ڈاکٹر قدیر خان پر مشرف کے الزامات سچے تھے یا جھوٹے؟

اپنی زندگی کے آخری لمحات تک نیوکلیئر پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان پرویز مشرف کو کوستے ہی رہے جس کی بنیادی وجہ سابق فوجی آمر کی جانب سے ان پر لگائے گئے جوہری پھیلاو کے الزامات تھے۔ ڈاکٹر خان کا دعوی تھا کہ پرویز مشرف نے اپنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو امریکہ کے عائد کردہ جوہری پھیلاو کے الزماات سے بچانے کے لئے انہیں قربانی کا بکرا بناتے ہوئے سارا مدعا ان پر ڈال دیا جس کے بعد انہیں نہ صرف سرکاری ٹیلی ویژن پر جھوٹے الزامات قبول کرنے پر مجبور کیا گیا بلکہ ان سے معافی بھی منگوائی گئی۔ بعد ازاں قدیر خان کو گھر پر نظر بند کر دیا گیا اور ان کی یہ نظر بندی انکی موت کے بعد ختم ہوئی۔
یاد رہے کہ 2004 میں پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی ایران، شمالی کوریا اور لیبیا منتقلی کی خبروں نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔ اس حوالے سے پرویز مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں بش انتظامیہ نے ڈاکٹر قدیر خان کے جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے دستاویزی ثبوت فراہم کیے تھے جس کے بعد انکے خلاف کارروائی کی گئی اور ایٹمی سائنسدان نے اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے ان سے معافی طلب کی تھی۔ تاہم ڈاکٹر قدیر خان مشرف کے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انھیں دباؤ میں لا کر اقرار جرم اور معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا تاکہ اصل مجرموں کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سائنسدان دوسرے ممالک کو جوہری ہتھیار بیچ دے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو پتہ بھی نہ چلے۔
ڈاکٹر قدیر خان کی حمایت میں بات کرنے والوں کا کہنا ہے وہ اگرچہ اے کیو خان لیبارٹری کی حد تک خود مختار تھے لیکن جوہری ہتھیار اور ٹیکنالوجی ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے لازمی طور پر طیاروں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا انتظام کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا کیوں کہ باقاعدہ ریادتی اور حکومتی منظوری کے بعد کی ایسا کرنا ممکن ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جہاں پاکستان میں ایک ہیرو کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے وہیں بین الاقوامی سطح پر ان کا نام تنازعات میں بھی شامل رہا۔ ان کے خلاف ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں بھی موجود ہیں جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت نے ان کو باعزت بری کر دیا۔
لیکن 2004 ڈاکٹر خان کے لیے مشکلات سے بھرپور سال تھا جب مختلف بین الاقوامی جرائد میں پاکستان کی طرف سے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی خبریں شائع ہوئیں اور اسلام آباد پر عالمی دباؤ بڑھنے لگا۔ ان الزامات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد 31 جنوری 2004 کو ڈاکٹر اے کیو خان کو گرفتار کر لیا گیا، تب مشرف ملک کا با اختیار حکمران تھا اور امریکی جنگ میں اس کا اتحادی بن چکا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر خان نے مشرف سے ملاقات کے بعد سرکاری ٹی وی پر اپنے ویڈیو بیان میں جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس کے اگلے دن مشرف نے انہیں عام معافی دینے کا اعلان کیا تاہم انہیں اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ اس بیان کے کئی برس بعد ڈاکٹر خان نے کہا کہ انہیں معروف قانون دان ایس ایم ظفر اور تب حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ‘اعترافی’ بیان دینے پر رضا مند کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کرنے کے بعد ان پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔
مشرف کا اقتدار ختم ہونے پر ڈاکٹر قدیر خان نے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ بارے ان پر دباؤ ڈال کر اعترافی بیان دلوایا گیا اور انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ جنرل مشرف سے قدیر خان کی نفرت کا یہ عالم تھا کہ اپنے کئی انٹرویوز میں انہوں نے اسے شرابی اور زانی قرار دیا۔
اپنی نظر بندی کے باوجود ڈاکٹر قدیر خان نے 2012 میں ایک سیاسی جماعت تحریک تحفظ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ تاہم 2013 کے انتخابات میں اس جماعت کو ایک بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کی سیٹ نہ ملی جس کے بعد ڈاکٹر خان نے اسے تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا۔ قدیر خان نے زندگی کے آخری سال اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ہی گزارے اور گذشتہ چند سال سے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل طور پر تھم چکا تھا۔ انہوں نے اپنے عزیزوں اور دوستوں سے ملنے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی لیکن ان کی شنوائی نہ ہو پائی۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان سوشل ویلفیئر کے کاموں کے لیے بھی جانے جاتے تھے اور متعدد غیر سرکاری تنظیموں اور سوشل ورک کے کام میں پیش پیش ہوتے۔ ایک کینسر ہسپتال بنانے کا انکا منصوبہ اب بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو بے نظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں 1989 میں ہلال امتیاز اور 1998 میں نواز شریف حکومت کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے کامیاب تجربے کے بعد 1999 میں نشان امتیاز سے نوازا گیا۔
