پرویز کا عمران کو چھوڑ کر PDM کیساتھ جانے کا فیصلہ

ایک جانب یہ خبر گرم ہے کہ پی ڈی ایم نے وزیر اعلیٰ پنجاب تبدیل کرنے کے لیے پرویز الٰہی کی قاف لیگ کے 10 میں سے 6 اراکین پنجاب اسمبلی کو توڑ لیا ہے جو اپنا فارورڈ بلاک بنا لیں گے، تو دوسری جانب یہ خبر بھی ہے کہ پرویز الٰہی نے اپنے ایم پی ایز ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر ایک بار پھر سیاسی وفاداریاں بدلتے ہوئے پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملانے اور عمران کو جھنڈی دکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی خبر درست ہو لیکن یہ طے ہو چکا ہے کہ پنجاب اسمبلی کو ٹوٹنے نہیں دیا جائے گا اور عمران خان کو اس محاذ پر بھی شکست دی جائے گی۔ اسی لیے گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا ہے اور اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحاریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہیں تاکہ آئینی طور پر اسمبلی توڑنے کی گنجائش ختم ہو جائے۔

پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔ ایک جانب یہ خبر ہے کہ قاف لیگ سے تعلق رکھنے والے دس میں سے چھ اراکین پنجاب اسمبلی اپنا فارورڈ بلاک بنانے جارہے ہیں جو پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملا کر پرویز الٰہی کا اقتدار ختم کر سکتا ہے۔ لندن میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین  کا کہنا تھا کہ ق لیگ کے 6 اراکین پنجاب اسمبلی انکے ساتھ رابطے میں ہیں اور وہ وقت آنے پر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ چوہدری سالک نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کے پاس 2024 تک پارٹی کی صدارت کا مینڈیٹ ہے اور بنیادی طور پر پنجاب اسمبلی میں موجود تمام 10 قاف لیگی اراکین چوہدری شجاعت کے ڈسپلن میں آتے ہیں اور وقت آنے پر وہ چودھری شجاعت کا حکم مانیں گے۔

یاد رہے کہ جولائی 2022 میں ان 10 اراکین پنجاب اسمبلی کی وجہ سے ہی حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ ختم ہوئی تھی اور پرویز الٰہی نئے وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔ شجاعت حسین نے بطور پارٹی صدر اپنے دس اراکین کو حمزہ شہباز کے لیے ووٹ ڈالنے کا کہا تھا لیکن قاف لیگ کی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کے سربراہ ساجد بھٹی نے سارے ووٹ پرویز الٰہی کو دلوا دیے۔ سپیکر دوست محمد مزاری نے کاؤنٹنگ کرتے وقت ان دس ووٹوں کو مائنس کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے جو خط لکھا ہے اس کے مطابق قاف لیگ کے تمام اراکین اسمبلی حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے کے پابند تھے لہذا پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کے ووٹ شمار نہیں کیے جا سکتے۔ تاہم پرویز الٰہی نے سپیکر کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جہاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں مشہور زمانہ تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ دیا کہ پرویز الٰہی کو ڈالے گئے ووٹ شمار ہوں گے چونکہ حتمی فیصلہ پارٹی کے مرکزی صدر کا نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کے پارلیمانی سربراہ کا ہوگا۔ چوہدری شجاعت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس کی سماعت نہیں کی جا رہی۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے بھی فیصلہ جلد ہو سکتا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قاف لیگ کے 10 اراکین اسمبلی کی اکثریتی تعداد یعنی 6 ممبران اپنی جماعت کا فارورڈ بلاک بنا کر پی ڈی ایم کیساتھ مل جاتے ہیں تو پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مسلم لیگ اور اتحادیوں کے پاس اس وقت پنجاب اسمبلی میں 178 ارکان موجود ہیں، جبکہ تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان کی تعداد 188 ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ منصوبے کے تحت گورنر کے حکم پر پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہیں گے کیونکہ ان کے 6 اراکین اسمبلی پی ڈی ایم کے ساتھ چلے جائیں گے جس کے بعد نئے وزیراعلی کا الیکشن ہوگا اور قاف لیگ کے دس اراکین پنجاب اسمبلی کی مدد سے نون لیگ کا نیا وزیر اعلیٰ ٰمنتخب ہو جائے گا۔

لیکن کچھ ذرائع یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پنجاب میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پرویز الٰہی کی مشاورت سے ہو رہا ہے اور انہوں نے اپنے خلاف ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے پی ڈی ایم کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس تعاون کے عوض چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ تو نہیں ملے گی لیکن انہیں دوبارہ سپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیا جائے گا اور وہ پنجاب میں حکومتی اتحاد کا حصہ بن جائیں گے۔ یوں عمران خان کا صوبائی اسمبلی توڑنے کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ لیکن پی ڈی ایم ذرائع اس ڈویلپمنٹ کی تصدیق کرنے سے انکاری ہیں اور قاف لیگ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دیکھئے اور انتظار کیجئے۔

یاد رہے کہ پنجاب کی سیاسی صورت حال نے 19 دسمبر کی رات کئی ڈرامائی موڑ لیے۔ ایک طرف گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلٰی پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ دیا، اور پنجاب اسمبلی کا اجلاس 21 دسمبر کو سہ پہر چار بجے طلب کر لیا۔دوسری طرف اپوزیشن نے وزیراعلٰی پنجاب، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروا دی ہیں تا کہ وہ آئین کے مطابق اسمبلی توڑنے کے اہل نہ رہیں۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب عمران خان نے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اپوزیشن کے ان اقدامات نے پنجاب اسمبلی کی فوری تحلیل کے عمل کو روک دیا ہے اس عمل میں پرویز الٰہی اپوزیشن کا ساتھ دے رہے ہیں ورنہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی رات گئے تک دفتر میں رک کر پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد وصول نہ کرتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پرویز الٰہی اپنے قائد عمران خان کو دوبارہ سے دھوکا دیتے ہیں تو یہ ان کی سیاست کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا کیونکہ پہلے ان کا لانگ مارچ ناکام ہوا اور اب ان کا صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا منصوبہ بھی خاک میں مل جائے گا۔

Back to top button