پی ٹی آئی کے لیے پرویزالٰہی کو اعتماد کا ووٹ دلوانا مشن امپاسیبل

سپریم کورٹ کی مداخلت سے وزیراعلٰی پنجاب بننے والے اور ڈی نوٹیفائی ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی مداخلت سے اس عہدے پر بحال ہونے والے چوہدری پرویز الٰہی کو 11 جنوری سے پہلے اعتماد کا ووٹ دلوانا تحریک انصاف کے لیے مشن امپاسیبل بن گیا۔ مسلم لیگی قیادت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پرویزالٰہی پنجاب اسمبلی میں دو درجن سے زائد اراکین کی حمایت کھو چکے ہیں اور ان کا گھر جانا ٹھہر چکا ہے لہٰذا وہ جو مرضی کرلیں، 186 اراکین سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہیں گے۔ دوسری جانب پرویز الٰہی بھی اپنا مستقبل بھانپ چکے ہیں اور عمران خان کو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت کا خاتمہ ہوا تو اسکی ذمہ دار تحریک انصاف ہوگی کیونکہ قاف لیگ کے دس اراکین اسمبلی ان کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن پی ٹی آئی والے ان کا ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اب تک حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والی دو خواتین اراکین اسمبلی کھلے عام پرویزالٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔ خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی زہرا نقوی نے سب سے پہلے پرویز الہٰی کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے بعد مخصوص نشست پر ایم پی اے بننے والی مومنہ وحید نے بھی پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کر دیا۔ اب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا پرانا کارکن دل برداشتہ ہے، کیونکہ پرویز الٰہی صرف گجرات اور منڈی بہائوالدین میں ترقیاتی کام کروا رہے ہیں جوکہ ان کے اپنے حلقے ہیں۔ مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والی دو مزید خواتین اراکین اسمبلی بھی پرویزالٰہی کا ساتھ چھوڑنے جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گورنر پنجاب کی جانب سے حکمنامے کے باوجود اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا تھا لیکن لاہور ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے انہیں 11 جنوری تک بحال کردیا تھا۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پرویز الٰہی کو 9 جنوری کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلاکر اعتماد کا ووٹ دلوایا جائے۔ تحریک انصاف کے دعوے کے مطابق انہیں 187 ارکان کی حمایت حاصل ہے، لیکن اگر صرف زہرا نقوی اور مومنہ وحید ہی اپنے اعلان کے مطابق انہیں ووٹ نہ دیں تو پرویز الہٰی اعتماد کا ووٹ ہار جائیں گے۔ مسلم لیگی قیادت دعویٰ کر رہی ہے کہ 9 جنوری کے روز دو درجن سے زائد اراکین اسمبلی پرویز الٰہی کے خلاف جا سکتے ہیں۔ چنانچہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 11 جنوری سے پہلے صورت میں اعتماد کا ووٹ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور زمان پارک میں مسلسل اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ لیکن پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کا دعویٰ ہے کہ پرویزالٰہی کی وزارت اعلٰی خاتمے کی جانب گامزن ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے پی ڈی ایم قیادت کی جانب سے پرویز الٰہی کو سپیکر شپ کے عوض پی ڈی ایم اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ وزارت اعلی پر برقرار رہنے کے لئے مصر تھے چنانچہ ان سے مذاکرات کامیاب نہ ہو پائے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الہی کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے کا فیصلہ تو معطل کر دیا تھا لیکن آئینی طور پر ابہیں ہو صورت اعتماد کا ووٹ لینا ہو گا جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ممکن نظر نہیں آتا۔ دوسری جانب پرویز الہی اب بھی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی کے ساتھ اپنی امیدیں وابستہ کئے بیٹھے ہیں جن کے داماد ان کی کابینہ میں وزیر ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ پرویزالٰہی نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی کے داماد اور رکن پنجاب اسمبلی علی افضل ساہی کو باقاعدہ اپنا مرشد بنا لیا ہے۔ انہیں 11 جنوری تک کی عدالتی مہلت بھی مرشد نے دلوائی تھی جسکے بعد بھی ان کے وزارت اعلی پر رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ بھی مرشد نے ہی کرنا یے۔ پرویز الہی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوں گے نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن آج کل تخت پنجاب کی لڑائی میں پنجاب کے نئے مرشد کا بہت چرچا ہے۔ پہلی مرتبہ رکن پنجاب سمبلی بننے والے نوجوان علی افضل ساہی کو پنجاب میں مرشد کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے اور وہ بیک وقت زمان پارک اور ظہور الہیٰ پیلس میں مرشد کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ علی افضل ساہی جولائی 2022 کے ضمنی انتخابات میں پہلی مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی بنے ہیں۔ سیاست میں وہ بہت جونیئر ہیں لیکن بہت ہی مختصر عرصے میں انہوں نے بہت سارے سینیئرز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ علی افضل ساہی کو پنجاب میں سی اینڈ ڈبلیو کی وزارت دی گئی ہے۔ یہ ایک بڑی وزارت ہے جو بڑے سینیئرز کو ہی دی جاتی ہے لیکن علی افضل ساہی کو اپنے مرشد ہونے کی وجہ سے یہ وزارت ملی ہے۔ انہیں پنجاب میں ایک وزیر سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ وہ وزیر اعلیٰ سے کم نہیں ہیں۔ لیکن تحریک انصاف میں بھی ان کی حیثیت اس وقت کسی بھی بڑے لیڈر سے زیادہ ہے۔ مرشد علی افضل ساہی کو ہر مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے۔ وہ جب سیاسی میٹنگ میں آتے ہیں تو سب تعظیم میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی سفارش پر بڑے سے بڑا کام ہو جاتا ہے۔ افسر شاہی میں بھی مرشد کی بہت ذیادہ چلتی ہے۔ کوئی بیوروکریٹ ان کے کام کو انکار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے کام کو انکار ہو سکتا ہے لیکن مرشد کے کام سے انکار نہیں ہو سکتا۔ مرشد کی بات کو حرف آخر کی حیثیت حاصل ہے اور وہ نہ سننے کے عادی نہیں۔
