پٹرولیم مصنوعات میں 10 روپے مزید اضافے کا امکان
ستمبر کے مہینے میں عوام پر دو مرتبہ پٹرول بم گرانے والی کپتان حکومت نے اب ایک مرتبہ پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے اضافے کا فیصلہ کر لیا یے جسکا اعلان یکم نومبر کو کر دیا جسے گا۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ جون 2021 سے اب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 8 مرتبہ مہنگی کی ہیں۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ حکومت یکم نومبر کو پٹرول کی قیمت میں 5 سے 6 روپے مزید اضافہ کرنے جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گذشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اگلے اضافے کے بارے میں سوچ سوچ کر ہی اکثر افراد کو ہول اٹھ رہے ہیں۔ اب گاڑیاں چلانے والے پیٹرول اور ڈیزل بھرواتے وقت اپنی جیبوں کو بھی دیکھتے ہیں اور مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان پورے مہینے کے بجٹ کو خراب کرنے کے لیے کافی یے۔ دوسری جانب پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرکے ملکی معیشت چلانے والی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی صارفین کو ’ریلیف‘ دے رہی ہے۔
اگر پٹرول۔کی قیمت میں حالیہ اضافے سے متعلق جاری ہونے والے حکومتی اعلامیے پر غور کریں تو اس میں وزارت خزانہ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ‘حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کا سامنا کیا اور صارفین کے لیے ‘زیادہ سے زیادہ ریلیف’ فراہم کرنے کی کوشش کی۔’ تاہم حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اسکے نتیجے میں بڑھتی مہنگائی پر پوری قوم سراپا احتجاج ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور وہ پٹرول مزید مہنگا کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
دوستی جانب پیٹرول پمپس مالکان نے پٹرول کی قیمت بڑھانے کے ساتھ اپنی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے 5 نومبر کو ہڑتال کا اعلان کر دیا یے۔ پٹرول پمپس مالکان ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمیشن میں اضافے کی یقین دہانی کراوائی گئی تھی لیکن حکومت نے کمیشن میں اضافے پر وعدہ خلافی کی اور کمیشن نہیں بڑھایا گیا۔پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کمیشن نہ بڑھا تو 5 نومبر کو ملک بھر میں پٹرول پمپس بند کر دیں گے۔
انکا کہنا ہے کہ کمیشن میں اضافے کے حوالے سے فیصلہ نہ ہوا تو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ دوسری جانب معلوم ہوا یے کہ یکم نومبر سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 9 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ہے ۔ اوگرا ذرائع کے مطابق یکم نومبر سے پیڑول کی قیمت میں 8 روپے روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے ،ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ساڑھے 9 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا ہے،مٹی کا بھی 7 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت ساڑھے 6 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان،اضافے کی وجہ روپے کی قدر میں کمی ڈالر کی قیمت میں اضافہ بتایا جارہا ہے ،عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہے۔ ذرائع کے مطابق اوگرا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی حتمی سمری 30 اکتوبر کو پیٹرولیم ڈویڑن کو ارسال کریگا،نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف حکومت نے ستمبر میں پٹرولیم کی قیمت میں 8.82 روپے تک اضافہ کیا تھا جسکے بعد پٹرول کی نئی قیمت 127 روپے 30 پیسے ہو گئی تھی۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا، ڈیزل کی قیمت 122 روپے 4 پیسے ہو چکی ہے۔ اُدھر لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد قیمت 99 روپے 51 پیسے قیمت ہو گئی تھی۔
مزید برآں مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے 2 پیسے بڑھا دی گئی تھی جس کے بعد نئی قیمت 99 روپے 31 پیسے ہو گئی تھی۔ اسی طرح حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام پر ایل پی جی بم گراتے ہوئے پچھلے ماہ فی کلو قیمت میں 29 روپے 10 پیسے کا اضافہ کر دیا تھا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی(اوگرا) کے مطابق ایل پی جی کا 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 343 روپے مہنگا کیا گیا تھا اور ایل پی جی کی نئی قیمت 203 روپے 69 پیسے فی کلو مقرر کردی گئی تھی۔
یاد رہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان میں گذشتہ 70 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ مہنگائی ہو چکی ہے۔ دوسری جانب اوگرا ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان سٹیٹ آئل، اوگرا حکام، وزارت خزانہ اور پیٹرولیم کے حکام ہر مہینے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، پاکستان کو ملنے والے تیل کی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں رد و بدل، ملک میں منگوائے گئے تیل کی تعداد، کھپت اور لاگت کا جائزہ لیکر ایک سمری تیار کرتے ہیں۔
اس سمری کو پیٹرولیم اینڈ فنانس ڈویژن بھیجا جاتا ہے۔ جس کے بعد وزارت خزانہ ان سفارشات کی روشنی میں ملکی خزانے میں خسارے یا اخراجات کا تعین، ٹیکسوں کی مد میں مختص رقم کا تعین کر کے اس سمری پر فی لیٹر قیمت طے کر کے وزیر اعظم کو بھیجتی ہے اور وزیر اعظم فی لیٹر پیٹرول کی قیمت کا حتمی فیصلہ کرنے کے بعد وزارت خزانہ کو نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیتےہیں۔
