توہین عدالت پرعمران خان کی نااہلی یقینی کیوں ہو گئی؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان کے خلاف توہین عدالت پرفرد جرم عائد کرنے کے فیصلے کے بعد اب ان کی نااہلی یقینی نظر آتی ہے کیونکہ ماضی میں توہین عدالت کے الزام کا سامنا کرنے والے کئی سیاست دانوں نے عدالتوں سے بلا مشروط معافی مانگی لیکن انکی معافی مسترد کر کے انہیں سزائیں سنا دی گئیں۔ دوسری جانب عمران خان کا کیس اس لئے بہت کمزور ہے کہ انہوں نے خاتون جج کو دھمکیاں دینے کے الزام پر معافی بھی نہیں مانگی اور صرف اظہار افسوس کیا حالانکہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ان کو بار بار موقع دیا۔ ایسے میں آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد عمران خان کی نااہلی یقینی ہے اور انکے بچنے کا امکان مشکل نظر آتا ہے۔

8 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی۔ آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ فرد جرم عائد ہونے کے بعد اگر عمران خان معافی مانگتے ہیں تو اس کی کوئی اہمیت اس لیے نہیں ہو گی کہ انہیں اپنی نااہلی نظر آرہی ہوگی۔ اس لئے عمران اگر معافی مانگیں گے بھی تو اسے قبول کئے جانے کا کوئی امکان نہیں۔ اسی لئے جب تین لیگی رہنماؤں نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور دانیال عزیز نے توہین عدالت کے الزام پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد غیر مشروط معافی مانگی تو اسے مسترد کردیا گیا اور تینوں کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ لہذا اب اگر عمران خان فرد جرم عائد ہونے کے بعد معافی مانگ بھی لیں تو اسے قبول کئے جانے کا کوئی امکان نہیں۔

عمران کی جانب سے PTI اکاؤنٹ سے 80 لاکھ نکالنے کا انکشاف

8 ستمبر کو عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ کریمنل توہین عدالت بہت حساس معاملہ ہوتا ہے، اس عدالت کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ ریڈ لائن ہے، جرم بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس میں غیر مشروط معافی مانگنے کی بجائے صرف اظہار افسوس کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عمران نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ اگر خاتون جج کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو انہیں افسوس ہے حالانکہ ججوں کے کوئی جذبات نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خاتون جج کا نام لے کر انہیں کھلی دھمکی دی اور ان کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا۔ اب اگر کل کو ان جج صاحبہ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا؟

یاد رہے کہ عمران کے خلاف خاتون جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کا کیس چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا 5 رکنی بینچ سن رہا ہے۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ توہین عدالت کیس کو بند کردیا جائے، اپنے دلائل کے دوران حامد خان نے دانیال عزیز کیس کا ذکر بھی کیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت کیسز کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا، گزشتہ سماعت کے حکم نامے میں عدالت نے دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے مقدمات کا حوالہ دیا۔ حامد خان نے کہا کہ عمران خان کا کیس دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے مقدمات سے مختلف ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل، سول اور کریمنل تین طرح کی توہین عدالت ہوتی ہیں، دانیال عزیز اور طلال چوہدری کے مقدمے میں کریمنل توہین نہیں تھی، انہوں نے عدالت کے کردار پر بات کی تھی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عمران خان کی کریمنل توہین ہے، زیر التوا مقدمے پر بات کی گئی، آپ کا جواب پڑھ لیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے ہم پر بائنڈنگ ہیں۔

یاد رہے کہ یہ توہین عدالت کے وہی کیسز ہیں جن میں معافی مانگنے کے باوجود عدالت نے ملزمان کو سزائیں دے کر عوامی عہدے کے لیے نااہل کردیا تھا۔ مسلم لیگ ن کے یہ ارکان پارلیمان عدلیہ کے خلاف بیانات دینے پر توہین عدالت کے قانون کی گرفت میں آئے، سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں گفتگو پر انہیں عدالت کی برخاستگی تک کی سزا سنائی گئی اور اس کے ساتھ ہی وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے نا اہل ہو گئے۔ انہیں معافی مانگنے کے باوجود معافی اس لیے نہ ملی کہ ان کے خلاف فرد جرم عائد ہو چکی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کے عدلیہ کے بارے میں بیان پر از خود نوٹس لیا اور انہیں بھی توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی حالانکہ انہوں نے معافی بھی مانگ لی تھی لیکن اسے قبول نہیں کیا کیونکہ ان کے خلاف فرد جرم عائد ہو چکی تھی۔ اس طرح نہال ہاشمی بھی عوامی اور سرکاری عہدے کے لیے اہل نہیں رہے۔ اسکے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک اور لیگی رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت پر عوامی عہدے کے لیے نااہل کردیا تھا حالانکہ انہوں نے غیر مشروط معافی مانگی تھی لیکن تب تک ان پر فرد جرم عائد ہو چکی تھی۔ اس لئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد اگر وہ معافی مانگ بھی لیتے ہیں تو ان کا بچنا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔

Back to top button