چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو احتساب سے تحفظ دینے کا فیصلہ


وفاقی حکومت نے چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو ایک مجوزہ قانون سازی کے ذریعے خصوصی امیونٹی یعنی استثنیٰ دلوانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس عہدے پر فائز شخصیت کے خلاف نہ تو کسی قسم کا کوئی کیس دائر کیا جا سکے اور نہ ہی اس کے خلاف کسی قسم کی کوئی عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پاک چین سی پیک اتھارٹی کو عارضی قانونی جواز فراہم کرنے والا صدارتی آرڈیننس چونکہ کچھ عرصہ پہلے اپنی مدت پوری کر چکا اس لیے اب وفاقی حکومت نے سی پیک کے معاملات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے نئی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت قانون کے لئے تیار کردہ مجوزہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس 2019 کے سیکشن 12 میں یہ لکھا گیا ہے کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو خصوصی امیونٹی یعنی استثنیٰ حاصل ہو گا لہٰذا اس عہدے پر فائزشخصیت کے خلاف نہ تو کوئی کیس فائل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی عدالتی کاروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ مجوزہ مسودہ قانون کے مطابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی کو وزیر اعظم چار سال کی مدت کے لیے تعینات کریں گے اور اس مدت ملازمت میں چار سال تک کی توسیع بھی دینے کے مجاز ہوں گے۔
یاد رہے کہ رواں سال صدارتی آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستان چین اقتصادی راہداری کے معاملات چلانے والی سی پیک اتھارٹی کو اب کسی قسم کا قانونی تحفظ حاصل نہیں یعنی اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کا عہدہ بھی غیر قانونی ہے جبکہ اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر زکریا علی شاہ کا بھی ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں سی پیک اتھارٹی صرف بیس فیصد فعال ہے۔
سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اپنی اہلیہ، بیٹوں اور بھائیوں کے اربوں روپے کے اثاثے منظر عام پر آنے کے بعد مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تاہم اب یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ان کی سربراہی میں چلنے والی سی پیک اتھارٹی کو قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے پارلیمنٹ کا تحفظ بھی حاصل نہیں ہے۔ اتھارٹی کو عارضی قانونی جواز فراہم کرنے والا صدارتی آرڈیننس بھی کئی مہینے پہلے اپنی مدت مکمل کر چکا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ اس وقت سی پیک اتھارٹی کا سٹیٹس غیر قانونی ہے اور جنرل عاصم باجوہ کا عہدہ بھی غیر قانونی ہے۔ پاکستانی صحافی احمد نورانی کی فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تہلکہ خیز سٹوری کے بعد مشکلات میں گھرنے والے عاصم سلیم باجوہ نے 3 ستمبر کو یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بطور معاون خصوصی وزیر اعظم اپنے عہدے سے استعفی دے رہے ہیں اور اب وہ سی پیک اتھارٹی پر زیادہ فوکس کے ساتھ توجہ مرکوز کریں گے۔ تاہم حیرت انگیز طور پر وزیراعظم نے ان کا استعفی مسترد کر دیا ہے اور انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور یا سی پیک منصوبے کے التوا کا شکار ہونے اور اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے بعد حکومت پاکستان نے سی پیک اتھارٹی میں چین کی نمائندگی کو بھی یقینی بنانے کے لیے قانون سازی کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ قانون سازی چین کی خواہش پر کی جا رہی ہے۔ سی پیک اتھارٹی کی سربراہی اس وقت لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کر رہے ہیں، جو افواج پاکستان کے میڈیا ونگ، آئی ایس پی آر، کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ سی پیک کے سی ای او زکریا علی شاہ کے مطابق اس وقت سی پیک اتھارٹی 20 فیصد تک فعال ہے۔ اس اتھارٹی نے کسی سے درخواست کر کے ایک دفتر لیا ہے لیکن اتھارٹی کو اب بھی وسائل اور افرادی قوت جیسی کمی کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 62 بلین ڈالر کے ان منصوبوں کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے جن کا آغاز سنہ 2013 میں ہوا۔ ان معاہدات کے تحت چین پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ان معاہدوں میں راہداری اور توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ رواں برس جولائی کے وسط میں انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبون کی ویب سائٹ پر ایک خبر شائع ہوئی کہ حکومت صدارتی آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے بعد سی پیک اتھارٹی کو مزید اختیارات دینے سے متعلق قانون سازی کر رہی ہے۔ اس خبر کے مطابق وزارت منصوبہ بندی میں ہونے والے اجلاس میں ایک مجوزہ ڈرافٹ پر بھی غور کیا گیا، جس میں سی پیک کو وزارت منصوبہ بندی سے نکال کر براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت کرنے کی تجویز دی گئی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ خبر شائع ہونے کے کچھ دیر بعد ویب سائٹ سے لاپتہ ہو گئی یعنی ہٹا دی گئی، جس کے بعد رپورٹر شہباز رانا نے ٹویٹ کیا کہ وہ اپنی خبر پر قائم ہیں اور انھوں نے جو خبر دی وہ بالکل حقائق پر مبنی ہے۔ یہ خبر فائل کرنے والے رپورٹر کے مطابق انھوں نے معتبر ذرائع سے یہ خبر دی تھی جس کی کوئی تردید جاری نہیں کی گئی ہے۔
