عدالتی احکامات کے باوجود انعام رحیم کی رہائی عمل میں نہ آ سکی

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے افراد کے حقوق کی جنگ لڑنے والے وکیل ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر رہا کرنے کے حکم کے باوجود ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی جس پر ان کے صاحبزادے حسنین انعام نے والد کی بازیابی کے لئے سی پی او راولپنڈی کو تحریری درخواست جمع کر دی ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاہے.
وکیل انعام رحیم کے بیٹے حسنین کی طرف سے سی پی او کو دی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ میرے والد کو 16 /17 دسمبر کی درمیابی شب ویگو گاڑیوں میں آنے والے افراد نے اغواء کر. لیا.اغواء کا یہ مقدمہ نمبر 542 تھانہ مورگاہ میں درج ہے .لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے سائل کی رٹ پٹیشن ایڈمٹ کرتے ہوئے والد کی محکمہ دفاع کی حراست کو غیر قانونی اور غیر آئینی قراردیا .عدالت نے والد انعام الرحیم کی فوری رہائی کے لئے محکمہ دفاع کو حکم جاری کیا تھا..درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم کی کاپی کے ساتھ سیکرٹری محکمہ دفاع کو 9 جنوری کو لیٹر لکھا کہ والد کو آزاد کیا جائے ابھی تک والد کو آزاد نہیں کیا گیا. درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم اور ایف آئی آر کے مطابق میرے والد کو محکمہ دفاع کی غیرقانونی اور غیر آئینی تحویل سے آزاد کروایا جائے.
دوسری طرف وفاقی حکومت نے لاپتہ افراد کے وکیل انعام الرحیم کی رہائی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے. وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے مشترکہ طور پر لاہور ہائی راولپنڈی بینچ کے رہائی کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی ہے. اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، ان کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں، ہائیکورٹ کا رہائی کا فیصلہ خلاف قانون ہے، سپریم کورٹ انعام الرحیم کی رہائی کا فیصلہ معطل کرکے اپیل پر تفصیلی سماعت کرے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے کرنل (ر) انعام الرحیم ایڈووکیٹ کو فوری رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
