PTI کی مخصوص سیٹوں کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کرے گی؟

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سنی اتحاد کونسل کے کوٹے کی 23 مخصوص نشستوں میں سے 14 نشستیں ن لیگ، 6 پیپلز پارٹی جبکہ 3 نشستیں جمیعت علماء اسلام کو دے دی گئی ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تو کیا ہو گا؟سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن پاکستان کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اگر پشاور ہائی کورٹ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے تو مخصوص نشستوں پر کوئی بھی حلف نہیں اٹھا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سُنی اتحاد کونسل قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں درجنوں نشستوں سے محروم ہو گئی ہے جس کے بعد یہ تمام نشتیں عام انتخابات میں جیتنے والی دیگر سیاسی جماعتوں میں تقسیم کر دی گئی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سب سے دلچسپ صورتحال صوبہ خیبرپختونخوا میں پیدا ہوئی ہے، جہاں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے سُنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی تھی تاکہ صوبے میں موجود 26 مخصوص نشستوں کا بڑا حصہ انھیں مل سکے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ 90 کامیاب ممبران صوبائی اسمبلی کے باوجود سُنی اتحاد کونسل کے ہاتھ تو کوئی نشست نہ آئی تاہم بہت سے دیگر ایسی سیاسی جماعتوں کی چاندی ہو گئی کیونکہ ان کے حصے میں آنے والی مخصوص نشستوں کی تعداد اُن کی عام انتخابات میں جیتی ہوئی نشستوں سے بھی زیادہ ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے بڑا فائدہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ہوا۔ جے یو آئی (ف) کو صوبہ خیبرپختونخوا سے سات جنرل نشستوں پر کامیابی ملی تھی اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق انھیں 10 مخصوص نشستیں دی گئی ہیں جس کے بعد اس جماعت کی مجموعی سیٹوں کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔اگر بات کریں پاکستان مُسلم لیگ ن کی تو انھوں نے صوبہ خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں 6 نشستیں جیتیں اور الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق انھیں اب آٹھ مخصوص نشستیں دے دی گئیں ہیں جس کے بعد ن لیگ کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کی چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور الیکشن کمیشن کے مطابق انھیں چھ مخصوص نشستیں الاٹ کر دی گئی ہیں۔صوبہ خیبرپختونخوا سے ایک، ایک سیٹ جیتنے والی عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینزکے حصے میں بھی ایک، ایک مخصوص نشست آئی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے پیر کو تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کے حوالے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ سُنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں اور اب تمام تر مخصوص نشستیں ایوان میں موجود دیگر سیاسی جماعتوں میں بانٹ دی جائیں گی۔
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کا صدر پاکستان اور سینیٹ کے انتخابات پر کیا اثر پڑے گا؟مبصرین کے مطابق صدارتی اور سینیٹ کے انتخابات میں اس جماعت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جس کے پاس قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ صدر اور سینیٹرز کا انتخاب قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اسمبلی کرتے ہیں۔تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہ ملنے سے نہ صرف اس کے صدارتی انتخابات میں ووٹ کم ہو جائیں گے بلکہ پی ٹی آئی کے کم ووٹ ہونے کی وجہ سے اس کو ملنے والے سینیٹرز کی تعداد بھی کم ہو جائے گی۔یوں پارلیمان کے ایوان بالا میں تحریک انصاف کا حجم سکڑ جائے گا۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص سیٹیں نہ ملنے کی اصل۔وجہ کیا ہے؟ کیا پی ٹی آئی اس صورتحال کی خود بھی ذمہ دار ہے؟الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک انصاف نے شمولیت کیلئے سنی اتحاد کونسل کا انتخاب کیا ہے، جس کے سربراہ نے خود بھی عام انتخابات میں اپنی جماعت کے انتخابی نشان گھوڑے کا انتخاب نہیں کیا اور آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے کسی سیاسی جماعت کا پارلیمانی جماعت ہونا لازمی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے سنی اتحاد کونسل کا انتخاب کر کے کیا کوئی غلطی کی ہے اور خود اس صورتحال کی ذمہ دار ہے؟تحریک انصاف کے ایک رہنما نے بتایا کہ قانون کے مطابق کسی بھی جماعت کا رجسٹرڈ ہونا شرط ہے اور اس کا پارلیمانی پارٹی ہونا قانونی شرط نہیں ہے۔ان کے مطابق جہاں تک بات ترجیحی فہرست کی ہے تو اس فہرست کو جمع کرانا محض ایک پریکٹس ہے قانون نہیں ہے۔ان کے مطابق جب بلے کے انتخابی نشان سے متعلق سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی تھی تو یہ سوال سامنے آیا تھا کہ اگر انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیے گئے تو پھر تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم ہو جائے گی۔ اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو پھر یہاں پیٹیشن دائر کر دی جائے۔تحریک انصاف کے مطابق وہ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف اب سپریم کورٹ کا رخ کرے گی۔
