پیرس میں حملہ کرنے والا پاکستانی تحریک لبیک سے متاثر نکلا


فرانس میں حالیہ دنوں ایک دہشت گرد حملے میں تحریک لبیک سے وابستہ ایک پاکستانی کی گرفتاری کے بعد یورپی یونین نے ویزا فراڈ کے حوالے سے پاکستان کو ایک ’انتہائی خطرناک‘ ملک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے غیر ملکی فنڈنگ بند ہو سکتی ہے اور ملک شدید مالی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق یورپی یونین کا یہ مطالبہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب فرانس کے وفاقی دارالحکومت پیرس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں اور 25 ستمبر کو چارلی ایبڈو کے دفاتر کے باہر دو افراد ہلاک ہوگے۔ اس واقعے میں ایک ایسے پاکستانی شخص کے ملوث ہونے کی اطلاع ہے جو غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا اور جعلی دستاویزات اور پاسپورٹ کے ذریعے وہاں کی شہریت حاصل کی۔ چنانچہ اب یورپی پارلیمان کی رکن ڈومینیک بِلڈے نے الزام عائد کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ایسا ملک قرات دے دیا ہے جو کہ نا صرف یورپی یونین کے پاسپورٹس کی فروخت میں ملوث ہے بلکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں شامل افراد کو ویزے بھی جاری کرتا ہے۔
یورپی پارلیمان میں دیے گئے بیان میں بِلڈے نے زور دے کر کہا ہے کہ ’شینجن ویزا رپورٹس‘ کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ جعلی پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات کے حوالے سے پاکستان سب ملکوں سے سے آگے ہے۔‘ بِلڈے نے اپنے بیان میں کہا: ’کیا ہمیں قبرص کے گولڈن ویزوں پر حیران ہونا چاہیے کیونکہ پاسپورٹ یا رہائش گاہ کے متعلق غلط بیانی صرف مذموم ذرائع کے لیے استعمال کی جاتی ہے؟ ہم نے دیکھا ہے کہ جعلی پاسپورٹ اور جعلی دستاویزات کے معاملے میں پاکستان دوسری ممالک کے مقابلے میں سر فہرست ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کو 2014 سے اب تک چار ارب یورو کی امداد دی گئی ہے جس کے باوجود نتائج افسوسناک ہیں۔‘
پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یورپین یونین کی اہم رکن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کچھ ایسی ریاستوں اور لوگوں کی مدد کر رہے ہیں جو اسلام پسند دہشت گردی کی حمایت بھی کرتے ہیں۔‘ یعنی یورپین یونین نے بالواسطہ پاکستان پر جہادیوں کی حمایت جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کر دیا۔ یاد رہے کے اس سے پہلے ایف اے ٹی ایف نے بھی پاکستان کو اسی الزام کی وجہ سے گرے لسٹ سے نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری طرف یورپین یونین کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی اور کوئی بھی سرکاری یا حکومتی عہدیدار یورپی یونین کے الزامات کا جواب دینے کو تیار نہیں۔ یورپی یونین کے ممالک کے ویزوں کے حصول کی رہنما ویب سائٹ شینجن ویزا انفو ڈاٹ کام کے مطابق یورپی یونین والوں نے یہ پاکستان مخالف بیان فرانس کے دارالحکومت میں ہونے والے حملوں اور خاص طور پر 25 ستمبر کو چارلی ایبڈو کے سابق دفاتر کے باہر دو افراد کی ہلاکت کے تناظر میں دیا ہے۔ اس واقعے میں ایک ایسے پاکستانی شخص کے ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں جو غیر قانونی طور پر فرانس پہنچا اور جعلی دستاویزات کے ذریعے وہاں کی شہریت حاصل کی۔ اس شخص نے مبینہ طور پر امیگریشن حکام کے سامنے اپنی عمر غلط بتائی اور خود کو نابالغ ظاہر کیا۔
ذرائع کے مطابق فرانسیسی حکام نے منڈی بہاؤالدین پنجاب سے تعلق رکھنے والے مرکزی ملزم ظہیر حسن محمود پر ‘اقدام دہشت گردی‘ کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ حکومتِ فرانس نے پیرس حملے کو ‘اسلامی انتہاپسندی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں ملزم نے گوشت کاٹنے والے آلے چاپڑ سے لوگوں پر حملہ کیا۔ فرانسیسی حکام کے مطابق حملہ آور نے پہلے انہیں اپنا نام حسن علی اور عمر اٹھارہ سال بتائی تھی لیکن اس کے پاسپورٹ کے مطابق اس کا اصل نام ظہیر حسن محمود اور عمر پچیس سال ہے۔
