چنار باغ ہاوسنگ سوسائٹی کرپشن ریفرنس نیب کورٹ میں دائر

لاہور کی احتساب عدالت نے چنار باغ ہاوسنگ سوسائٹی کے فنڈز میں ایک ارب 31 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگی اور سینکڑوں شہریوں کی رقوم ، دھوکہ دہی سے ہتھیانے کے ریفرنس پر باقاعدہ کاروائی شروع کرنے کے لئے ملزموں کو گیارہ مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ قومی احتساب بیورو کی تفتیش کے مطابق سید طیب حسین رضوی ، نور اسدالرحمان ، احسان سہیل ، نسیم رزاق ، طارق منیر احمد اور عدنان احسن خان سمیت گیارہ ملزمان نے 560 شہریوں سے رقوم لے کر انہیں پلاٹ نہیں دیئے۔
احتساب عدالت نے نیب کا ریفرنس دائر ہونے کے بعد سوسائٹی میں مالی بے ضابطگی کے الزام میں ملزموں کو طلب کیا ہے. تاکہ قانون کے مطابق ریفرنس پر باقاعدہ کاروائی شروع کی جائے ۔ اس ضمن میں ملزمان طیب رضوی وغیرہ کو الزامات پر مبنی ریفرنس کی نقول فراہم کی جائیں گی اور بعد ازاں ملزموں پر فرد جرم بھی عائد ہوگی. نیب نے ملزموں کیخلاف لگ بھگ ایک ارب 31 کروڑ روپے مالیت کی بے ضابطگی اور دھوکہ دہی کا ریفرنس دائر کیا ہے نیب کے مطابق ملزمان نے چنار باغ ہاوسنگ سوسائیٹی کے عہدے داروں کی حیثیت سے 560 شہریوں کو پلاٹ کی فائلز بیچیں مگر انہیں پلاٹ نہیں دیئے گئے. ملزموں نے سوسائٹی کے فنڈز کو ناجائز طور پر اپنے مالی مفادات کے لئے استعمال کیا اور رقوم اپنے اہل خانہ کو بھی منتقل کیں اس طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کے مرتکب ہوئے. نیب کے مطابق ملَزموں نے بھلی بھگت سے ایک ایسی سوسائیٹی کے نام پر پلاٹ فروخت کیے جو ایل ڈی اے سے منظور شدہ ہی نہیں تھی. متاثرین کے مطابق 2012 سے نہ پلاٹ ملا ہے اور نہ انہیں ان کی رقم واپس کی گئی ہے. سادہ لوح شہریوں کو جھانسہ دیکر پلاٹ کے نام پر انہیں اُن کی عمر بھر کی پونجی سے محروم کر دیا گیا. ریفرنس میں نامزد ملزم طارق جیل میں ہے، دو ملزم پہلے ہی نیب سے پلی بارگین کر چکے ہیں جبکہ باقی ملزم عبوری ضمانت پر ہیں عبوری ضمانت کی معیاد 18 مئی کو ختم ہو رہی ہے.
