چیئرمین نادرا نے اپنے ہی ادارے کیخلاف انکوائری کیوں کھولی؟

چیئرمین نادرا طارق ملک نے اپنے ادارے کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو لکھے گئے ایک خط کی تحقیقات کروانے کا حکم دیتے ہوئے اس میں غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے تاکہ الیکشن کمیشن اور نادرا کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعے کا خاتمہ کیا جاسکے۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اتھارٹی یعنی نادرا کو شٹ آپ کال دیتے ہوئے یاد دلوایا ہے کہ وہ اس کا ماتحت ادارہ بن کر رہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش نہ کرے کہ اس کے پاس الیکشن کمیشن کو کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار ہے۔ الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ نادرا کے ایک حالیہ مراسلے میں استعمال کی گئی زبان سے تاثر دیا گیا کہ ای سی پی دراصل نادرا کا ماتحت ادارہ ہے جبکہ معاملہ اسکے اُلٹ ہے۔
اس تنازعے کے بعد دفاعی پوزیشن اختیار کرتے ہوئے نادرا چیئرمین نے اپنے ماتحت افسران کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے تاکہ کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور پتہ لگایا جائے کہ یہ حرکت کس نے اور کس کے کہنے پر کی۔ چیئرمین نادرا طارق ملک نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں استعمال کی گئی زبان کے معاملے پر متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے جلد از جلد جامع تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیئرمین نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط کے بارے میں معلوم کیا جائے کہ خط میں غیر پارلیمانی زبان کیوں استعمال کی گئی اور یہ خط لکھنے کی منظوری کس نے دی؟ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نادرا کے پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ نے 20 اگست کو سیکریٹری الیکشن کمیشن کوخط لکھا تھا، جو کہ چیئرمین طارق ملک کو نہیں دکھایا گیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نادرا نے 2 اگست کو نئے انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم اور پرانے سسٹم کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کو تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے ڈی جی آئی ٹی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ تب چیئرمین نادرا طارق ملک نے بتایا کہ غیر جانبدار آڈیٹرز کی رپورٹ کے مطابق پرانے سسٹم میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لئے ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہے۔ آئی ٹی ماہرین کا کہنا تھا کہ نئے سسٹم کو بنانے کے لئے تین سال کا عرصہ درکار ہو گا جبکہ چیئرمین نادرا نے صرف ایک سال میں یہ سسٹم مکمل کرنے کی پیشکش کی۔
انہوں نے بتایا کہ نئے سسٹم کے تحت نادرا اپنی طرز پر الیکشن کمیشن کو سمندر پار پاکستانیوں کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ نظام بنا کر دے گا جو الیکشن کمیشن کے اپنے ڈیٹا سنٹر، سروَرز اور تھرڈ پارٹی سافٹ ویئرز پر مشتمل ہو گا۔ اس سسٹم کو انتظامی اور تکنیکی طور پر الیکشن کمیشن خود کنٹرول کرے گا۔ اس نظام کی بدولت الیکشن کمیشن آئی ووٹنگ کے تمام تر انتظامات میں خود کفیل بن جائے گا۔ نادرا کے کمپیوٹرز یا سروَرز سے اس نئے سسٹم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ الیکشن کمشن نے چیئرمین نادرا کی طرف سے پیش کئے گئے سمندر پار پاکستانیوں کے لئے نئے آئی ووٹنگ سسٹم کو سراہا اور نادرا کو اس پرآگے بڑھنے کا زبانی اصولی حکم دیا تھا۔
اس پس منظر میں نادرا کے پراجیکٹ ڈائریکٹوریٹ نے 20 اگست کو سیکرٹری الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا جس میں 2 اگست کی میٹنگ میں دیئے گئے زبانی احکامات کو تحریری شکل دینے کو کہا گیا تا کہ نئے سسٹم کے تمام امور کو ایک سال کے اندر مکمل کیا جا سکے۔ لیکن یہ معاملہ تب الیکشن کمیشن اور نادرا کے مابین تنازع میں تبدیل ہو گیا جب یہ خط میڈیا کو لیک کر دیا گیا۔ اس خط میں الیکشن کمیشن نے نادرا سے پوچھا تھا کہ اس نے اپنے زیر استعمال الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کو 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود متروک کیوں کر دیا۔ نادرا سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ای ووٹنگ سسٹم کی پہلے سے موجودگی میں ای سی پی کو 2.4 ارب روپے کا نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ الیکشن کمیشن نے سوال کیا کہ اگر نادرا کے زیر استعمال موجودہ نظام میں کچھ خامیاں ہیں تو ان کا ذمہ دار کون ہے اور کیا ان کو دور کیا جا سکتا ہے؟
