کراچی میں فضائی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات

فضائی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات میں دبئی سے پاکستان لایا جانے والا دو کروڑ روپے مالیت کا 1542 گرام سونا دوران پرواز اڑن چھو ہو گیا۔ پرواز اترنے پر جہاز اور مسافروں کی مکمل تلاشی کے باوجود سکیورٹی حکام غائب ہونے والا سونا برآمد نہ کرسکے۔
نجی ایئرلائن کی پروازنمبر ای زیڈ 335 سے کراچی آنے والے مسافر جیولرمحمد مونس نجی 4 ستمبرکو کراچی پہنچے تھے۔ مونس نے واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح بتائی کہ دورانِ پرواز انہوں نے اپنی سیٹ کے بالکل اوپر والے باکس میں اپنا بیگ رکھا تھا جس میں دو کروڑ مالیت کا ڈیڑھ کلو سونا موجود تھا، لیکن جب پرواز لینڈ ہونے کے بعد انہوں نے لگیج باکس کھولا تو ان کا بیگ غائب تھا۔ یونس نے سونے کی چوری کی اطلاع فوری طور پر جہاز کے عملے کو دی، جس نے سکیورٹی حکام کو مطلع کیا۔ سونے کی تلاش میں کراچی ایئرپورٹ سکیورٹی فورس نے تمام مسافروں اور انکے سامان کی سو فیصد اسکیننگ کی تاہم سونا برآمد نہ ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق مونس باقاعدہ قانونی طریقے سے ایکسپورٹ کیے گئے زیورات کی نصف قیمت سونے کی شکل میں واپس لارہا تھا اور سونے کی پاکستان آمد کے بارے میں کراچی کے کسٹم حکام کو پیشگی اطلاع بھی دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ چوری ہونے والا ڈیڑھ کلو سونا کراچی کے نورتن جیولر کی ملکیت تھا۔ ڈیوٹی پر تعینات کسٹم حکام نے بتایا کہ سونے کی تلاش میں جہاز کی مکمل تلاشی لی گئی اور مسافروں اور سامان کی بھی 100 فیصد سکریننگ کی گئی۔ تاہم غائب ہونے والا سونا کسی مسافرسے برآمد نہ ہوسکا۔
اسمبلی میں جا کر معاملات حل کرنے کا کہا جا رہا ہے
کسٹم حکام نے امکان ظاہر کیا کہ چوری کا واقعہ دبئی ایئرپورٹ سے روانگی کے وقت پیش آیا ہوگا تاہم متاثرہ مسافر کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے دوران پروازسونے کی موجودگی کی تصدیق کی تھی اور سونا دوران پروازہی چوری ہوا ہے۔ لیکن کراچی ایئر پورٹ پولیس کے مطابق چوری کی واردات پاکستان کی حدود میں نہیں ہوئی لہٰذا یہاں مقدمہ درج نہیں ہوسکتا۔
