‘پولیس انتظار کرتی رہتی ہے کوئی ان کا چائے پانی کرے تو یہ کارروائی شروع کریں’

‘پولیس انتظار کرتی رہتی ہے کوئی ان کا چائے پانی کرے تو یہ کارروائی شروع کریں’
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو جو کام سونپا گیا ہے وہ نہیں کرتی کچھ اور کرنے لگ گئے ہیں، کس قدر ناانصافی کا کاروبار چلا رکھا ہے، ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو ملزم ہمارے پاس آتا ہے بری ہو جاتا ہے کیونکہ تفتیش نہیں ٹھیک ہوئی ہوتی۔

دورانِ سماعت کوئٹہ سے جبری طور پر گمشدہ شہری علی رضا کی اہلیہ نے عدالت میں پیش ہوکر کہا کہ میرے شوہر 2013 سے لاپتہ ہیں، جس آدمی پر اغوا کا شک تھا پولیس نے اس کو رہا کردیا۔

چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) بلوچستان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب یہ کیا ہو رہا ہے؟ جرم کے بعد تفتیش کا دورانیہ محدود ہوتا ہے، 7 سال سے ایک شخص لاپتا ہے پولیس نے کچھ کیا ہی نہیں۔

آئی جی بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ سال 2013 کے بعد تین سال تک کیس لیویز کے پاس رہا، لیویز پولیس کا ادارہ نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 3 سال تک لیویز کے پاس رہا آپ کے پاس آیا تو کیا کرلیا آپ نے؟ پولیس کی تفتیش میں کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے، بھائی آپ کو معلوم بھی ہے تفتیش کس چڑیا کا نام ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ اگر علی رضا کے اہل خانہ ہم سے تعاون کریں تو تفتیش مکمل کر لیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ پولیس کو جو کام سونپا گیا ہے وہ نہیں کرتے کچھ اور کرنے لگ گئے ہیں، کس قدر ناانصافی کا کاروبار چلا رکھا ہے، ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو ملزم ہمارے پاس آتا ہے بری ہو جاتا ہے کیونکہ تفتیش نہیں ٹھیک ہوئی ہوتی۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے 8 سال سے لاپتہ علی رضا کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ شہری کے اغوا میں ملوث کرداروں کو سامنے لایا جائے، علی رضا کی بازیابی میں کسی سیکیورٹی ایجنسی کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 4 لاپتا افراد کی بازیابی پر ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے اور بازیاب ہونے والے چاروں افراد عدالت میں موجود ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے بازیاب شہری سے استفسار کیا کہ آپ کو کس نے اغوا کیا تھا؟ جس پر شہری نے کہا کہ اغوا کاروں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے شناخت نہیں کر سکتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بازیاب شہری خود اپنے گھر واپس آئے، پولیس نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی، بازیاب شہری خوف کی وجہ سے اغوا کاروں کے نام نہیں بتا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بازیاب شہری کہتے ہیں پولیس کو اغوا کاروں کے نام بتا دیے تو ایک بار زندہ واپس آگئے دوبارہ نہیں آسکیں گے، بازیاب شہریوں کو ریاستی مشینری پر بھروسہ ہی نہیں۔

بازیاب شخص نے کہا کہ اغواکاروں نے 3 گھنٹے گاڑی میں گھمانے کے بعد ایک جگہ چھوڑ دیا جہاں سے لفٹ لے کر گھر آئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 3 گھنٹے غائب رہنا کون سی جبری گمشدگی ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں تین گھنٹے گھما پھرا کر آپ کو چھوڑ گئے۔

جس پر بازیاب ہونے والے شہری نے بتایا کہ ہم 3 سال سے زائد عرصہ گمشدہ رہے، اغوا کاروں نے چھوڑتے وقت گاڑی میں بے وجہ گھمایا۔

چیف جسٹس نے آئی جی بلوچستان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی صاحب یہ آپ کے صوبے میں کیا ہو رہا ہے؟ تین سال تک اغوا رہنے والوں سے آپ اغوا کاروں کی شناخت نہیں کرا سکے۔

سماعت میں ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ نادرا، آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ کے معاملے پر شناخت کے لیے ضرورت سے زیادہ دستاویزات مانگتا ہے۔

جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں 1979 کے بعد آنے والے مہاجرین کے لیے شناخت کرانا ضروری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سرکاری ملازم عوام کے ملازم ہوتے ہیں، یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹا ہے، سیکریٹری داخلہ کو بلائیں، نادرا کے معاملے پر جواب دیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ ہزارہ برادری کے بازیاب 4 افراد کے اغوا میں ملوث کرداروں کو پکڑا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق سخت ایکشن لیا جائے۔

پاسپورٹ کا حصول ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، کوائف پورے ہیں تو پاسپورٹ کا اجرا کیا جائے، ہزارہ برادری کو پاسپورٹ کے حصول میں درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

عدالت نے مزید حکم دیا کہ بلوچستان حکومت شر پسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے، زبان زد عام ہے کہ بلوچستان میں قانون کو توڑنے والے عناصر موجود ہیں، بلوچستان اور کوئٹہ شہر میں ہر برادری کو تحفظ یقینی بنایا جائے، بعدازاں کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Back to top button