چیف جسٹس کے دعوے کے برعکس عدلیہ دباؤ میں آگئی


حال ہی میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے کے برعکس کہ عدلیہ اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ نہیں لیتی، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عدلیہ دباؤ لے رہی ہے۔ سانحہ اے پی ایس پر عسکری ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کر کے رپورٹ پیش کرنے کے لئے مقرر کردہ ایک مہینے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو مزید تین ہفتوں کی مہلت دے دی ہے حالانکہ اس سے پہلے چیف جسٹس نے وارننگ دی تھی کہ اس معاملے میں مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ اب ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سانحہ پشاور کے وقت اہم فوجی عہدوں پر تعینات شخصیات کے خلاف کارروائی سے بچنے کے لیے حکومت اور عدلیہ مل کر معاملے کو طول دے رہی ہیں جس سے چیف جسٹس گلزار احمد کا یکساں انصاف اور عدلیہ کے مکمل آزاد ہونے کا دعویٰ ہوا میں اڑتا ہوا نظر آتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سانحہ اے پی ایس کیس میں عدالت عظمٰی نے ہمیشہ کی طرح بے لاگ احتساب اور یکساں انصاف کی بڑھک مار کر پسپائی اختیار کی ہے کیونکہ معاملہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ یاد رہے کہ عدالت نے گزشتہ ماہ وزیراعظم عمران خان کو سپریم کورٹ طلب کرکے شہداء اے پی ایس کے لواحقین کی استدعا کو مدنظر رکھتے ہوئے غفلت کے مرتکب اعلی سویلین اور عسکری شخصیات کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف بھی ایک مہینے میں کارروائی کا حکم دے کر یہ ظاہر کیا کہ عدالت کسی سے نہیں ڈرتی لیکن دوسری جانب یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ عمران خان فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر عسکری شخصیات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ناقدین کے بقول سات سال سے لٹکے ہوئے اس مقدمے میں عدالت عظمٰی نے پہلے وفاقی حکومت کو ایک مہینے کی مہلت دی اور اب مزید تین ہفتے کا وقت دے دیا جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ چیف جسٹس کا عدلیہ کا کسی بھی دباؤ سے آزاد ہونے کا دعویٰ کھوکھلا ہے اور اس ملک میں صرف سویلینز کا احتساب ہی ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت کے گزشتہ احکامات کے مطابق حکومت نے 10 دسمبر تک وزیر اعظم عمران خان کی دستخط شدہ رپورٹ جمع کروانی تھی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے عدالت عظمیٰ میں 3 صفحات پر مبنی رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کے احکامت کے مطابق وزیر اعظم نے سانحہ اے پی ایس میں جاں بحق ہونے والے طلبہ کے لواحقین سے ملنے اور ان کے مطالبات سننے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان، وزیر برائے بین الصوبائی ہم آہنگی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور وزیر برائے ریاستی و سرحدی علاقہ جات صاحبزادہ محمد محبوب سلطان شامل ہیں۔اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان یا ان کا نامزد کردہ فرد اور وزارت دفاع اور داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاسوں میں خصوصی شرکت کریں گے۔
10 نومبر کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ نے حکم دیا تھا کہ حکومت، متاثرہ والدین کی بات سنے اور 4 ہفتوں کے اندر وزیر اعظم کی دستخط شدہ رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔سپریم کورٹ رولز کے رول 6 آرڈر 33 کے تحت دائر کردہ حکومتی درخواست میں والدین کے ساتھ کابینہ کی کمیٹی کی ملاقات کے نتائج کو رپورٹ میں شامل کرنے کی بھی اجازت طلب کی گئی ہے۔اپنے گزشتہ حکم میں عدالت کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے عدالت کے سامنے بیان دیا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور والدین کو انصاف کی فراہمی اور واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس قتل عام کے ذمہ داروں اور کوتاہی برتنے والوں سے ضرور نمٹے گی۔ 20 اکتوبر کے حکم نامے میں یہ کہا گیا تھا جاں بحق طلبہ کی ماؤں نے یہ شکایت کی ہے کہ اے پی ایس پشاور کی سیکیورٹی کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں اپنی ذمہ داری سے غفلت برتنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اس غفلت کے نتیجے میں 147 معصوم بچوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان ماؤں کا کہنا تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، کور کمانڈر پشاور حدایت الرحمٰن، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام اور سیکریٹری داخلہ اختر علی شاہ وہ لوگ تھے جنہیں اس حملے کی پہلے سے اطلاع ہوسکتی تھی لیکن انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی جس کے نتیجے میں اسکول میں طلبہ کا قتل عام ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:سیالکوٹ میں غیر ملکی ماہرین واپسی کا سوچنے لگے
دوسری جانب تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے ایک وفد نے 9 دسمبر کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آرمی پبلک سکول واقعے میں شہید ہونے والے طلبہ کے والدین سے پشاور میں ملاقات کرنے کی کوشش کی جو بظاہر بری طرح ناکام رہی ہے۔اے پی ایس سانحے میں شہید ہونے والے ایک بچے کے والد عجون خان ایڈووکیٹ نے گلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چار ہفتے 10 دسمبر کو پورے ہو رہے تھے اور وفاقی حکومت کا وفد وفاقی وزیر عمر ایوب کی سربراہی میں صرف ایک دن پہلے ہم سے ملنے آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت اور حکومتی وفد کی عدم دلچسپی کے باعث والدین نے ملاقات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پشاور میں احتجاج کیا اور سڑک بھی بلاک کی۔ایک دوسرے شہید طالب علم کے والد محمد طاہر خان کا کہنا تھا کہ ان سے ملاقات کے لیے آنے والے حکومتی نمائندوں نے نہایت غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث انہوں نے اس ملاقات کا بائیکاٹ کیا۔ والدین کے بیان کے برعکس حکومتی وفد میں شامل تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ساجدہ بیگم کا کہن اتھا کہ ان کی ملاقات بہت کار آمد اور نتیجہ خیز رہی اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ شروع میں بچوں کے والدین بہت جارحانہ تھے لیکن ہم نے ان کی سخت باتیں بھی آرام اور تحمل سے سنیں اور ان کے مطالبات پر غور کرنے کا یقین دلایا۔ ساجدہ بیگم نے مزید کہا کہ کچھ دیر بعد ہی تمام والدین کمیٹی اراکین کے ساتھ گھل مل گئے اور باقی ماندہ وقت نہایت خوشگوار ماحول میں گزرا۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین یقینا افسردہ ہیں، ان کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے اور حکومت ان کی داد رسی کی پوری کوشش کرے گی۔

Back to top button