دوسری طرف پاکستانی حکام کے مطابق سی پیک منصوبوں میں مسائل سامنے آنے کے بعد چین کی خواہش پر سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ حکام کے مطابق چین نے پاکستان کو بتایا کہ وہ سی پیک کے تحت منصوبوں پر پیش رفت سے مطمئن نہیں ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں سی پیک اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زکریا علی شاہ نے بھی تصدیق کی کہ چینی حکومت نے یہ محسوس کیا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی کوآرڈینشین صحیح طریقے سے نہیں ہو رہی ہے۔ ان منصوبوں میں مانیٹرنگ کے مسائل بھی آ رہے تھے۔ جس کے بعد سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ زکریا علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس اتھارٹی کا قیام عمل میں لانے کا مقصد نہ صرف مانیٹرنگ کو یقینی بنانا ہے بلکہ اتھارٹی یہ بھی دیکھے گی کہ کس منصوبے میں کیا ’پروسس فالو‘ ہو رہے ہیں۔ مجوزہ مسودے میں چین کو بھی اس اتھارٹی میں نمائندگی دینے کی تجویز شامل ہے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ مسودہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ تجویز کے مطابق سی پیک منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی مشترکہ طور پر پاکستان کی سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین اور چین کے نیشنل ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے وائس چئیرمین کریں گے۔ اس کمیٹی کے تحت ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ بھی ان منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے کام کر رہا ہو گا، جس میں دونوں ممالک کی نمائندگی شامل ہو گی۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی سی پیک اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ چند ماہ قبل تک یہ اتھارٹی ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اپنا نظم و نسق چلا رہی تھی۔ تاہم اس آرڈیننس کی مدت پوری ہونے کے بعد اب اس اتھارٹی کو قانونی جواز بخشنے کے لیے موجودہ حکومت قانون سازی کر رہی ہے۔ سی پیک اتھارٹی کے سی ای او زکریا علی شاہ کے مطابق اس اتھارٹی کے قیام کا آئیڈیا یہ تھا کہ اس کے ذریعے سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل کو معینہ مدت میں یقینی بنایا جا سکے۔ اس اتھارٹی کا بنیادی کام فیسلیٹیشن، کوآرڈینیشن اور مانیٹرنگ ہے۔ زکریا علی شاہ کے مطابق چینی کنٹریکٹر اس اتھارٹی سے بہت ’کمفرٹ ایبل‘ محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ اتھارٹی ان کے لیے ’ون ونڈو‘ کے طور پر کام کرتی ہے یعنی انھیں اپنے کاموں کے لیے مختلف وزارتوں اور محکموں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ زکریا علی شاہ کے مطابق صدارتی آرڈیننس سی پیک اتھارٹی کو وہ اختیارات نہیں دے رہا تھا جس کے تحت یہ اپنے قیام کے مقاصد کو بطور احسن انجام دے پاتی۔ لہٰذا وزیر اعظم نے پلاننگ کمشن کے ڈپٹی چیئرمین کو یہ ٹاسک سونپا کہ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر اس اتھارٹی سے متعلق تجاویز یعنی قانون سازی سے متعلق سفارشات تیار کریں۔ ان کے مطابق اس قانون سازی کا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ اس اتھارٹی کو اور بھی مضبوط کیا جائے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ یہ اتھارٹی وزارت منصوبہ بندی کے تحت صیحح معنوں میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتی۔ تاہم ان کے مطابق اس کا ابھی فیصلہ ہونا ہے کہ یہ اتھارٹی براہ راست وزیر اعظم کے تحت کام کرے گی یا کیبینٹ ڈویژن کے تحت ہو گی۔ان کا کہنا یے کہ ہم نے یہ تجویز دی ہے کہ اگر اتھارٹی بن گئی ہے تو اسے مضبوط کیا جائے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ یا زکریا علی شاہ کو مضبوط بنایا جائے۔مجوزہ قانون سازی میں چیئرمین سی پیک کو چار سال کی مدت کے لیے تعینات کیا جائے گا اور مدت ملازمت میں چار سال تک کی توسیع بھی مل سکے گی۔ وزیر اعظم اس اتھارٹی کے ممبران کا تقرر تین سال کے لیے کریں گے اور ان کی مدت ملازمت میں بھی تین سال تک کی توسیع کی جا سکے گی۔ کسی بیورو کریٹ کو اتھارٹی کا سربراہ یہ کلیدی عہدہ نہ دینے کی تجویز بھی اس مسودے کا حصہ ہے۔
غیر فعال سی پیک اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی گفتگو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب تک اتھارٹی کو پارلیمان سے قانونی کور نہیں ملتا تب تک اس کی حیثیت پر سوالیہ نشان رہے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور خود سی او زکریا شاہ کا تقرر بھی قانون کے منافی سمجھا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button