چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 908 سے تجاوز کر گئی

چین میں کرونا وائرس سے مزید97 افرادکی ہلاکت کے بعد وائرس سے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد 908 سے تجاوز کر گئی ہے. جبکہ دوسری طرف وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی یومیہ تعداد اب مستحکم ہوگئی ہے.چین میں 40 ہزار 171 لوگ کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 87 ہزار 518 افراد کی طبی نگرانی کی جارہی ہے. عالمی ادارہ صحت نے وائرس پر تحقیق میں مدد کے لیے اپنی ایک ٹیم بیجنگ روانہ کر دی ہے. وائرس کے پھیلاؤ کو سست کرنے کے لیے توسیعی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے اواخر میں صوبہ ہوبے میں ووہان کی مارکیٹ سے ابھرنے والے کرونا وائرس کے نتیجے میں کم از کم 40 ہزار افراد اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ وبا کے مستحکم ہونے کی عارضی علامات موجود ہیں لیکن ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسَس خبردار کیا کہ بیرون ملک ان لوگوں میں بھی انفیکشنز ہوسکتے ہیں جو کبھی چین نہیں گئے۔
ٹیڈروس ایڈہانوم گھیبریسَس کی جانب سے یہ بیانات ماضی میں صحت کی ہنگامی صورتحال کا تجربہ رکھنے والے بروس آئلورڈ کی قیادت میں عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کی چین روانگی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کے تحت ہوبے میں کئی شہروں کو بند کردیا گیا ہے اور ملک میں نئے قمری سال کی چھٹی کے موقع پر لاکھوں افراد کی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے چین بھر میں ٹرانسپورٹ لنکس بند کردیے گئے تھے۔ سرکاری طور پر نئے قمری سال کی چھٹی میں صرف 3 دن کی توسیع کی گئی لیکن کئی شہروں اور صوبوں میں اسے 10 فروری تک بڑھا دیا گیا تھا۔
غیر معمولی اقدامات نے شہروں کو ویرانوں میں تبدیل کردیا تھا لیکن امکانات ہیں کہ آج سے چین میں حالات معمول کی طرف آنا شروع ہوجائیں گے۔ حالیہ دنوں کے مقابلے میں بیجنگ اور شنگھائی میں سڑکوں پر ٹریفک نمایاں ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی آج سے بحال کر دی جائے گی. بیجنگ میں آج سے دوبارہ کھلنے والے بیوٹی سیلون میں ایک 25 سالہ شخص نے کہا کہ یقیناً ہم پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جب صارفین اندر آتے ہیں تو ہم پہلے ان کا ٹمپریچر چیک کرتے ہیں پھر ڈِس انفیکٹنٹ استعمال کرتے ہیں اور انہیں ہاتھ دھونے کا کہتے ہیں‘۔
تاہم صوبے ہوبے میں لاکھوں افراد اپنی ملازمت پر واپس نہیں لوٹ سکے کیونکہ وبا کا مرکز یہ صوبہ تاحال لاک ڈاؤن کی صورت حال میں ہے۔ یہاں تک کہ قرنطینہ کیے گئے صوبے کے باہر کئی کمپنیاں اپنے عملے کو محدود کررہی ہیں۔ شنگھائی حکومت نے کام کے شیڈول، سینٹرل ایئرسسٹمز کی معطلی، اجتماعی کھانوں سے گریز اور ساتھیوں سے کم از کم ایک میٹر دو رہنے کی تجاویز دی ہیں۔ گزشتہ ہفتے آن لائن آفس کمیونیکیشن ٹول ڈنگ ٹاک نے ویبو پر کی گئی پوسٹ میں کہا تھا کہ 20 کروڑ افراد گھر سے کام کرنے کا پلیٹ فارم استعمال کررہے ہیں۔
شنگھائی میں امریکن چیمبر آف کامرس نے کہا کہ ان کی 60 فیصد رکن کمپنیاں گھر سے کام کی پالیسیوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔ دوسری جانب چین کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بیجنگ سب وے پر مسافروں کی تعداد معمول کے دنوں کے مقابلے میں 50 فیصد کم تھی۔ علاوہ ازیں بیجنگ میں بڑے شاپنگ مالز صحرا کا منظر پیش کررہے ہیں۔
شنگھائی میں بینک ملازم نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ہاف ڈے کے لیے کام پر جارہے ہیں جبکہ دیگر ملازمین دوپہر کو کام سنبھالتے ہیں، دن کے بقیہ حصے میں عملے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارا کام زیادہ مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ ہمیں ہمارے دفتر میں سسٹمز تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹویوٹا سمیت دیگر کمپنیوں نے کام کو مزید ایک ہفتے کے لیے مؤخر کردیا ہے جبکہ ملک بھر میں اسکولز اور یونیورسٹیاں بند ہیں۔ چین کے مشرقی شہر ووشی کی انتظامیہ نے کہا کہ کورونا وائرس کے کیسز کی زیادہ تعداد والے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تو اسے واپس جانے پر رضامند کیا جائے گا جبکہ سوژوو میں آس پاس کے علاقوں میں جانے والی تمام ٹرانسپورٹ معطل ہے۔
دو روز قبل ٹریول حکام نے کہا تھا کہ ٹرین، روڈ یا جہاز کے ذریعے ایک کروڑ 10 لاکھ افراد نے سفر کیا جو گزشتہ برس کے اسی روز کے مقابلے میں 84 فیصد کم تھا۔ سیاحت کی صنعت میں مایوسی برقرار ہے جبکہ اکثر ممالک نے چین سے آنے والی پروازوں پر بھی پابندی لگادی ہے، بڑی ایئرلائنز نے پروازیں معطل کردی ہیں جبکہ بین الاقوامی اور اندرون ملک ٹور گروپس کو بھی روک دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نوول کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 03-2002 میں ابھرنے والی وبا سارس سے ہونے والی عالمی ہلاکتوں سے تجاوز کرگئی ہے جب چین کو کیسز چھپانے پر مذمت کا سامنا ہوا تھا۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے اس مرتبہ چین کی جانب سے لے گئے اقدامات کو سراہا ہے جبکہ خبردار کیا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ بیرون ملک کچھ ایسے لوگوں میں بھی کیسز سامنے آئے جو کبھی چین گئے ہی نہیں۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان کیسز کا ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہوں۔ دوسری جانب ہانگ کانگ ورلڈ ڈریم کروز شپ میں جب عملے کے 1800 افراد میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد اس میں 5 روز سے سوار ہزاروں افراد کو جانے کی اجازت دی تھی۔ مذکورہ جہاز میں 19 جنوری سے 24 جنوری کے درمیان 3 چینی مسافروں کو ویتنام لے جایا گیا تھا جن میں بعد میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
علاوہ ازیں دی مرر کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے وزیر صحت نے کہا کہ قرنطینہ کیے گئے بحری جہاز میں مزید 60 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد ڈائمنڈ پرنسز پر سوار مجموعی طور پر 130 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جسے ٹوکیو کے قریب یوکوہاما کی بندرگاہ پر قرنطینہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکام نے کہا تھا کہ 3 ہزار 7 سو 11 مسافروں اور عملے میں سے 70 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ خیال رہے کہ 14 روز سے قرنطینہ کیے گئے اس جہاز میں اب تک 3 ہزار 6 سو سے زائد افراد موجود ہیں۔
