پنجاب حکومت گرانے کی سازش PDM کر رہی ہے یا عمران؟


تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کیلئے سازش ہو رہی ہے جس کا مقصد پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت گرانا ہے۔ لیکن دوسری جانب پرویز الٰہی کے قریبی ساتھی سمجھتے ہیں کہ پنجاب حکومت گرانے کی اصل سازش عمران خان خود کر رہے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی لیے پی ڈی ایم اتحاد کی قیادت پرویز الٰہی حکومت گرانے کی کوشش کرنے سے پہلے انہیں یہ موقع دینے پر غور کر رہی ہے کہ وہ خود عمران کا ساتھ چھوڑ دیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپنی دانست میں عمران خان نے پنجاب حکومت گرانے کی سازش کا انکشاف کیا ہے لیکن پرویز حکومت گرانے کی سازش خود عمران کر رہے ہیں اور اس کے لیے وہ دو طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ پہلا طریقہ استعمال کرتے ہوئے عمران خان نے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنوانے والے 9 اراکین پنجاب اسمبلی کو وزارتیں دینے سے منع کردیا ہے۔ عمران کا کہنا ہے کہ قاف لیگ کی حمایت کے عوض پرویز الٰہی کو وزارت دی جا چکی ہے اس لئے مزید کوئی وزارت نہیں دی جا سکتی۔ ایسے میں اگر قاف لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی ناراض ہو کر حکومت کا ساتھ چھوڑ دیں تو پرویزالٰہی وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے۔ عمران کی جانب سے پرویز الٰہی حکومت کے خلاف دوسری سازش ان کا مسلسل فوج مخالف بیانیہ ہے جو کہ اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ پنجاب حکومت ختم ہونے دے تاکہ وہ عمران مزید کمزور ہو جائیں۔

قاف لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی لیے پرویزالٰہی نے اپنی حکومت بچانے کے لیے عمران خان کے فوج مخالف بیانیے کے برعکس پرو فوج بیانیہ اپنا لیا ہے اور کھل کر اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں پرویز الٰہی نے جامعہ اشرفیہ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج کے خلاف بات کرنے والے قوم اور دین کے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے سپہ سالارجنرل قمر جاوید باجوہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے دفاع اورتحفظ کیلئےپیش پیش رہتےہیں۔ دین اسلام، جمہوریت اور ملکی دفاع کیلئے جنرل قمر باجوہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، ملک کو انتشارو فساد اور ہرقسم کے حالات سے پاک فوج اور علما کرام نے بچا رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جنرل باجوہ نے ہمیشہ تمام مسالک کےرہنماؤں، دینی مدارس اورمذہبی طبقات کی خدمت کی، تبلیغی جماعت پر سعودی عرب میں پابندی ختم کرانے کیلئے آرمی چیف نے ذاتی دلچسپی لی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج کے خلاف باتیں کرنے والے دین اور قوم کے دشمن ہیں۔ یاد رہے کہ پرویز الٰہی نے یہ باتیں تب کیں جب عمران خان فیصل آباد اور پشاور کے جلسوں میں مسلسل فوج کا رگڑا نکال رہے تھے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنا رہے تھے۔

دوسری جانب یہ افواہیں اب زور پکڑ رہی ہے کہ پنجاب میں پرویز حکومت کا خاتمہ ہونے جا رہا ہے اور حمزہ شہباز دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے والے ہیں۔ کچھ حلقے تو یہ دعوی ٰکر رہے ہیں کہ حمزہ کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے جو فارمولا بنایا جارہا ہے اس کے مطابق تحریک انصاف کے پندرہ سے بیس اراکین پنجاب اسمبلی اپنی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں گے جس کے بعد پرویزالٰہی اکثریت کھو بیٹھیں گے اور فارغ ہو جائیں گے۔ تمام مسلم لیگ کی پتلی صورتحال کے باعث اس فارمولے پر عمل درآمد مشکل نظر آتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی تبدیلی کے لیے سب سے تگڑی آپشن تو چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے اپنے 10 منحرف اراکین اسمبلی کو نااہل کروانا ہے جیسا کہ عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپنے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے پر الیکشن کمیشن کے ذریعے نااہل کروا دیا تھا۔ اسی فارمولے کے تحت چوہدری شجاعت حسین بھی الیکشن کمیشن کو اپنی ہدایت کے برخلاف حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الٰہی کو ووٹ دینے پر نا اہل کروانے کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت چودھری شجاعت حسین کی صدارت کا معاملہ الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے جس پر اگلے چند روز میں حتمی فیصلہ آ جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی الیکشن کمیشن چوہدری شجاعت حسین کی پارٹی صدارت کو دوبارہ کنفرم کرے گا، شجاعت حسین اپنے اراکین ہنجاب اسمبلی کو پرویز الٰہی کا ساتھ چھوڑنے کی وارننگ دیں گے۔ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو شجاعت حسین الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر نااہلی کا ریفرنس دائر کر دیں گے جس کے بعد پرویزالٰہی کا بطور وزیراعلیٰ برقرار رہنا ممکن نہیں رہے گا۔

لیکن اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شجاعت حسین سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت قاف لیگ کے دس اراکین اسمبلی کو نااہل نہیں کروا سکتے۔ انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارٹی صدر کے اختیارات سے متعلق حالیہ فیصلہ واضح ہے جس کی روشنی میں مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کی ڈس کوالیفیکیشن کی درخواست اگر الیکشن کمیشن میں دائر کی جاتی ہے تو وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پہلے دن ہی فارغ ہو جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ان 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو نااہل کر دیا تھا جنہوں نے پارٹی چیئرمین عمران خان کی ہدایت کے مطابق وزارت اعلٰی کے لیے ووٹ پرویز الٰہی کو دینے کی بجائے حمزہ شہباز کو دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پارٹی صدر سے زیادہ طاقت اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے پاس ہوتی ہے۔ اگر اس کی رائے کی خلاف ورزی ہو گی تو اراکین پر نااہلی کی شق کا اطلاق ہو گا، ورنہ نہیں۔ یعنی اس فیصلے کی روشنی میں ایک جماعت کا صوبائی پارلیمانی لیڈر اپنی پارٹی کے مرکزی صدر سے زیادہ طاقتور اور با اختیار ہو گیا ہے۔

Back to top button