عمران کا ضمنی الیکشن عوام کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو سخت مقابلہ دینے کے لیے 25 ستمبر کو ہونے والے قومی اسمبلی کے تمام نو حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن ایسا کرنے سے ان کی پارٹی مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان یہ تمام سیٹیں جیت بھی جائیں تو بالآخر ان سیٹوں کو خالی ہی ہونا ہے چونکہ تحریک انصاف اب قومی اسمبلی کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔ ان سیٹوں کے دوبارہ خالی ہونے کی صورت میں ایک تو دوبارہ سے ان نشستوں پر الیکشن ہوگا اور دوسرا تحریک انصاف کا ووٹر بد دل ہو جائے گا اور آئندہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق عمران کی جانب سے 9 سیٹوں پر ضمنی الیکشن لڑنے کا بوجھ قومی خزانے کو اٹھانا پڑے گا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب ملک کو معاشی مشکلات سے نکلنے کے لیے پائی پائی کی ضرورت ہے اور اب تو حالیہ بارشوں اور سیلاب نے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ادھر سپریم کورٹ میں انتخابی امیدواروں کو ایک سے زائد نشستوں پر بیک وقت لڑنے سے روکنے اور تحریک انصاف کے چیئرمین کو بطور رکن قومی اسمبلی مستعفی ہونے تک الیکشن لڑنے سے روکنے کے لیے ایک درخواست بھی جمع کرائی گئی ہے۔ عدالت میں جمع کرائی گئی پٹیشن کے مطابق ایسے عمل سے ’عوامی پیسے اور وقت کا ضیاع‘ ہوتا ہے۔

عمران کی جانب سے PTI اکاؤنٹ سے 80 لاکھ نکالنے کا انکشاف

اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ میں بھی اس سال اگست میں درخواست گزار آصف محمود نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو ’ملک کے وسیع تر مفاد‘ میں ایک سے زائد نشستوں پر ضمنی انتخابات لڑنے سے روکنے کی استدعا کی تھی۔ انہوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ امیدواروں کی طرف سے متعدد نشستوں پر انتخاب لڑنا ایک خامی بن گیا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ سیاسی استحصال ہے۔

عمران خان کی جانب سے ‏قومی اسمبلی کے نو حلقوں سے خود ضمنی الیکشن لڑنے کے فیصلے سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر عمران ایک سے زائد یا نو کی نو نسشتوں پر کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں بہرحال رکھنی ایک ہی نشست ہے۔ ایسی صورت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان باقی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کروائے گا؟ اس سے دوبارہ انتخاب کی صورت میں قومی خزانے پر مزید کتنا بوجھ پڑے گا؟ الیکشن کمیشن سے ایک حلقے میں اوسط انتخاب پر آنے والے اخراجات کی تفصیل حاصل کی۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے تخمینے کے مطابق ایک حلقے پر دو کروڑ 50 لاکھ سے لے کر دو کروڑ 70 لاکھ روپے اوسط خرچ ہوتے ہیں جس میں کاغذ کی چھپائی، ذرائع آمد و رفت کا خرچ اور انتخابی عملے وغیرہ کے اخراجات سمیت کئی دیگر خرچے شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اندازے کے مطابق ایک حلقے میں ممکنہ اخراجات میں سب سے بڑا خرچہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا ہوتا ہے۔ اسکے بعد ذرائع آمد و رفت کا خرچہ آتا ہے۔ اگلا خرچہ انتخابی عملے کی ادائیگیوں کا ہوتا ہے۔ اس میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی جیسے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ پھر ہر حلقے میں کم از کم آٹھ دس دیگر امیدوار بھی کھڑے ہوتے ہیں اور اگر ہزاروں میں نہیں تو لاکھوں روپے لگاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تفصیل کے مطابق اس طرح نو حلقوں پر انتخابات کروانے کا خرچہ 25 سے 27 کروڑ کے قریب ہو سکتا ہے۔ حالیہ سیلاب کے بعد یہ رقم کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ 9 سیٹوں پر ایک ہی شخص کے الیکشن لڑنے سے انتخابی اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ اس سے بچنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جانی چاہیے۔ پارلیمنٹ کو قانون سازی پر غور کرنا چاہیے کہ ایک امیدوار دو سے زائد حلقوں پر الیکشن نہ لڑے اور سرکاری خزانے کا غلط استعمال روکا جا سکے۔ یہ وسائل کا ضیاع ہے اور سیاسی جماعتوں کو جاگنا چاہیے۔ وہ عوام کے لیے یہ کیوں نہیں کر سکتے؟‘ عہدیدار کے مطابق سال 2017 میں الیکشن کمیشن نے پارلیمنٹ کو ’امیدوار کے دو سے زائد حلقوں پر الیکشن نہ لڑنے‘ کی ترمیم تجویز کی تھی جسے منظور نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن اب بھی اس تجویز کی حمایت کرے گا۔

عمران خان کے نو حلقوں پر ضمنی الیکشن لڑنے سے متعلق فیصلے پر بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے بتایا کہ قانون میں کوئی بندش نہیں کہ کوئی رکن کتنے حلقوں سے الیکشن لڑ سکتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات کے اندر وہ نہیں سمجھتے کہ یہ ایک درست فیصلہ ہے کیونکہ نو حلقوں پر دوبارہ الیکشن ہوں گے مطلب عمران خان نو الیکشن جیتتا ہے تو پھر نو نشستوں پر دوبارہ ضمنی الیکشن ہو گا یعنی سیکنڈ ٹائم رن ہوگا۔
رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ’اس وقت سیاسی طور پر تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دیے ہوئے ہیں، ایک طرف اسمبلی سے استعفیٰ دیا ہوا ہے دوسری طرف جتنی نشستیں ہیں ان پر یہ الیکشن لڑ رہے ہیں تو پھر غالباً حلف بھی اٹھائیں گے اور پھر استعفیٰ دیں گے تو یہ کوئی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں رائج الیکشن قوانین کے مطابق کسی امیدوار پر ایک سے زائد حلقوں سے الیکشن لڑنے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے الیکشن کمیشن کی ایک سے زائد نشستوں پر الیکشن نہ لڑنے کی تجویز کو اس لیے مسترد کیا تھا کہ معمول کے حالات میں اگر کوئی رہنما یا سیاست دان ایک یا دو یا زیادہ حلقوں سے الیکشن لڑتا ہے اور کوئی رہنما اپنی مقبولیت دکھانے کے لیے ہر صوبے سے ایک ایک نشست پر انتخاب لڑتا ہے تو اس حساب سے وہ عام انتخابات میں چار نشستوں پر الیکشن لڑتا ہے لیکن اس وقت تو عام انتخابات نہیں بلکہ ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کی اگر رائے آئے تو میں نہیں سمجھتا کہ صرف ایک سیٹ پر الیکشن لڑنے کا قانون مناسب ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں یہ قدغن نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی رکن کتنی نشستوں پر لڑ سکتا ہے۔‘

یاد رہے کہ ماضی میں ویسے تو کئی امیدوار عام انتخابات میں مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ چکے ہیں لیکن یہ تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ کوئی ضمنی انتخابات میں اتنی زیادہ نشستوں سے کھڑا ہوا ہو۔ حالیہ سیلاب کے بعد انتخابات کے موخر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ خیال رہے کہ عمران خان نے 2018 کے عام انتخابات میں بھی بیک وقت پانچ نشستوں پر انتخاب لڑا تھا اور تمام نشستیں جیتیں لیکن بعد میں انہیں چار نشستیں خالی کرنی پڑیں جن پر دوبارہ انتخاب کروانا پڑا۔

Back to top button