پہلے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بات ہوتی، اب تو اسٹیٹ خود ایکٹر ہے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خدانخواستہ کسی جلسے میں کسی سیاسی شخصیت کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے اس لیے انہیں آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا فرض ہے حقائق سے آگاہ کرنا البتہ فیصلہ انہیں خود کرنا ہے ہم انہیں اپنے فیصلے کا پابند نہیں کررہے، انہوں نے کہا اس وقت بھارت کے پاکستان سے متعلق منصوبہ بندی ان کے علم میں ہونی چاہیئے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کو بھی مدِ نظر رکھا جائے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پہلے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی بات ہوتی اب تو اسٹیٹ خود ایکٹر ہے، اس سے زیادہ سنجیدہ مسئلہ کیا ہوسکتا ہے جبکہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، لہٰذ دنیا کو بھارت کے ان ارداوں، گرینڈ ڈیزائن کا نوٹس لینا چاہیئے۔ افغانستان کے دورے کے حوالے سے بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں وزیراعظم عمران خان کابل جائیں گے اور مختلف معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ اجمل پہاڑی جیسے دہشت گردوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ معلومات ہوتی ہیں لیکن معلومات کو اکٹھا کر کے ایک تصویر کی شکل میں واضح کر کے پاکستان نے مناسب سمجھا کہ چونکہ ان کے ارادے سامنے آگئے ہیں اس لیے اس بات کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ ہم پہلے بات نہیں کررہے تھے ہم سفارت سطح پر بات کررہے تھے تاہم شواہد کو اکٹھا کرنے کے بعد جب ہمیں یقین ہوگیا کہ ہمارے پاس موجود شواہد واضح اور ٹھوس ہیں اور اسکروٹنی کے معیار پر اتر سکتے ہیں اس وقت انہیں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپوزیشن کے جلسوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر میں بات کروں گا تو اسے سیاسی رنگ دیا جائے گا کہا جائے گا کہ یہ گھبرا گئے لیکن ہم دیانت داری سے سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اسے قوم کے سامنے رکھنا ہمارا فرض تھا۔ اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ بھی قوم کا حصہ ہیں ان کی حفاظت بھی ہمیں مطلوب ہے خدانخواستہ کسی جلسے میں کسی سیاسی شخصیت پر ایسا نا خوشگوار واقعہ پیش آجاتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پر حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے، وزیر خارجہ نے کہا کہ اس لیے انہیں آگاہ کرنا اور حقائق ان کے سامنے رکھنا ہمارا فرض ہے، فیصلہ انہیں کرنا ہے، ہم انہیں اپنے فیصلے کا پابند نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں اپوزیشن رہنما لاک ڈاؤن کے مطالبات کرتے تھے، ہم نے کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی لیکن اب جو مثبت شرح کم ہوگئی تھی وہ دوبارہ بڑھنا شروع ہوگیا ہے خاص کر ملتان میں بہت تیزی سے مثبت شرح بڑھ رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملک کے 11 بڑے شہروں میں ملتان اور حیدرآباد ہاٹ اسپاٹ کے لحاظ سے پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں اس لیے ملتان کے شہریوں کو بھی احتیاط برتنی چاہیئے اور اپوزیشن کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ جہاں حکومت کی ذمہ داریاں ہیں کیا ان کی نہیں ہیں اس لیے انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button