پرویز مشرف کیس؛ اعانت جرم میں پوری فوج کو رگڑ دیا گیا

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پرویز مشرف کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ اعانت جرم میں پوری فوج کو رگڑ دیا گیا۔اس طرح تو اس وقت کی عدلیہ کے حلف لینے والے بھی شامل ہو جائیں گے
لاہور ہائی کورٹ میں پرویز مشرف کا ٹرائل کرنیوالی خصوصی عدالت کی تشکیل کے خلاف پرویز مشرف کی درخواست پر سماعت ہوئی۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ اس فیصلے کو پڑھیں تو اس میں اعانت جرم کا ذکر کیاگیا، اعانت جرم میں پوری فوج کے لوگوں کر رگڑ دیا گیا ہے، اس طرح تو اس وقت کی عدلیہ کے حلف لینے والے بھی شامل ہو جائیں گے۔علی ظفر ایڈووکیٹ نے کہا کہ غداری ایک شخص نہیں کر سکتا یہ جرم مجموعی طور پر لیا جا سکتا ہے، یہ رشوت والے قانون کی طرح لیا جاسکتا ہے رشوت دینے اور لینے والا دونوں جرم دار ہیں۔
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ فرد جرم میں تو غداری کا ذکر ہی نہیں ہے، جتنی سمریز موجود ہیں ان میں ملزموں کا لفظ ہے کسی جگہ ایک بندے کا ذکر نہیں ہے۔عدالت نے پوچھا کہ اگر جرم وفاقی حکومت کے سامنے ہورہا ہے تو کیا وفاقی حکومت کی شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ عدالتی معاون علی ظفر ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے کہ غیر قانونی اقدامات کی لسٹ بھری پڑی ہے، آرمی عدالتوں کا قیام بھی غیر قانونی اقدام میں آتا ہے لیکن غداری نہیں۔
وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعدآرٹیکل 6نیا جرم توشامل کیاگیا لیکن اس میں سزاکا طریقہ کارطے نہیں کیاگیا۔ایساممکن نہیں کہ خودبخودسزاہوجائے۔ انھوں نےمزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خصوصی عدالت تو بنا دی لیکن یہ طے نہیں کیا کہ فوجداری کیس کیسے چلے گا .اس وقت کے وزیراعظم نے خصوصی عدالت کے قیام کے بعد انکوائری کا حکم دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ کیس آنے کے پہلے دن ہی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کر دی۔مدعی پر کوئی جرح نہیں کی گئی۔عدالتی معاون بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ کیس قانون کے مطابق نہیں بنا اور نہ عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق ہوئی، 21 جون 2013 کو اٹارنی جنرل نے آرٹیکل 6 کے تحت کیس بنانے کی سمری بھیجی اور سیکریٹری داخلہ کو 29 دسمبر 2013 کو شکایت درج کرنے کا اختیار دیا گیا۔
اس دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ کسی کو سنے بغیر سزا دے دینا کہاں کا قانون ہے، اگر کوئی 342 کا بیان نہیں دے رہا تو ضروری ہے کہ اس سے منگوا لیا جائے۔بینچ نے کہا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کو دیکھیں تو اُس وقت جس جس نے ساتھ دیا وہ سب اعانت کے ملزم بن جاتے ہیں، کیا پہلے کبھی ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل ہوا ہے؟بینچ نے استفسار کیا کہ کتنے آج پھر رہے ہیں کسی کیخلاف ایسے ٹرائل کیا ہے؟ وفاق سے پوچھتے ہیں اسحاق ڈار کے خلاف ایسے کارروائی کی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے نشاندہی کی کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر آرٹیکل 6 کا کیس نہیں بن سکتا، یہ اختیار وزیراعظم کے پاس نہیں تھا، اگر بنیاد غلط ہے تو پوری عمارت گرے گی، پرویز مشرف کی سزا بھی نہیں رہے گی ، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تحت کسی غیر حاضرملزم کا ٹرائل مکمل نہیں ہو سکتا۔
جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے ریمارکس دئیے کہ دوہزارسات میں ایمرجنسی لگی لیکن وہ کہتے ہیں کہ آئین معطل ہوا۔ دو ہزارنو میں فیصلہ آیا جس میں اقدام کوغیرآئینی قرار دیا گیا۔جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے بیرسٹرعلی ظفرسے استفسارکیا کہ دوہزار تیرہ تک خاموشی اورپھریہ کیس آجانا اس پرکیا کہیں گے آپ۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں دوبار آیا اس پربھی آگاہ کریں۔بیرسٹرعلی ظفرنے کہا سپریم کورٹ نے آرٹیکل 6 کے ساتھ تعلق نہیں بتایا مگر اسے غیرآئینی اقدام قراردیا۔۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے خواجہ طارق رحیم ایڈووکیٹ سے مکالمے میں کہا آپ 18ویں ترمیم میں مداخلت کی استدعا کررہے ہیں۔طارق رحیم ایڈوکیٹ نے جواب دیا وفاقی حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ پرویز مشرف نے آئین معطل کیا.
عدالتی معاون علی ظفر ایڈووکیٹ کے دلائل مکمل ہونے کے بعدعدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری پیر تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان کو دلائل کیلئے طلب کر لیا اور وزارت داخلہ کی خصوصی عدالت کی تشکیل کی سمری بھی مانگ لی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button