پی ڈی ایم کا لانگ مارچ، سوشل میڈیا پر نئی بحث

پی ڈی ایم کی جانب سے کراچی میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور سڑک کارروان کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر حکومتی اور کچھ صارفین نے لانگ مارچ کو سنجیدہ نہ لینے کا کہا جبکہ بعض ایسے صارفین بھی سامنے آئے جنہوں نے اپوزیشن کے اس فیصلے کو حکومت کے لیے سرپرائز قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں لانگ مارچ کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تاریخ بھی طے ہو چکی ہے۔
کچھ صارفین نے افغانستان اور ملک میں کرونا وبا کی صورت حال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ سوال اٹھائے ہیں کہ کیا اپوزیشن کا ان حالات میں لانگ مارچ کرنا درست ہے؟
سوشل میڈیا صارف سیف اعوان مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ ہوگا۔ٹوئٹر صارف نصیر احمد سوال کرتے ہیں کہ افغانستان اور کرونا وبا کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ کیا پی ڈی ایم کا ملک گیر جلسے جلوس یا اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا درست ہے؟
جلسے میں شہباز شریف کے بیان کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر صارف نعمان نوید لکھتے ہیں کہ شہباز شریف کی بات سے لگتا ہے کہ لانگ مارچ کی تاریخ کا فیصلہ ہو چکا ہے اور تاریخ بھی شاید فائنل ہو چکی مگر حکومت کو سرپرائز دینا چاہتے ہیں۔
لانگ مارچ کے حوالے سے ٹوئٹر ہینڈل طائر لاہوتی نے لکھا کہ لانگ مارچ کا اعلان نواز شریف کی واپسی کے ساتھ ہی ہو گا، یہ مارچ انقلاب پاکستان ثابت ہو گا کیوں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