فرانس کے انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر ژوں فراں سوئے ریکاخ کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے قریبی جاننے والوں سے پتہ چلا ہے کہ وہ ناموسِ رسالت پر پاکستان کی تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے جلسوں اور تقاریر کی ویڈیوز دیکھ کر متاثر ہوا۔ فرانسیسی حکام کے مطابق ملزم نے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا۔ تین منٹ کی اس ویڈیو میں ملزم نے اردو میں بات کرتے ہوئےکہا کہ وہ خاکوں کی اشاعت پر ‘مزاحمت‘ کرنے جا رہا ہے۔ اس ویڈیو میں ملزم نے اپنا یہ عمل ”تمام علمائے سنت اور بالخصوص اپنے پیر و مرشد الیاس قادری‘‘ کی نذر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
پاکستان میں ناقدین کا الزام ہے کہ پچھلے چند برسوں میں ٹی ایل پی کو سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک تقسیم کرنے کے لیے  متعارف کرایا گیا۔ سیاسی جماعتوں کے بقول اس پارٹی کو ریاستی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق حملہ آور شارلی ایبدو کے دفتر میں داخل ہو کر لوگوں کو قتل کرنا چاہتا تھا تاہم اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ میگزین کا دفتر کافی عرصہ پہلے وہاں سے منتقل ہو چکا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق وہ میگزین کے سابقہ دفتر کے باہر یہ سمجھ کر لوگوں پر حملہ آور ہوا کہ شاید وہ شارلی ایبدوکے لیے کام کرتے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ واردات سے قبل ظہیر حسن پولیس یا انٹیلیجنس حکام کی نظروں میں نہیں تھا اور نہ ہی اس سے پہلے اس کے خلاف مذہبی شدت پسندی میں ملوث ہونے کی کوئی شکایت تھی۔
چنانچہ اس واقعہ کے بعد یورپی پارلیمان کے کئی اراکین جن میں فُلوِیو مارٹوشیئلو، ریزارڈ زارنیکی اور جیانا گارسیا شامل ہیں، نے بھی فرانسیسی حکومت اور یورپی یونین سے تحریری طور پر ایک مشترکہ خط میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مشترکہ خط فرانس کے صدر ایمینوئل میکخوان، یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کے علاوہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈی لیین کو بھی بھیجا گیا تھا۔ خط کے متن میں لکھا گیا تھا کہ ہم لوگ فرانسیسی حکومت اور یورپی یونین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بلاجواز دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف پابندیاں متعارف کروائے۔‘
اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرانس، یورپ اور دنیا کے باقی ممالک مزید بے گناہ متاثرین کے قتل کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی انھیں دہشت گردی کے خطرات سے خوفزدہ رہنا چاہیے۔ خط میں پارلیمنٹ کے ممبران کی جانب سے حیران کن طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ 14 اگست 1947 میں قیام کے بعد پاکستان، جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہا جاتا ہے، نے ’دنیا پر انگنت مظالم ڈھائے ہیں۔‘
شینجن ویزا انفو ڈاٹ کام کے مطابق نام نہاد شہریت کے ذریعہ سرمایہ کاری سکیمز، جسے یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک کے ذریعے چلایا جاتا ہے، پر اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل افراد کو فروخت کی جاتی ہیں۔ لہٰذا یورپی یونین کمیشن ایسی سکیمیں چلانے والے ممالک سے انھیں مستقل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہتا ہے کیونکہ ان سکیموں کے ذریعے ایسے افراد بھی یورپی ممالک کی شہریت دے لیتے ہیں جن کا ایجنڈا دہشت گردی ہوتا ہے۔ ایسی سکیموں میں گولڈن ویزا سکیم کے ذریعے درخواست گزار سرمایہ کاری کرنے کی شرط پر یورپی ممالک میں شہریت خریدتے ہیں۔ لہذا اس سلسلے کو بھی بند کیا جانا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button