چینی مرد پاکستانی لڑکیوں کو جسم فروشی پر لگانے لگے

چینی مردوں کی جانب سے پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے نام پر جیون ساتھی بنانے کے بعد اپنے ملک لے جاکر جسم فروشی کروانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس رجحان میں پاک چائنہ سی پیک پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد سے تیزی آ گئی ہے۔ ایسا ہی ایک تازہ واقعہ اب گوجرانوالہ کی ایک عیسائی لڑکی کے ساتھ پیش آیا ہے جو مسلسل جنسی درندگی کا نشانہ بننے کے بعد بڑی مشکل سے پاکستان واپسی پہنچی ہے۔ بی بی سی اردو کو ایک انٹرویو میں حمیرا نے بتایا کہ میرا تعلق گوجرانوالہ سے ہے اور مذہب عیسائیت ہے، ملازمت کے سلسلے میں میرے والد اسلام آباد میں مقیم ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ رہتی ہوں، ہماری زندگیوں میں چرچ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور میرا خاندان ہر اتوار کو چرچ لازمی جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقامی چرچ سے منسلک ایک شخصیت نے والد صاحب کو ایک چینی لڑکے کا رشتہ بتایا جو مسیحی تھا اور سی پیک میں ملازمت کرتا تھا، تو ہم لوگوں نے ہاں کرنے میں دیر نہ لگائی۔ حمیرا نے بتایا کی اسکی شادی جولائی 2020 میں ہوئی اور وہ ستمبر میں چین پہنچ گئی۔ اسکا کہنا ہے کہ شادی کے بعد ہم صرف 15 دن پاکستان میں رہے۔ چین میں مجھے ٹیکٹسر نامی گاؤں میں لے جایا گیا اور کہا گیا کہ یہ ہمارا گھر یے۔ لیکن حمیرا کو وہ کبھی بھی گھر نہیں لگا۔ وہ کوئی کلب تھا۔ اس بارے میرے سوال۔کرنے پر حمیرا کے خاوند نے پہلی مرتبہ اس پر ہاتھ اُٹھایا اور کہا کہ تمہارے گھر والوں کو پیسے دے کر تمھیں لایا ہوں اور تمہیں وہی کرنا ہوگا جو میں کہوں گا۔
حمیرا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسکا خاوند شراب نہیں پیتا تھا مگر چین پہنچتے ہی اس نے سب سے پہلا کام شراب نوشی کا کیا اور مجھ پر بلا وجہ تشدد بھی شروع ہو گیا۔ جب میں نے اسے یسوع مسیح کا واسطہ دیا تو وہ ہنسا کر کہنے لگا کہ کون سا مذہب اور کس کا مذہب؟ اس کے بعد اس نے نے حمیرہ کو باقاعدہ جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا۔ بقول حمیرہ، وہ گاہک لاتا، میں انکار کرتی تو مجھے مار پڑتی تھی۔ ایک روز اس نے مجھے اُلٹا لٹکا کر برہنہ کیا اور میری تصاویر اور ویڈیو بناتا رہا۔ جب حمیرا نے اس سے کہا کہ میں تمہاری بیوی ہوں تو وہ کہنے لگا کہ اس سے پہلے وہ فلپائن اور بھارت سے بھی ایسی کئی بیویاں لا چکا ہے۔ پھر اس چینی باشندے نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی لڑکیوں کی یہاں بہت مانگ ہے کیونکہ وہ بہت خوبصورت ہیں لہذا اب وہ ایک اور پاکستانی لڑکی سے شادی کرنے جا رہا ہے۔ دوسری جانب حمیرہ کے انکار میں شدت آتی گئی۔ اس دوران ایک روز ایک ڈاکٹر آیا جس نے حمیرہ کے جسم کا معائنی کیا اور سائز بھی لیا۔ بقول حمیرہ، اسے شک ہوا کہ شاید یہ میرے جسمانی اعضا فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ میں کئی روز سو بھی نہیں سکی ۔ اس کے بعد اسنے اپنے شوہر کو بتایا کی وہ جسم فروشی کے لیے تیار ہے مگر کچھ وقت چاہئے۔ حمیرہ کہتی یے کہ میرا بدلا ہوا رویہ دیکھ کر اس نے مجھ پر اعتماد کرنا شروع کر دیا، اس دوران ایک روز مجھے تہنائی میں موبائل استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔ میں نے اپنے والد کو ساری صورتحال بتا دی تھی۔ انھوں نے فوراً بیجنگ میں سفارت خانے سے رابطے کیے۔ مجھے اُمید تھی کہ والد صاحب کچھ نہ کچھ کریں گے۔ میں اُمید اور نا اُمیدی کے درمیان میں تھی کہ اچانک پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار چین کی پولیس کے ہمراہ وہاں پر پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھے وہاں سے نکال کر فی الفور پاکستان پہنچا دیا۔
اسی حوالے سے شائع ہونے والی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق شادی کے بعد چین پہنچنے والی 99 فیصد پاکستانی خواتین کو استحصال کا نشانہ بنایا جاتا اور پھر جسم فروشی کے لیے آگے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاک چائنا سی پیک پروجیکٹ شروع ہونے کے بعد چینی مردوں کی جانب سے پاکستان میں عیسائی لڑکیوں کے ساتھ شادی کے رجحان میں تیزی آئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 2018 سے لے کر 2020 تک 1321 پاکستانی لڑکیوں کو دلہن کے طور پر چینی شہریوں کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔ اب وفاقی تحقیقاتی ادارہ باقاعدہ اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے کوشاں ہے۔
اس سکینڈل کی تحقیقات کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام بیجنگ سے سود مند تعلقات متاثر ہونے کے خوف سے اس معاملے میں اتنی سختی نہیں دکھا رہے جتنی کے دکھائی جانی چاہیے لہٰذا اکثر کیسوں میں انہیں بھی خاموش کروا دیا جاتا ہے۔
