آصف کا کیچ چھوڑنے والا سکھ کھلاڑی کیا خالصتانی ہے؟

دبئی میں جاری ایشیا کپ کے ایک اہم میچ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کی تمام ذمہ داری بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے اپنے سکھ فاسٹ بائولر ارشدیپ سنگھ پر ڈال کر اسے تختہ مشق بنا دیا ہے اور نفرت میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ اسے خالصتانی قرار دے دیا ہے۔ سکھ کھلاڑی کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بنیادی وجہ اس کے ہاتھوں پاکستانی بیٹسمین آصف علی کا کیچ ڈراپ ہونا بنی۔ سوشل میڈیا پر ارشدیپ پر ہونے والی تنقید کے بعد بھارتی پنجاب کے وزیر کھیل گرمیت سنگھ ان کے حق میں میدان میں نکل آئے اور کھل کر ان کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے ایک رکن کو خالصتانی قرار دے کر نفرت کا اظہار کرنا افسوس ناک حرکت ہے۔ یاد رہے 1980 کی دہائی میں بھارتی پنجاب کے سپوت سنت جرنیل سنگھ بھنڈراوالا اور اسکے سکھ ساتھیوں نے بھارتی غلامی سے آزادی کی تحریک چلائی تھی جسے خالصتان تحریک کہا جاتا ہے۔ تب کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کی حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لئے سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے خلاف خلاف آپریشن گولڈن ٹیمپل کیا تھا جس میں وہ مارے گئے تھے۔ تاہم انکی موت کے تین مہینے بعد ہی اندرا گاندھی کے دو سکھ باڈی گارڈ نے ان کو 80 گولیاں مار کر ختم کر دیا تھا اور سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی موت کا بدلہ لے لیا تھا۔
ایشیا کپ :بھارت کا افغانستان کو101 رنز سے شکست دے دی
دوسری جانب سوشل میڈیا پر ارشدیپ کی ٹرولنگ نے بھارتی کرکٹ حکام کو بھی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ ارشدیپ کو خالصتانی قرار دینے کا سلسلہ نہیں رک پا رہا۔ بھارتی حکام نے ان ٹوئیٹس کی چھان بین کر کے ایک اور واردات ڈالی اور ان کا تعلق پاکستانی سوشل میڈیا ہینڈلر کیساتھ جوڑ دیا۔ تاہم یہ چورن بک نہیں پایا اور اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ سکھ کھلاڑی کو خالصتانی قرار دینے والے زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کا تعلق مودی کی جماعت بی جے پی سے ہے۔
لیکن زیادہ عجیب بات یہ ہے انڈین بائولر ارشدیپ سنگھ کو ٹوئیٹر صارفین کے علاوہ ویکیپیڈیا پر بھی خالصتانی قرار دیا گیا ہے حالانکہ خالصتان تو ابھی تک وجود میں ہی نہیں آ پایا۔ انڈین صحافی سدھیر چودھری نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا کہ ’ٹیم انڈیا کے کرکٹر ارشدیپ سنگھ کے ویکیپیڈیا پیج میں ردو بدل کی گئی اور جان بوجھ کر اسکے لیے لفظ ’خالصتانی‘ استعمال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آئی پی ایڈریس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سب پاکستان سے ہو رہا ہے۔ لیکن پاکستان کی جانب سے اس دعوے کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ویکیپیڈیا رضاکارانہ طور پر اپنی ویب سائٹ پر موجود مواد میں ردوبدل کی اجازت دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی صارف اس کے مواد میں ترمیم کر سکتا ہے۔
اس دوران انڈین میڈیا نے خبر دی تھی کہ بھارتی حکومت نے ارشدیپ سنگھ کے لیے خالصتانی لفظ کے تعارف کی وضاحت کے لیے ویکیپیڈیا کے اہلکاروں کو طلب کیا ہے لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے ویکیپیڈیا کے عملے کو طلب نہیں کیا بلکہ ارشدیپ کے تعارف میں ردوبدل پر فوری وضاحت طلب کی ہے۔
دودری جانب دہلی میں بی جے پی کے ایک رہنما نے فیکٹ چیکر زبیر احمد کے خلاف ’بدنیتی سے اور جان بوجھ کر انڈین کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ارشدیپ سنگھ اور سکھ برادری کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ پھیلانے‘ کے الزام میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ بی جے پی رہنما نے یہ بھی ٹویٹ کیا کہ ’ملک کرکٹ سے پہلے آتا ہے۔ میں پاکستان کے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہوں اور ارشدیپ سنگھ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ بی جے پی اور دائیں بازو کے ساتھ منسلک کئی ہینڈلز نے الزام لگایا ہے کہ زبیر پاکستان کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔ دراصل زبیر احمد نے سوشل میڈیا پر ٹویٹس کی ایک مجموعی تصویر ٹویٹ کی تھی جس میں صارفین ارشدیپ سنگھ کو کیچ چھوڑنے کے بعد ’خالصتانی‘ کہہ رہے تھے۔ چند صارفین نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ انڈیا میں اقلیتوں کی حب الوطنی ہمیشہ مشکوک رہتی ہے۔
