پشتون جرگے کی تجویز پر سیاسی اختلاف، مولانا عبدالواسع نے آل پارٹیز کانفرنس کو بہتر قرار دے دیا

محمود خان اچکزئی کے جرگے کے اعلان پر جے یو آئی بلوچستان کے امیر کے تحفظات، صوبے کے تمام مسائل پر مشترکہ مشاورت پر زور

کوئٹہ (نیوز ڈیسک) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کی جانب سے کوئٹہ میں پشتونوں کا قومی جرگہ بلانے کے اعلان پر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع نے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے بجائے صرف پشتون جرگہ بلانا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسائل کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ صوبے کی تمام اقوام اور سیاسی جماعتیں ان حالات سے متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان، سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل کے حل کے لیے وسیع تر سیاسی مشاورت کی ضرورت ہے، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرکے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد زیادہ مؤثر فورم ثابت ہوسکتا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے اس سے قبل کوئٹہ میں پشتونوں کا قومی جرگہ بلانے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد موجودہ حالات اور پشتون قوم کو درپیش مسائل پر مشاورت کرنا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا بتایا گیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں رہنماؤں کے مؤقف میں اختلاف صرف جرگے یا کانفرنس کے انعقاد تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے مسائل کے سیاسی دائرہ کار سے بھی متعلق ہے۔ محمود خان اچکزئی پشتون علاقوں کے مسائل کو بنیاد بنا کر اجتماعی جرگے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ مولانا عبدالواسع بلوچستان کے مسائل کو تمام اقوام اور سیاسی جماعتوں کا مشترکہ مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

دونوں سیاسی رہنما بلوچستان کی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس لیے جرگے اور آل پارٹیز کانفرنس کے معاملے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

دوسری جانب اگر دونوں تجاویز کو یکجا کرتے ہوئے پہلے آل پارٹیز مشاورت اور اس کے بعد جرگے کا انعقاد کیا جاتا ہے تو وسیع تر سیاسی اتفاق رائے پیدا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔

Back to top button