فحش فلمیں دیکھنے میں بھارتی پہلے نمبرپر

بالآخر پاکستان کے لئے ایک اچھی خبر آگئی. سمارٹ فونز پر فحش ویڈیوز دیکھنے والوں میں بھارتی پہلے نمبر پر جبکہ پاکستانی پچیسویں نمبر پر ہیں۔
تازہ تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اسمارٹ فونز پر فحش مواد دیکھنے کے حوالے سے بھارتی شہری دنیا بھر میں سرفہرست ہیں۔ یہ بات فحش مواد دکھانے والی سب سے بڑی ویب سائٹ پورن ہب نے ایک رپورٹ میں بتائی، جس کے مطابق 2019 میں 90 فیصد بھارتی شہریوں نے پورن ویڈیوز کو موبائل ڈیوائسز میں دیکھا اور ایسا اس وقت ہوا جب بھارت میں اس ویب سائٹ پر پابندی عائد ہوچکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کے ممالک کی بلحاظ انٹرنیٹ صارفین درجہ بندی پر نظر دوڑائیں تو 2019 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان 25ویں نمبر پر آتا ہے۔ تاہم اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور بھارت کی آبادی کا تناسب بھی ہے بھارت کی آبادی ایک ارب سے زائد ہے جبکہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ کے قریب ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عالمی سطح پر ہر 4 میں سے 3 افراد فحش مواد موبائل فونز پر دیکھتے ہیں اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کی اہمیت کم ہوچکی ہے، جبکہ اس ویب سائٹ پر موبائل ٹریفک میں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بھارت کے بعد امریکا 81 فیصد کے ساتھ دوسرے جبکہ برازیل 79 فیصد کے تیسرے نمبر پر رہا۔ جاپان میں 70 فیصد افراد اس طرح کا مواد اسمارٹ فونز پر دیکھنے کے عادی ہیں جبکہ برطانیہ میں 74 فیصد صارفین ایسا کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں اسمارٹ فونز میں فحش مواد کو دیکھنے کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ آبادی کے علاوہ سستے موبائل ڈیٹا پلانز کی دستیابی کے ساتھ مڈرینج اور فلیگ شپ فونز کی قیمتوں میں بھی کمی قرار دی گئی۔ بھارت اس وقت فی فون سب سے زیادہ موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والا ملک ہے جہاں اوسطاً ماہانہ ہر صارف 9.8 جی بی انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔
2024 تک اس شرح میں دوگنا اضافے کی توقع ہے اور یہ 18 جی بی تک پہنچ جائے گا، اسی طرح 2021 میں بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 82 کروڑ تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ بھارت میں اکتوبر 2018 میں 827 پورن ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کی وجہ ایک ریپ کیس بنا تھا جس میں ملزم نے اس طرح کا مواد دیکھ کر جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مگر اب بھی بھارت کے 91 فیصد صارفین کو پورن ہب تک موبائل فونز پر رسائی حاصل ہے، جبکہ اکتوبر 2018 سے بھارت میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس ڈاﺅن لوڈ کرنے کی شرح میں 405 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2018 میں بھارت کی جانب سے ملک میں پورن کو بلاک کرنے کی کوشش پہلی بار نہیں کی گئی تھی بلکہ 2015 میں بھی 857 سائٹس کو بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے مگر یہ فیصلہ بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔
