چین، کرونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان سے رپورٹنگ کرنے والا صحافی لاپتہ

کورونا وائرس سے متاثرہ چین کے شہر ووہان سے رپورٹنگ کرنے والا صحافی چین کیوشی مبینہ طور پر گزشتہ ہفتے لاپتہ ہوگیا ہے۔
ووہان سے رپورٹنگ کرنے والے صحافی چین کیوشی 24 جنوری کو ووہان پہنچے جہاں سے انہوں نے اپنے دورے کے دوران بنائی گئی ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر کیں، جس میں ‘بھرے ہوئے ہسپتال، جنازہ گاہوں اور عارضی طور پر بنائے گئے آئی سولیشن (طبی قید) وارڈز’ شامل ہیں۔ جس کے بعد چین کیوشی کے دوست نے 7 فروری کے روز ٹوئٹر پر صحافی کی والدہ کا ویڈیو پیغام اپ لوڈ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صحافی غائب ہوگئے ہیں۔ چین کیوشی کے دوست بار بار ان سے خیریت معلوم کرتے رہتے تھے کیونکہ انہیں خوف تھا کہ صحافی کو کسی بھی وقت ان کی رپورٹنگ کی وجہ سے گرفتار کرلیا جائے گا اور جب 6 فروری کی شام چین کیوشی نے فون کا جواب نہیں دیا تو ان کی تشویش میں اضافہ ہوگیا تھا’۔
ان کے دوستوں کے مطابق چین کیوشی نے ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی تفصیلات اپنے قریبی دوستوں کو انہیں حکام کی جانب سے گرفتار کیے جانے کے خدشے کے پیش نظر دے رکھی تھیں۔ ویڈیو میں چین کیوشی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ‘میں آن لائن تمام افراد سے گزارش کرتی ہوں، بالخصوص ووہان میں موجود دوسروں سے کہ چین کیوشی کو تلاش کریں کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے’۔ اس کے علاوہ صحافی کے ایک دوست نے ان کی والدہ کا پیغام یوٹیوب پر بھی اپلوڈ کیا اور کہا کہ چین کیوشی کو ‘جبری طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے’۔ ووہان اور کنگڈاؤ شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں چین کیوشی کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہیں۔ دریں اثنا انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی صحافی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
A citizen journalist who reported from Wuhan is missing – friends say he was forcibly quarantined.
China must not use quarantine as a political tool to censor reporting on the coronavirus. If Chen Qiushi is in quarantine, the authorities must immediately reveal his whereabouts. https://t.co/433ghhBzQ2
— Amnesty International (@amnesty) February 10, 2020
ٹوئٹر پر پیغام میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ ‘صحافی جو ووہان سے رپورٹنگ کرتے تھے، لاپتہ ہیں، ان کے دوست کہتے ہیں کہ انہیں جبری طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، چین قرنطینہ کو کورونا وائرس کی رپورٹنگ کو سینسر کرنے کے لیے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، اگر چین کیوشی قرنطینہ میں ہیں تو حکام ان کے بارے میں فوراً تفصیلات سامنے لائے’۔
خیال رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ 40 ہزار سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔اس وائرس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ گزشتہ سال کے آخر میں ووہان کی ایک مارکیٹ میں سامنے آیا تھا۔ اس وائرس کی اطلاع دینے والے ڈاکٹر کی ہلاکت نے چین میں سیاسی اصلاحات اور آزادی اظہار رائے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر لِی وینلیانگ اسی بیماری کے باعث دوران علاج چین کے مقامی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
وہ ان دس فزیشنز میں سے تھے جنہیں ‘افواہیں پھیلانے’ کے جرم میں ووہان کی پولیس نے سزا بھی دی تھی۔تاہم ان کی ہلاکت کے بعد کئی دانشوروں نے چین میں مزید آزادیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ 34 سالہ ڈاکٹر کی ہلاکت کے بعد کم از کم 2 کھلے خط سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں جن میں آزادی اظہار رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ان میں سے ایک پر ووہان کے 10 پروفیسرز کے دستخط بھی شامل ہیں۔
