پی ٹی آئی کا فوج کے بعد اب عدلیہ کے سیاسی ہونے کا مطالبہ

پاکستان میں انتخابات کب ہوں گے؟ کیا پنجاب میں الیکشن پہلے ہو گا یا پھر پورے ملک میں انتخابات ایک ساتھ ہوں گے؟پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کی وجہ بننے والا یہ سوال سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ایک جانب عدالتی حکم اور تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ پنجاب میں فوری الیکشن ہوں تو دوسری جانب وفاقی اتحادی حکومت کا پارلیمان کے ذریعے واضح انکار الیکشن کے انعقاد کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ایسے میں پہلے جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق اور بعد میں سابق صدر آصف زرداری کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے اس بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش ایک تیسرے راستے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ تاہم تحریک انصاف نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ضمانت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یعنی پی ٹی آئی فوج کو سیاست میں شامل کر کے داغدار کرنے کے بعد اب عدلیہ کو سیاسی کرنے کی خواہاں ہے اور ماضی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف اب عدلیہ میں سہارے تلاش کر رہی ہے تاکہ اس کی ایوان اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

سراج الحق عمران خان اور وزیر اعظم شہباز شریف دونوں سے ہی ملاقات کر چکے ہیں تاہم انٹرویوز میں عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کا محور انتخابات کا 90 دن میں ہونا ہے جبکہ حکومتی اتحاد بالخصوص مسلم لیگ ن بضد ہیں کہ الیکشن ایک ساتھ اکتوبر میں ہوں۔حکومت کے اہم اتحادی آصف زرداری بھی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالنے کے حامی ہیں اور گذشتہ چند دنوں کے دوران پیپلز پارٹی کا وفد مختلف جماعتوں سے مل چکا ہے۔اب تک مذاکرات کا یہ سلسلہ کسی نتیجہ خیز حل کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کی وجہ ماہرین کے مطابق خود پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں میں اختلاف رائے کا موجود ہونا ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مذاکرات کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے اور ان کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کا حصہ رہے ہیں۔مذاکرات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی ابتدائی مرحلہ ہے جس میں سربراہان سے ہماری ملاقاتیں ہوئیں جن کے نتیجے میں کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔‘ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اس وقت انتخابات سب ہی چاہتے ہیں لیکن اتحادی حکومت کا موقف ہے کہ الیکشن اکتوبر میں ہوں۔ عمران خان کو یہ تحفظات ہیں کہ یہ الیکشن نہیں کروانا چاہتے۔‘ایسے میں درمیانی راستہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس پر بات کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کچھ قدم عمران خان آگے بڑھیں اور کچھ اتحادی حکومت اور انتخابات کی کسی ایسی تاریخ پر اتفاق رائے ہو جائے جس پر دونوں کا اتفاق ہو۔‘

لیکن کیا عمران خان لچک دکھانے کو تیار ہیں؟ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ’کچھ لچک تو موجود ہے لیکن اس وقت سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی انتظار ہے۔‘تاہم’ان مزاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے اعتماد کی فضا قائم کرنا ہو گی۔‘

دوسری جانب جب تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری سے جب اس بارے میں بات کی گئی کہ آیا لیاقت بلوچ کے دعوے کے مطابق عمران خان اور پی ٹی آئی الیکشن کے معاملے پر لچک دکھا سکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی مذاکرات آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتے اور سب کچھ آئین کے تحت ہی ہونا ہے اور آئین کہتا ہے کہ الیکشن 90 دن میں ہونے ہیں۔‘فواد چوہدری نے سوال اٹھایا کہ ’کیا ہم کسی آئینی ترمیم کے لیے تیار ہیں؟‘اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اتحادی حکومت اس معاملے پر اٹارنی جنرل کے ذریعے چیف جسٹس کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کر دیں تو جو فیصلہ چیف جسٹس کریں گے وہ ہمیں قبول ہو گا۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کے اس عمل کی گارنٹی چیف جسٹس سپریم کورٹ دیں تو فواد چوہدری نے کہا کہ ’بالکل۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فیصلہ نواز شریف اور آصف زرداری نے کرنا ہے، آج کر لیں اور اٹارنی جنرل کے ذریعے عدالت کو بتا دیں۔‘تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومت نے مذاکرات پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔ ’ہم تو کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ آ کر بیٹھے اور ہم سے بات کرے جس نے فیصلہ کرنا ہے۔‘

دوسری جانب صحافی مظہر عباس مذاکرات کی اس کوشش کو مثبت قرار دیتے ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ کسی ادارے کی مداخلت کے بغیر ہی مسئلہ حل ہو جائے تو بہتر ہو گا۔مظہر عباس نے کہا کہ ’کئی حلقوں کی جانب سے کوشش ہو رہی ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو جائے کیونکہ سب کو خدشہ ہے کہ بات چیت سے معاملات حل نہیں کیے گئے تو سب کا نقصان ہو گا۔‘جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا ان حلقوں میں اسٹیبلشمنٹ بھی شامل ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’کسی لیول پر ان کا بھی کردار ہے اگرچہ وہ نظر نہیں آ رہا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اس حد تک کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی راستہ نکالا جائے لیکن اس میں کامیابی کتنی ہوتی ہے وہ فریقین پر منحصر ہے کہ اگر وہ غیر مشروط مذاکرات میں بیٹھیں تو اچھی بات ہو گی، اگر نہیں بیٹھیں گے تو طے ہے کہ نقصان سب کو ہو گا۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ ’لگ رہا ہے کہ سیاست دان میچورٹی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’اگر جو فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے دیا، یہی فیصلہ 15 رکنی بنچ نے دیا ہوتا تو کسی کے پاس کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں طرف سیاسی موقف ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ دونوں کو ہی پیچھے ہٹنا پڑے گا اور اگر پیچھے نہیں ہٹیں گے تو مسئلہ بڑھے گا۔‘

صحافی حامد میر ان مزاکرات کے پیچھے اسٹیبلمنٹ کی بجائے آصف زرداری کا کردار دیکھتے ہیں۔تاہم ان کے مطابق اعتماد کا فقدان ان مزاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ ان کے مطابق گذشتہ سال کا واقعہ ہے۔’شہباز شریف اسمبلی توڑنے پر تیار ہو گئے تھے، انھوں نے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو نارض کیا لیکن پھر عمران خان نے ایک دن پہلے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا کہ یہ امپریشن ملےکہ ان کے دباو میں اسمبلی توڑی گئی۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت عمران خان الیکشن مانگتے ہیں لیکن ن لیگ اس پر تیار نہیں۔ پہلے جنرل باجوہ ضمانتی تھے، اب نئے آرمی چیف تو ضمانتی نہیں ہیں۔‘سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی جانب سے مزاکرات کے بیان پر چیف جسٹس کی جانب سے گنجائش نکالنے کی بات پر حامد میر نے کہا کہ ’اگر عدالت یہ کہہ رہی ہے تو یہ بھی سیاسی فیصلہ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’کوشش ہو رہی ہے کہ درمیانی تاریخ پر اتفاق ہو جائے لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان مانتے ہیں یا نہیں۔ کل کی ملاقات میں تو ن لیگ بھی نہیں مانی۔‘

Back to top button