چینی کی مقررہ قیمت سے70 روپے حکومتی جیبوں میں جا رہے ہیں

سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 120روپے کلو چینی میں سے 70 روپے وزیراعظم عمران خان اور وزرا کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ روز اول سے کہا نیب آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے ، حکومت 10 منٹ میں قانون بنا کر سامنے لے آتی ہے ، نیب ترمیمی آرڈیننس 6 اکتوبر کو لایا گیا جسے پارلیمنٹ میں اب تک پیش نہیں کیا گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے نیب قانون کے تحت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی ، اب ملک کا صدر کسی بھی وقت چیئرمین نیب کو نوکری سے نکال سکتا ہے ، حکومت ہمارے خلاف کرپشن نہیں ڈھونڈ سکی لیکن حکومت کی کرپشن گھر گھر تک پہنچ چکی ہے۔

چینی ، گندم، ادویات کی کرپشن کے پیسے وزیر اعظم اوروزرا کی جیبوں میں جا رہے ہیں ، چیئرمین نیب اور افسران جتنا مرضی ظلم اور کرپشن کریں انہیں استشنیٰ حاصل ہے۔

حکومت کی چوری پر نیب آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے ، مستقبل میں چیئرمین نیب سمیت سارے افسران اسی عدالت میں کھڑے ہوں گے، یہ سب صرف ایک آرڈیننس کی مار ہے ، اس لئے قانون سے نہ کھیلا جائے، اس سے حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہونگی۔

انھوں نے ٹی ایل پی سے کیے گئے معاہدے کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ایک جماعت کوکالعدم قرار دیا پھر پیر پکڑ کر معافیاں مانگی گئی۔

Back to top button