چیف جسٹس ریٹائرمنٹ سے پہلے کیا جگاڑ لگانا چاہتے ہیں؟

وہ جج جنہوں نے پچھلے پانچ سات سال کے دوران سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اورڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی قیادت میں آئین کا کچومر نکال دیا اور جو آئین کی اناپ شناپ تشریحات کرتے رہے , اب اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے جگاڑ لگا کر آئین پرستوں کے قافلے میں شامل ہونے کے لیے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں یہ سب اب قبول نہیں کیا جاسکتا . ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار حماد غزنوی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہم زندگی گزارنا چاہتے ہیں عیاشی کے مرکز لاس ویگاس میں، اور دفن ہونا چاہتے ہیں جنت البقیع میں جگاڑ کی آس میں رہتے ہیں، دائو لگانا چاہتے ہیں۔
ایسے ہی کچھ جج حضرات بھی ہیں جنہوں نے زندگی تو عشقِ بتاں میں گزاری ہے مگر خواہش یہ رکھتے ہیں کہ انہیں الحاج تسلیم کیا جائے۔یعنی وہ منصفین جنہوں نے پچھلے پانچ سات سال باجوہ اور فیض کی قیادت میں آئین کا کچومر نکال دیا، جنہوں نے آئین کی ایک آدھ شق کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ پورے آئین کو پامال کر کے ایک ہائی برڈ نظام کھڑا کیا، جو ابھی کچھ دن پہلے تک باجوہ صاحب کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں جو نیئر جج لگوا رہے تھے، جو آئین کی اناپ شناپ تشریحات کرتے رہے، وہ ایک دن سو کر اُٹھے تو آئین کے مندر کے سب سے معتبر پروہت بن چکے تھے حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہم کیسے مان لیں کہ آپ یک دم زُلفِ آئین کے اسیر ہو گئے ہیں۔ آئین پرست ججوں کو تو اس ملک میں بڑی بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں، اپنوں کے ریفرنس سہنے پڑتے ہیں، اپنے گھر کی عورتوں کی بھی تذلیل برداشت کرنا پڑتی ہے، آپ نے تو ایسی کوئی قربانی نہیں دی، آپ نے تو پلاٹ لیے ہیں۔.
اپنی بیویوں کے نام پر بھی پلاٹ لیے ہیں، سپریم کورٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی میں بھی پلاٹ لیے ہیں، آپ نے کبھی اپنے اثاثے مشتہر نہیں کئے، آپ توانفارمیشن کمیشن کو اپنی تن خواہ اور مراعات بتانے کو تیار نہیں ہیں، آپ نے تو آج تک اپنی عدالت کا آڈٹ نہیں ہونے دیا، آپ تو ثاقب نثار کے پیروکار ہیں، آپ کو کہاں سے آئین یاد آ گیا؟آپ کی تیاری ہی نہیں ہے، آپ کیسے یہ امتحان پاس کر پائیں گے؟ سچ تو یہ ہے کہ آپ ریٹائرمنٹ سے پہلے جگاڑ لگانا چاہ رہے ہیں، آئین پرستوں کے قافلے میں شامل ہونے کے لیے شارٹ کٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔ نہ میرے بھائی ، آپ کو آئین پسند منصف نہیں مانتے۔ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ سسٹم میں شگاف ڈالنے کے لیے پہلے سسٹم کو بہت اچھی طرح سمجھنا پڑتا ہے، فارمولا بدلنے کے لیے پہلے مروجہ فارمولے کو مکمل گرفت میں لینا پڑتا ہے۔ سال ہا سال خون تھوکنا پڑتا ہے پھر کہیں جا کر نئی بات کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ نئی بات تک پہنچنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، یہ عشق کے اوکھے اور لمبے پینڈے ہیں۔
سائنس سے فنون تک، ہر میدان میں یہی عالم ہے۔ وہ جو پچھلی صدی میں ایک اسپینی نژاد مصور تھا پکاسو، آڑی ترچھی لکیریں لگاتا تھا، ٹیڑھی میڑھی شکلیں بناتا تھا، عجیب و غریب رنگ برتتا تھا، تو ایسا نہیں تھا کہ وہ ایک دن صبح اُٹھا ، بسم اللہ پڑھ کر برش اٹھایا اور مصوری کے ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھ دی۔پہلے اُ س نے سال ہا سال سیدھی لکیر کھینچنا سیکھا، دست و چشم بنائے، طوطا مینا بنائے، پورٹریٹ بنائے، لینڈاسکیپ بنائے، اور جب انگلیاں فگار ہو گئیں، پھر بحرِ تجرید میں غوطہ زن ہونے کا حوصلہ پیدا ہوا ۔ ہر شعبے میں ایسی مثالیں ہیں، اور بیسیوں مثالیں ہیں۔ہمارا ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر وہ کام کرنا چاہتے ہیں جس کی ہم نے تیاری نہیں کر رکھی، جو ہمارا کام نہیں ہے ۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پچھلے دنوں فیصل آباد میں ایک خاتون نے نبوت کا دعویٰ کر دیا (نعوذباللہ) سوشل میڈیا پر ان کی مختصر سی گفتگو سننے کا اتفاق ہوا، دو چار جملوں میں صرف ایک لفظ عربی کا آیا ’لدنی‘ جس کی دال سے پیش غائب تھی اور نون سے شد ۔
آج کل کے کذاب بھی کام چور ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کذاب تھا مگراُس نے تیاری کر رکھی تھی، عربی فارسی پڑھ رکھی تھی، فقہ و منطق، قران و حدیث سے واقفیت رکھتا تھا، اسی لیے کچھ لوگوں کو گمراہ کرنے میں کام یاب ہوا۔چند دن ہوئے داسو ڈیم پراجیکٹ کے ایک چینی سپر وائزر کے خلاف توہینِ مذہب کی ایف آئی آر کاٹی گئی، شکایت کنندہ کیوں کہ چینی زبان نہیں جانتا تھا اس لیے ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ چینی باشندہ توہین آمیز اشاروں کا مرتکب ہوا ہے۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ ڈیم پراجیکٹ کا ایک کارکن نماز کی چھٹی لے کر گیا اور گھنٹوں بعد لوٹا، سپروائزر نے سرزنش کی تو اس کے خلاف توہین کی ایف آئی آر کٹوا دی گئی۔وہ کارکن جس کا مبینہ طور پر مذہب سے واجبی سا تعلق تھا راتوں رات فولادی مومن قرار پایا۔ ویسے اس واقعہ کی تہہ میں بھی کام چوری نظر آتی ہے۔
