پیپلزپارٹی گورنر پنجاب کی نامزدگی میں پریشانی کا شکار کیوں؟

8 فروری کو ملک بھر میں ہونے والےحالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ’ن‘ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت میاں شہباز شریف وزیراعظم جبکہ آصف علی زرداری کا نام صدر کیلئے فائنل کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی پنجاب میں گورنر کا عہدہ بھی پیپلز پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق نون لیگ کے سابق وزیر انجینئر محمد بلیغ الرحمان، پنجاب کے گورنر کے عہدے سے جلد ہی استعفیٰدے دیں گے۔ وہ اس کیلئے تیار ہوچکے ہیں اور اپنے امور سمیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کو بھی آگاہ کردیا ہے کہ وہ گورنر ہائوس سے بہاولپور جارہے ہیں۔ اس کی تاریخ انہوں نے تاحال کسی کو نہیں بتائی۔ تاہم یہ طے ہوچکا تھا کہ وہ صدارتی الیکشن تک اس منصب پر قائم رہیں گے تاہم عیدالفطر کی نماز وہ بحیثیت گورنر، لاہور کی بادشاہی مسجد میں ادا نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنے آبائی شہر میں ہوں گے۔ جبکہ نئے گورنر پنجاب کا تقرر آصف علی زرداری بطور صدر کریں گے۔ صدارتی الیکشن کیلئے گورنر محمد بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بھی نو مارچ کو صبح دس بجے طلب کر رکھا ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی طرف سے گورنر کیلئے تاحال نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم سابق گورنر مخدوم احمد محمود کا نام پنجاب کے نئے گورنر کے طور پر لیا جارہا ہے اور ان کے ساتھ ساتھ سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری قمر زمان کائرہ کا نام بھی گورنر پنجاب کیلئے زیر گردش ہے۔ پی پی کے حلقوں میں بحث جاری ہے کہ دونوں میں سے بہتر کون ہوسکتا ہے اور کون پارٹی فعال کرنے میں زیادہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے؟ تاہم بعض مبصرین کے مطابق پیپلزپارٹی قیادت ان دونوں رہنماؤں کے علاوہ بھی اپنے کسی دیرینہ رہنما کو گورنر پنجاب کیلئے نامزد کر سکتی ہے۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی کے حلقوں میں مخدوم احمد محمود کے بارے میں یہ دلیل پیش کی جا رہی ہے کہ حالیہ الیکشن میں جنوبی پنجاب سے پیپلز پارٹی کو نشستیں جتوانے میں انھوں نے اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی وجہ سے ہی جنوبی پنجاب میں پارٹی کا پارلیمانی وجود برقرار ہے۔ اس لئے اس کارکردگی اور طاقت کو سامنے رکھتے ہوئے میرٹ پر مخدوم احمد محمود کو گورنر ہونا چاہیے۔مزید یہ کہ اس فیصلے سے جنوبی پنجاب کی اقتدار میں نمائندگی بھی ہوجائے گی۔ جبکہ دوسری جانب مخدوم احمد محمود اور مخدوم یوسف رضا گیلانی کی قریبی رشتہ داری کے باعث یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جب سابق وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کا چیئرمین بنایا جارہا ہے تو جنوبی پنجاب کو ایک اہم عہدہ مل رہا ہے۔ یوں ایک ہی خاندان کو دوسرا بڑا آئینی عہدہ دینے کا جواز نہیں بنتا۔ بلکہ گورنر کیلئے وسطی پنجاب سے قمر زمان کائرہ بہترین انتخاب ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے ناقدین کا موقف ہے کہ مخدوم احمد محمود، نوابی انداز رکھتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے عام ووٹرز کے انداز سے عام آدمی سے میل جول نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ سینٹرل پنجاب میں پارٹی کو فعال بنانے کیلئے کوئی اہم کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔ ان کے مقابلے میں قمر زمان کائرہ عوامی ہیں اور پارٹی کی بحالی کیلئے زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

اس بحث کے برعکس جنوبی پناب کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ میرٹ پر مخدوم احمد محمود کو گورنر بنایا جانا چاہیے۔ پی پی کو گورنر کے منصب کی مدد سے فعال کرنے کے حوالے سے ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کسی منصب کے بغیر بھی فعال بنائی جاسکتی ہے۔ جبکہ سنیٹرل پنجاب کے رہنما، پارٹی کی بحالی کی طرف قدم ہی نہیں اٹھاتے اور وہاں سے پارٹی بتدریج ختم ہوئی ہے۔اس ضمن میں پی پی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی چودھری منظور حسین کا کہنا تھا کہ، پیپلز پارٹی کی بحالی کیلئے بنیادی نکات میں اہم نکتہ یہ ہے کہ پارٹی اپنے بنیادی نصب العین پر عملی اقدامات اٹھاکر اور انہیں عوام میں ثابت کرکے دکھائے۔ یہ اقدامات سندھ میں بتدریج اٹھائے جارہے ہیں۔ لیکن وہ کسی کودکھائی نہیں دیتے۔ اس کی وجہ ایک خاص سوچ اور مائنڈ سیٹ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تعلیم سب سے بنیادی مسئلہ ہے۔ کوئی سرکاری ملازم یہاں تک کہ افسر بھی اپنے بچوں کو سرکاری یونیورسٹی میں تعلیم نہیں دلاسکتا۔ اگر پیپلز پارٹی سندھ میں تعلیم اور صحت فری کردے تو اس کا پنجاب میں بھی اثر ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ سندھ میں جو کام پیپلز پارٹی نے کیے ہیں۔ انہیں مثبت کے بجائے منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔جبکہ صرف گمبٹ سے علاج کروانے والوں میں ایک اندازے کے مطابق پنجاب سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد ستاسی ہزار ہے۔ اگر انہیں پنجاب میں صحت کی سہولت مفت اور آسانی سے مل رہی ہوتی تو وہ گمبٹ کیوں جاتے؟ کیا پنجاب میں اتنی تعداد میں سندھ کے عوام نے علاج کرایا ہے؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ پھر بھی پنجاب مں تنقید پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر ہی ہوتی ہے۔

Back to top button