ڈرامہ ’’مائی ری‘‘ کی آخری قسط پر شائقین برہم کیوں ہوگئے؟

ڈرامہ سیریل ’’مائی ری‘‘ کی آخری قسط بھی ناظرین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے، آخری قسط میں کم عمر شادی شدہ جوڑے کے درمیان طلاق پر شائقین کی بڑی تعداد نے اظہار برہمی کر دیا، ’’مائی ری‘‘ میں عینا آصف نے کم عمر بیوی اور ماں جبکہ ان کے شوہر کا کردار ثمر جعفری نے ادا کیا تھا اور دونوں کی حقیقی عمر بھی 15 اور 20 سال تک ہے، ڈرامے کے ذریعے سماج میں کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کی کوشش کی گئی اور دکھایا گیا کہ 18 سال سے پہلے بچوں کی شادیاں کس طرح ان کی زندگیاں تباہ کر دیتی ہیں۔ڈرامے میں کم عمر جوڑے کی شادی دکھانے کے علاوہ ان کے ہاں کم عمری میں بچے کی پیدائش بھی دکھائی گئی جبکہ آخری قسط میں دونوں کے درمیان طلاق کو بھی دکھایا گیا، دونوں نے کامیاب شادی اور بچے کی پیدائش کے بعد اس وقت طلاق کا فیصلہ کیا جب دونوں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، لڑکا بیرون ملک جبکہ لڑکی اپنے ہی ملک میں پڑھنا چاہتی تھیں۔ڈرامے کے اختتام پر دکھایا گیا کہ طلاق ہونے کے بعد دونوں سکون سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اسی عمل پر شائقین نے اظہار برہمی کیا، ٹی وی میزبان کرن ناز نے بھی ڈرامے کی آخری قسط میں طلاق دکھانے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ خوبصورت ڈرامے ’’مائی ری‘‘ کا بدترین اختتام کیا گیا، انہوں نے لکھا کہ ڈرامے میں طلاق کو خوبصورت دکھا کر میسیج دیا گیا کہ ایک شادی شدہ لڑکی صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے جب وہ اپنی شادی ختم کرے گی، کرن ناز نے لکھا کہ دکھایا گیا کہ جوڑے کے درمیان یہ صرف اس لیے ہوا کیوںکہ بڑوں نے اپنی مرضی سے چھوٹی عمر میں شادی کر دی، ٹی وی میزبان نے ڈرامے کے لکھاری اور پروڈیوسرز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ طلاق کا تناسب جانتے ہیں جو بڑھ چکا ہے، اگر کوئی حساس موضوع چھیڑ ہی دیتے ہیں تو اس کا اس طرح خراب اختتام طلاق کو تناسب کو مزید بڑھا سکتا ہے، دیگر افراد نے بھی ڈرامے کے اختتام پر اظہار برہمی کیا اور لکھا کہ جوڑے کے درمیان طلاق کو نہیں دکھایا جانا چاہئے تھا اور طلاق لیے بغیر بھی تعلیم حاصل کی جا سکتی تھی۔

Back to top button