چلبلی ہانیہ عامر لاچار لڑکی کے کردار میں کیسے ڈھل گئیں؟

شوخ اور چنچل کردار کی حامل نوجوان اداکارہ ہانیہ عامر اپنے نئے ڈرامہ ’’میرے ہم سفر‘‘ میں انتہائی مجبور اور لاچار لڑکی کا کردار ادا کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا خوب منوانے میں کامیاب رہیں۔
یہ ہانیہ عامر اور فرحان سعید کی سٹار پاور ہی تھی جس کی وجہ سے لوگ اس ڈرامے سے بندھے رہے اور بعد میں ان دونوں کے شاندار کام کی وجہ سے یہ ڈرامہ مقبولیت کی بلندیوں تک بھی پہنچا۔ ہانیہ عامر نے ایک تازہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ یہ اُن کے لیے ایک مشکل کردار تھا، چیلنج یہی تھا کہ یہ وہ ڈرامہ نہ ہو کہ لوگ کہیں کہ ایسی کہانی تو ہم نے پہلے بھی دیکھی ہے، وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار انہوں نے یہ ڈرامہ کرنے سے منع بھی کیا لیکن پھر انھیں معلوم ہوا کہ فرحان سعید بھی اس میں کام کر رہے ہیں تو وہ یہ کردار کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔
اداکارہ کے مطابق میرا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ اپنے ہنر کے ذریعے لوگوں کو متاثر کروں اور خواتین کے مضبوط اور بااختیار کردار دکھاؤں اور یہ کردار تو میرے بس کی بات ہی نہیں تھی، یہ ایسا کردار نہیں تھا جسے میں فوراً ہی ہاں کر دیتی، گلوکار اور اداکار فرحان سعید نے اس ڈرامے میں ہالا کے شوہر حمزہ کا مرکزی کردار نبھایا ہے جو نہ صرف ہالا سے شادی اور محبت کرتے ہیں بلکہ انھیں گھر کے دیگر لوگوں کے ظلم و زیادتی سے بھی بچاتے ہیں۔ اس پورے ڈرامے میں حمزہ کا کردار ایک آئیڈیل ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہالا اور حمزہ کی جوڑی خواتین میں بے حد مقبول بھی ہوئی، ہانیہ کہتی ہیں کہ میں یہ نہیں کہوں گی کہ حمزہ کا کردار پرفیکٹ ہے لیکن وہ ایک سمجھدار انسان ہیں، وہ لوگوں کے جذبات اور حالات کو سمجھتے ہیں، ہالا سے بھی غلطیاں ہو رہی ہیں اور حمزہ سے بھی لیکن دیکھنے والوں کو جو چیز متاثر کر رہی ہے وہ یہ کہ اُن کی روح، ان کا مقصد اور ارادہ کتنا صاف ہے، ڈرامے کے ایک سین میں حمزہ ہالا پر ہاتھ اٹھا کر چیخ پڑتا ہے لیکن مارتا نہیں، یہ سین نشر کیے جانے پر بہت سے لوگوں نے کہا کہ کاش حمزہ ہاتھ بھی نہ اٹھاتا۔
مداحوں کی تنقید کے باوجود ہانیہ نے اس سین کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ ‘سکرپٹ میں تھپڑ مارنا تھا جو ہم نے نہیں کیا، ہم سب کا خیال تھا کہ اگر حمزہ ہالا کو تھپڑ مارتا ہے تو پھر حمزہ، واقعی حمزہ نہیں رہے گا، وہ ڈرامے میں بطور پرنس چارمنگ اور ذی فہم آواز نہیں رہے گا۔ اداکارہ کے مطابق سین میں حمزہ کی کزن ثمین اپنا ہاتھ کاٹ لیتی ہے، حمزہ کی ابھی شادی ہوئی ہے، اُس کی شرٹ پر خون لگا ہے، وہ ثمین کو اٹھا کر ہسپتال لے جاتا ہے۔ پھر جب وہ گھر واپس آتا ہے تو دُلہن کے جوڑے میں اُن کی بیوی کہتی ہے کہ مجھے طلاق دے دو، اُس موقع پر حمزہ کا ہالا سے ناراض ہونا بنتا تھا۔
ڈرامہ سیریل ’’میرے ہم سفر‘‘ میں ہالا سے زیادہ تائی شاہ جہاں یعنی صبا حمید کا کردار حاوی نظر آتا ہے جبکہ ہالا مکمل طور پر دوسرے کرداروں جیسے دادی اور شوہر پر انحصار کرتی نظر آتی ہے۔ ہالا کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے اپنے لیے بولنا نہیں سیکھا، حمزہ کی صورت میں اس کو ایک آواز ملتی ہے۔ حمزہ بتاتا ہے کہ لوگ ہالا کے ساتھ غلط کر رہے ہیں تو ہالا کو لگتا ہے کہ یہ فرشتہ کہاں سے آ گیا۔
ہانیہ عامر نے بتایا کہ شوٹنگ کے دوران انہیں اپنی سینئر صبا حمید سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ شوٹ کے دوران صبا حمید نے اُن کا بے حد خیال رکھا، صبا جی کو جب بھی مجھے جھنجھوڑنا ہوتا تھا تو سین جیسے ہی کٹ ہوتا، وہ مجھ سے پوچھتی تھیں کہ تم ٹھیک ہو تمھیں کچھ ہوا تو نہیں، ہانیہ عامر کا حال ہی میں ایک اور ڈرامہ سیریل ’سنگِ ماہ‘ ختم ہوا ہے جس میں پہلی بار اداکاری کے میدان میں قدم رکھنے والے گلوکار عاطف اسلم سمیت سینئر اداکار نعمان اعجاز، سمعیہ ممتاز، ثانیہ سعید، کُبریٰ خان اور عمیر رانا نے کام کیا۔اس ڈرامے کے اختتام پر دو اہم کرداروں کی خودکشی پر کافی تنقید ہوئی، اس بارے میں ہانیہ عامر نے بھی دو ٹوک مؤقف اپنایا اور کہا کہ مجھے بھی لگتا ہے کہ خودکشی نہیں دکھائی جانی چاہئے تھی، ہانیہ عامر فلم اور ٹی وی پر آنے سے پہلے سے ہی سوشل میڈیا پر اپنی تفریحی ویڈیوز کی وجہ سے مشہور تھیں لیکن انڈسٹری میں کام کے باوجود بھی وہ اکثر اپنی اسی پہچان کی وجہ سے مقبول رہیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ ہانیہ اکثر ٹرولنگ کا شکار بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ ایک بار ہانیہ نے اپنی جلد کے بارے میں کُھل کر بات کی تو انڈسٹری سے ہی لوگوں نے اُنھیں مزاح اور طنز کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا کا اُن کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، اس بارے میں بات کرتے ہوئے ہانیہ نے کہا کہ میں بہت جھوٹی ہوں گی اگر میں کہوں کہ کچھ نہیں ہوتا، کبھی کبھی لوگ ایسی بات کرتے ہیں کہ ہنسی آ جاتی ہے۔ کبھی کبھی ایسی بات بھی کرتے ہیں کہ اُس پر دو تین دن رونا آتا ہے۔
