پینڈورا میں حکومتی افراد کے خلاف ایکشن کیوں نہیں ہو گا؟

پنڈورا پیپرز لیکس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آفشور کمپنیاں رکھنے والے تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کے اعلان کے باوجود اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ حکومتی افراد اس مرتبہ بھی صاف بچ جائیں گے چونکہ ان کے بااثر شخصیات سے معاملات پہلے سے طے ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں پانامہ پیپرز جاری ہونے کے بعد تحریک انصاف نے انہیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی بنیاد بنایا تھا۔ پینڈورا پیپرز بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں تاہم ان کا بنیادی ہدف پی ٹی آئی کی حکومت میں شامل عمران خان کے ساتھی وزرا ہیں۔ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں آئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن ایسا ہونا تقریبا ناممکن نظر آتا ہے۔ صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے اقتدار سے باہر موجود بااثر افراد کے ساتھ معاملات طے ہیں لہازا صرف لفظی گولہ باری ہوگی اور کرپٹ عناصر اس مرتبہ بھی صاف بچ نکلیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صاحب اقتدار افراد کا احتساب کبھی نہیں ہوا، چنانچہ اس مرتبہ بھی کچھ مختلف نہیں ہونے والا اور اگر پنڈورا پیپرز میں کسی کا احتساب ہوا تو اس کا تعلق ماضی کی طرح اب بھی اپوزیشن سے ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں احتساب کو پہلی مرتبہ پری وینشن آف کرپشن ایکٹ، 1947ء کی صورت میں لاگو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1959 میں ایوب خان دور میں بھی احتساب کا ڈنڈا گھمایا گیا اور کلاس ون، کلاس ٹو اور کلاس تھری کے 95 ہزار سرکاری ملازمین پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے۔ کلاس ون کے 2 ہزار 800 ملازمین میں سے صرف 2 فیصد، کلاس ٹو کے ساڑھے 5 ہزار ملازمین میں سے صرف ایک فیصد اور کلاس تھری کے 87 ہزار ملازمین میں سے صرف 55 افراد کو سزا سنائی گئی۔ لہازا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی فہرست میں پاکستان کبھی بھی ابتدائی 20، 50 یا 100 ممالک میں شامل نہیں ہوا اور نہ ہی شاید کبھی شامل ہوسکے گا۔ آخری مرتبہ اس فہرست میں 180 ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 124 تھا جو یہاں کے تباہ حال نظام کا عکاس ہے۔
یاد رہے کہ پانامہ اور پینڈورا پیپرز انٹرنیشنل کنسورشئیم آف انویسٹیگیٹو جرنلسٹ یا آئی سی آئی جے کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک باہمی تعاون کا گروہ ہے جو آف شور مالی معاملات پر کام کرتا ہے۔ 2017ء میں جاری ہونے والے پانامہ پیپرز 80 ممالک کے 400 سے زائد صحافیوں کی محنت کا نتیجہ تھے۔ ان کے درمیان رابطے کا کام آئی سی آئی جے اور اس کے شراکت دار دی مک کلیچی واشنگٹن بیورو اور دی میامی ہیرالڈ نے کیا تھا۔ ان صحافیوں کی جانب سے پانامہ پیپرز میں ’50 سے زائد ممالک میں 140 سیاستدانوں سے منسوب آف شور کمپنیوں کو سامنے لایا گیا تھا‘ جس کے نتیجے میں انہیں اس سال پیولٹزر انعام بھی دیا گیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے اپنا دائرہ کار مزید وسیع کردیا تھا۔
حالیہ دنوں میں منظرِعام پر آنے والے پینڈورا پیپرز میں 117 ممالک کے 600 سے زائد صحافیوں نے حصہ لیا تھا۔اس مشکوک دولت کے حوالے سے معلومات ’ٹرائیڈنٹ ٹرسٹ جیسی 14 آف شور قانونی فرم اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ دستاویزات سے حاصل کی گئی۔ ٹرائیڈنٹ ٹرسٹ آف شور خدمات فراہم کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے اداروں میں سے ایک ہے جس کے دفاتر برٹش ورجن آئی لینڈ ، ماریشئیس، سنگاپور اور رازداری رکھنے والی دیگر جگہوں بشمول امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں ہیں۔ان پیپرز میں سب سے نمایاں نام روسی صدر پیوٹن کے قریب ترین کاروباری افراد، چیک اور وینزویلن افراد اور کینیا کے بانی جومو کین یاتا کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے جو کینیا کے صدر بھی ہیں۔
پانامہ اور پینڈورا پیپرز نے پہلے سے ہی بدنام لوگوں کو مزید بدنام کردیا ہے اور آف شور ہیونز کے بیان کردہ تقدس کو بھی ختم کردیا ہے۔ جن صارفین نے رازداری خریدی تھی ان کے خریدے گئے افراد نے ہی انہیں دھوکا دیا۔ جس ٹیکنالوجی نے ان کے جرائم کو چھپانا تھا اس نے ہی انہیں بے نقاب کردیا۔ تاہم ان سب چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کرپٹ لوگ ہمیشہ نظام میں کوئی نہ کوئی نیا سقم ڈھونڈ لیتے ہیں جو منحرف لوگوں نے ہی حکومتوں کے لیے تشکیل دیے ہوتے ہیں۔
