پشاور بی آر ٹی، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کوتحقیقات سے روک دیا

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کو بی آر ٹی یعنی پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تحقیقات سے روک دیا ہے۔ دوسری طرف ایف آئی اے نے پشاور بی آر ٹی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ پشاورہائیکورٹ میں جمع کرادی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پشاور بی آر ٹی کی تحقیقات کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے بی آر ٹی منصوبے کی مجموعی لاگت اور تکمیل کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ بی آر ٹی منصوبے کی ابتدائی لاگت کتنی تھی، تکمیل کی ابتدائی تاریخ کیا تھی اور منصوبہ کب پایہ تکمیل تک پہنچے گا؟۔
جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دئیے کہ کیا بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے کی کوئی تاریخ ہے بھی یا نہیں؟۔ کے پی حکومت نے بی آر ٹی منصوبہ مکمل ہونے کی نئی تاریخ دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ 31 جولائی کو مکمل ہوگا۔ وکیل صوبائی حکومت نے بتایا کہ بی آر ٹی منصوبے پر 2018 میں کام شروع ہوا، بی آر ٹی کا ڈیزائن بھی کئی بار تبدیل ہوا۔
اس موقع پر خیبرپختونخوا حکومت کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے فیصلہ بغیر وجوہات کے جاری کیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ ’ پشاور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ دیا جس کی درخواست گزار نے استدعا ہی نہیں کی تھی‘۔
سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی کی تحقیقات سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو 45 دن کے اندر بی آر ٹی منصوبے کی انکوئری کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف خیبر پختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
دوسری طرف وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پشاور بی آر ٹی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ ہائیکورٹ میں جمع کرادی ہے۔
ایف آئی اے نے 31 جنوری کو پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے بی آر ٹی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق رپورٹ میں 58 سوالات کے جوابات دئیے گئے ہیں، بی آر ٹی کے حوالے سے سابق ڈی جی پی ڈی، پی ڈی اے اور ٹرانس پشاور سمیت منصوبے سے وابستہ مختلف لوگوں سے تحقیقات کی گئیں۔ حکام نے بتایا کہ تحقیقات میں دیگر محکموں سے بھی مدد حاصل کی گئی لہٰذا عدالت نے مزید تحقیقات کا حکم دیا تو کریں گے۔
واضح رہےکہ پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو 45 روز میں تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد عدالت نے مقررہ وقت گزرنے کے بعد ایف آئی اے کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے خط لکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button