پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوط

پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور احمد پشتین کیخلاف درج کئے گئے چار مقدمات میں سے دو مقدمات پر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے بعدعدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان کی عدالت میں 7 فروری کے روزمنظور احمد پشتین کی جانب سے اسد عزیز ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھی پیش ہوئے۔ اس حوالے سے پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ دو مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر آج بحث ہوئی جس کے بعد جج نے فیصلہ محفوظ کر لیا اور توقع ہے کہ ان دو مقدمات پر فیصلہ 8 فروری کے روز سنا دیا جائے گا جبکہ مزید دو مقدمات پر ضمانت کی درخواست آئندہ ہفتے داخل کی جائے گی۔
یاد رہے کہ منظور پشتین پر ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس تھانے میں مختلف دفعات کے تحت 21 جنوری کو ایف آئی آر درج کی گئی تھی جس میں 16 ایم پی او، 123اے، 124 اے، 120 بی، 153 اے اور 506 کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ اس ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور احمد پشتین نے اپنی ایک تقریر میں ریاست کے خلاف توہین آمیز اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور مختلف قومیتوں کے درمیان نفرت اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ منظور پشتین کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ اور دیگر کارکن اور رہنما بھی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تھے۔ محسن داوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ منظور پشتین سے سنٹرل جیل میں انھوں نے ساتھیوں سمیت ملاقات کی ہے اور اس میں مختلف معاملات بارے تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہمراہ ان کے باقی ساتھی بھی تھے۔ حکومت سے مذاکرات کے ذریعے ہی اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور منظور پشتین نے بھی یہی کہا کہ انہیں مذاکرات سے انکار نہیں ہے لیکن ان مذاکرات کے لیے وہ اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔
یاد رہے چند روز پہلے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم کے قائدین کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے ۔منظور پشتین کو 27 جنوری کو رات گئے پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کر لیا گیا تھا تہکال پولیس کے اہلکار نے بتایا تھا کہ منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھا جس کے بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے ۔منظور پشتین کی ضمانت پر رہائی کے لیے پشاور کی عدالت میں درخواست دی گئی تھی لیکن عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم دیا تھا۔منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں سمیت دیگر ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے دوران پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ گرفتار افراد میں رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ شامل تھے جنھیں چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
