خیبر پختونخواہ کے MPA کا عمران کی کرپشن کیخلاف استعفیٰ

تحریک انصاف کی خیبر پختون خواہ حکومت میں دراڑیں پڑنے کے بعد پشاور سے پی ٹی آئی کے ایم پی اے محمد فہیم نے عمران خان پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے میں یہی سمجھتا رہا کہ کرپشن صرف ہمارا وزیراعلیٰ کر رہا ہے لیکن پھر مجھے یہ پتہ چلا کہ اس کرپشن کے تانے بانے تو بنی گالہ جا کر ملتے ہیں، لہذا میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے مزید 20 اراکین بھی انکے ساتھ رابطے میں ہیں اور مناسب موقع پر ان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے تاکہ ایک فارورڈ بلاک بنایا جا سکے۔
خیال رہے گزشتہ ایک ماہ سے پارٹی کے اندر گروپ بندی کی چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں جن کو پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے افواہیں کہہ کر رد کیا جا رہا تھا۔ تاہم اب پشاور سے رکن صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن محمد فہیم کھل کر پارٹی چیئرمین عمران خان کے خلاف سامنے آ گئے ہیں۔ پشاور کے حلقہ پی کے 72 سے ایم پی اے محمد فہیم نے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کپتان کو چارج شیٹ کیا اور کہا کہ خان صاحب کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے، وہ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، عمران ویسے تو ریاست مدینہ کی باتیں کرتے ہیں مگر عملی طور پر سب کچھ اس کے برعکس کرتے ہیں۔ ناراض رکن اسمبلی فہیم نے کہا کہ عمران خان نے لوگوں کی منفی ذہن سازی کی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ کو سچ کیسے بنانا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ماضی میں عمران خان کا کارکن تھا اور 15 سال میں نے پارٹی کے لیے محنت کی، لیکن میرا سوال ہے کہ کیا ملکی اداروں کے خلاف باتیں کرنا حقیقی آزادی کی تحریک ہے، ہم نے ملک کو مضبوط بنانا ہے نہ کہ فوج کو کمزور کرنا ہے۔
لاپتہ افراد کیس:وزیراعظم کی معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی
ایم پی اے محمد فہیم نے بتایا کہ جب 2018 میں صوبے میں ہماری حکومت بنی تو چھ ماہ بعد مجھے احساس ہوا کہ جلسوں میں جو نعرے لگتے تھے عملاً سب کچھ اس کے الٹ ہو رہا ہے، میں سمجھتا تھا کہ کرپشن میں صرف وزیر اعلیٰ ملوث ہیں مگر پھر مجھے پتہ چلا کہ یہ معاملات بنی گالہ تک پہنچ رہے ہیں۔ فہیم کے مطابق اس حقیقت کا انکشاف ہونے کے بعد ہم 11 ایم پی ایز نے عمران خان سے اسلام آباد میں ملاقات کی، میں نے خان صاحب کو بی آر ٹی میں کرپشن سے متعلق فائل دکھائی مگر بات اِدھر اُدھر کر دی گئی، اور میرے سوالات کو مذاق میں ٹال دیا، اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہ سب کچھ دکھاوا ہے۔
محمد فہیم نے دعویٰ کیا کہ محکمہ صحت ہو یا تعلیم ہر شعبے میں کرپشن کا بازار گرم ہے، رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، لہذا اب میں مزید جھوٹ بول کر عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتا، میرا پی ٹی آئی سے اب کوئی تعلق نہیں نہ عمران خان میرے لیڈر ہیں، میرے ساتھ باقی رہنما بھی ہیں جو عمران کی قیادت سے نالاں ہیں۔ ایم پی اے کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نااہل ہو جاتے ہیں تو ہم صرف پرویز خٹک کی قیادت کو تسلیم کریں گے ورنہ ہم کسی اور کو نہیں مانتے۔ان کے مطابق وہ فی الحال کسی جماعت میں شامل نہیں ہو رہے مگر جھوٹے اور دھوکے باز لیڈر کے پیچھے کام نہیں کریں گے۔
ادھر چارسدہ سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان کے بارے میں بھی تحریک انصاف چھوڑ جانے کی افواہیں گرم ہیں، اس خبر کی تصدیق کے حوالے سے ان سے رابطہ کرنے کوشش کی مگر موقف نہ مل سکا، دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کی ترجمان ثمر بلور نے اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کی بڑی وکٹ گرنے والی ہے جس کا اعلان جلد پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایم پی اے سلطان محمد کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ان پر سینٹ الیکشن کے لیے ووٹ بیچنے کا الزام لگا تھا، بعد ازاں ان کو وزارت سے ہٹا دیا گیا تھا، اس معاملے پرپارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ ایم پی اے محمد فہیم اور ان جیسے دیگر اراکین پر سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کا الزام ہے، ان اراکین کو آئندہ الیکشن میں ٹکٹ بھی نہیں دیا جائے گا۔ اس لیے فہیم پارٹی پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، یاد رہے اس سے قبل صوبائی وزیر عاطف خان اور شہرام ترکئی کو گروپ بندی کے الزام میں کابینہ سے ہٹا دیا گیا تھا جن کو بعد میں وزیراعلٰی محمود خان کے ساتھ صلح کے بعد بحال کر دیا گیا۔
