممبر بنانا معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھانے کے مترادف ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان میں حکومتی اتحاد سے مذاکرات کیلئے نئی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں لیکن نئی کمیٹیوں میں اہم بات تحریک انصاف کے اہم رہنما اور جماعت کے حوالہ سے توڑ پھوڑ کے ماہر جہانگیر ترین کا اس میں شامل نہ ہونا ہے۔ اب تک کے مشاورتی عمل میں خود وزیراعظم عمران خان شامل نہیں ہوئے اور واقفان حال کہتے نظرآ رہے ہیں کہ فی الحال اتحادیوں کی حکومت سے اپنے مطالبات کے حوالے سے شکایات ہیں اور وہ حکومت سے اس پر عملدرآمد کیلئے کہہ رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو اتحادیوں سے معاملات خطرناک صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس حوالہ سے پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویزالٰہی کا یہ بیان نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت نے کمیٹی بنائی ہے اور ہم نے ڈالی ہے جو ابھی نہیں نکلی۔ وہ کمیٹی کیا ہے اس پر سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری ہیں لہٰذا دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود حکومت کے اپنی اتحادیوں سے معاملات نتیجہ خیز نہیں ہو سکے ۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اتحادی سیاست کی سائنس سے واقفیت نہیں رکھتے اور اس حوالہ سے اب تک سامنے آنے والا طرزعمل حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ دوسری جانب حکومت کے ڈلیور نہ کرنے اور خراب کارکردگی کے باعث عوامی سطح پر ہونیوالے ردعمل نے بھی اتحادیوں کو ڈرا دیا ہے اور انہوں نے پر پرزے نکالنے شروع کردیئے ہیں۔ پنجاب جیسے اہم صوبہ میں گو کہ مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی صرف دس اراکین پر محدود ہے لیکن حکومت سازی کے عمل میں چودھری صاحبان کی حمایت نے انہیں اس مرحلہ پر زیادہ تقویت دی اور ‘‘دشمن کے دشمن بھی دوست ہوتے ہیں’’کا فارمولا لاگو کرتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں سپیکر کا عہدہ دیا گیا۔ ق لیگ کے ساتھ مرکز میں دو اور پنجاب کی سطح پر دو وزارتیں طے پائیں لیکن وفاقی حکومت نے وقت گزرنے کے بعد اس معاہدے پر توجہ نہ دی۔ وفاقی کابینہ میں طارق بشیر چیمہ کے ساتھ دوسری وزارت پر احتراز برتنا شروع کیا جس کیلئے ق لیگ نے چودھری مونس الٰہی کو نامزد کر رکھا تھا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ کپتان خود چودھری مونس الٰہی کے حوالے سے تحفظات رکھتے تھے اور خود مونس نے بھی ایک انٹرویو میں یہ کہا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان کو میں پسند نہیں تو پھر مجھے ان کی وزارت نہیں لینی چاہئے ۔ پھر یہ خبر بھی آئی کہ حکومت نے چودھری مونس الٰہی کی جگہ چودھری سالک حسین کو کابینہ میں شامل کرنے کا عندیہ دیا مگر چودھری صاحبان نے اس پیشکش کو قبول کرنے کی بجائے اس پر شدید غصے کا اظہار کیا اور ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ وزیر کس کو بنانا ہے اور یہ اختیار ہم کسی اور کو نہیں دے سکتے ۔
کپتان نے جہانگیر ترین کی قیادت میں قاف لیگ سے معاملات طے کرنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کو بغیر کوئی وجہ بتائے تحلیل کرتے ہوئے اب ایک اور کمیٹی بنائی ہے جس میں گورنر چودھری سرور، وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور شفقت محمود کو شامل کیا گیا ہے ۔ پرویز الہی کا کہنا ہے کہ جب پہلی کمیٹی اچھے طریقے سے کام کر رہی تھی تو ان کو اعتماد میں لیے بغیر اسے ختم کرکے دوسری کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ انہوں نے کہا کہ نئی کمیٹی پر تو حیرت کا اظہار ہی کیاجا سکتا ہے کیونکہ گورنر سرور تو ایک ہفتہ پہلے یہ کہہ کر اپنی بے اختیاری کا رونا رو چکے ہیں کہ بیورو کریسی گورنر ہاؤس کے فون کو اہمیت نہیں دیتی اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے اختیارات کا بھی سب کو علم ہے۔
ان حالات میں لگتا یوں ہے کہ چودھری صاحبان اور کپتان کے درمیان فاصلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب اگر سیاسی محاذ پر نظر دوڑائی جائے تو مارچ کے حوالہ سے چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ اپوزیشن ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن کا استعمال کر سکتی ہے۔ شاید چوہدری پرویزالہی آنے والے وقتوں میں حکومت کے خلاف جانے کے لیے ابھی سے بنیادیں رکھ رہے ہیں.
