ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حساس ترین مقامات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے امریکی فوجیوں یا اثاثوں پر حملے کیا تو تہران کی 52 تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔
گزشتہ روز ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جہاں بھی موقع ملا تو امریکیوں کو جنرل سلیمانی کے قتل کا جواب دیں گے۔
جنرل غلام علی ابو حمزہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز اور اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سمیت 35 تنصیبات ایران کے ہدف پر ہیں۔
ایرانی کمانڈر کے اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
ایرانی کمانڈر کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر بڑے، تیز ترین اور تباہ کن حملوں کی دھمکی دے دی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اہداف کو انتہائی پُھرتی اور شدت سے نشانہ بنائیں گے، ان میں سے بعض مقامات ایران کےلیے نہایت اہم اور حساس ترین ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ 1979 میں تہران میں 52 امریکیوں کو امریکی سفارتخانے میں یرغمال بنایا گیا تھا، امریکا مزید خطرہ نہیں چاہتا۔
خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے عراقی ائیرپورٹ پر حملہ کرکے ایران کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔
ایرانی کمانڈر کی ہلاکت پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ عراقی جنرل سلیمانی کی موت پر خوشی سے ناچ رہے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اور صدر حسن روحانی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا نے جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کر رکھا ہے۔
