کراچی کی جینز فیکٹری میں لڑکی کے ساتھ کیا ہوا؟

کراچی کی جینز فیکٹری میں لڑکی کے ساتھ کیا ہوا؟
کراچی کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں 20 افراد کی جانب سے ایک خاتون ورکر سے اجتماعی زیادتی کی خبر نے دو روز سے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر رکھا تھا لیکن اب پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ریپ کی کہانی فیک نیوز تھی اور مرنے والی لڑکی کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ پولیس نے اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ لڑکی نشے کی عادی تھی اور زیادہ نشہ کرنے کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔
یاد رہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر کراچی کے کورنگی صنعتی زون میں قائم ایک گارمنٹس فیکٹری کی خاتون ورکر کے ساتھ گینگ ریپ کی خبر گردش کر رہی تھی، لیکن کیس کی تحقیقات کے بعد سندھ حکومت، پولیس اور فیکٹری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس میں ’کوئی صداقت نہیں۔ ٹوئٹر پر دو روز سے آرٹسٹک ملینرز Artistic Millioners ریپ کیس کے نام سے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا، صارفین الزام لگا رہے تھے کہ کورنگی میں ایک مشہور جینز کی فیکٹری میں ایک نوجوان خاتون ورکر کو ڈیوٹی ٹائمنگ کے بعد اوور ٹائم کے بہانے روکا گیا، جس کے بعد 20 افراد نے رات بھر اسے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر صارفین واقعے کی تحقیقات کرنے اور فیکٹری انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے۔ اس ٹرینڈ کے ساتھ برقعہ پہنے ایک خاتون کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی جس میں وہ ایک گارمنٹس فیکٹری کے چند افسران کی جانب سے انہیں تنگ کرنے کے متعلق بات کر رہی تھیں، ویڈیو میں فیکٹری کا نام نہیں لیا مگر صارفین نے اشارہ دیا کہ وہ آرٹسٹک ملینرز کی بات کر رہی ہیں۔
اسمبلی میں جا کر معاملات حل کرنے کا کہا جا رہا ہے
آرٹسٹک ملینرز ملک میں جینز کی پتلونیں بنانے والے بڑے کارخانوں میں سے ایک ہے۔ کراچی کے علاقوں کورنگی اور لانڈھی میں آرٹسٹک ملینرز گروپ کے 17 یونٹس ہیں۔اس حوالے سے جب صوبائی وزیر محنت سعید غنی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس خبر کو ’جھوٹ‘ پر مبنی قرار دیا۔ سعید غنی کے مطابق تحقیق سے پتہ چلا کہ فیکٹری مالکان کو سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلا کر بلیک میل کرنے والے ایک گروہ نے یہ خبر پھیلائی۔
سوشل میڈیا پر ایک یوٹیوب ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں سرخ لباس میں خاتون کو فرش پر گرا دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ ان کی ویڈیو بنا رہے ہیں تو چھیپا کے رضاکار خاتون پر کپڑا ڈال رہے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرنے والے کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو آرٹسٹک ملینرز فیکٹری کی قتل ہونے والی ملازمہ کی ہے۔ چھیپا کے ترجمان چوہدری شاہد حسین نے بتایا کہ ’یہ ویڈیو ایک 35 سالہ خاتون کی ہے جن کی لاش یکم ستمبر کو کورنگی نمبر چار کے غوث پاک روڈ کے قریب ایک گراﺅنڈ میں ملی تھی، یہ ویڈیو اٹھا کر سوشل میڈیا پر اس فیکٹری سے منسوب کرکے چلا دی گئی جس میں کوئی صداقت نہیں ہے، اس خاتون کی لاش تاحال چھیپا سرد خانے میں رکھی ہوئی ہے۔
محکمہ محنت سندھ کے جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر کراچی ایسٹ سید اطہر علی شاہ کی جانب سے اس واقعے کی لکھی گئی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گینگ ریپ کی خبر چلنے کے بعد محکمے کی تین رکنی ٹیم نے تحقیق کرنے کے بعد کنفرم کیا کہ یہ ایک جھوٹی خبر ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کورنگی کی جانب سے ایوان صنعت و تجارت کورنگی کو لکھا گیا ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں ایس ایس پی نے لکھا ہے کہ پولیس کی تفتیش میں اس افواہ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب آرٹسٹک ملینرز کے چیئرمین نے بتایا کہ یہ خبر سوشل میڈیا پر ایک جھوٹا چینل چلانے والے نے پھیلائی، جو سراسر بکواس ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ صرف ہمیں بلیک میل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی نے آپ سے کوئی رقم مانگی یا کوئی اور مطالبہ کیا، تو ان کا کہنا تھا: ’نہیں ہم سے تاحال کسی نے رقم کا مطالبہ نہیں کیا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ جھوٹی خبر پھیلانے کے بعد بلیک میلرز کا گینگ رقم کا مطالبہ کرنے جا رہا تھا لیکن یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور حکومت اور پولیس نے تحقیق کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ایک جھوٹی خبر ہے۔
