LPG مافیا کاسرکاری قیمت ماننےسےانکار،قلت کاخدشہ بڑھ گیا

ایل پی جی مافیا نے سرکاری قیمت ماننےسےصاف انکارکردیا،سپلائی چین متاثرہونے سے قلت کاخدشہ پیداہوگیا۔
ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو لکھے گئے خط میں کہاکہ ایل پی جی کی قیمتوں کامسئلہ بلا تاخیر حل نہ کیا گیا تو ملک میں ایل پی جی کی سپلائی چین شدید متاثر ہوسکتی ہے۔
ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کے حوالے سے اگر حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو آئندہ 2 سے 3 روز کے دوران ملک بھر میں مائع پیٹرولیم گیس کی سنگین قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے موجودہ ایل پی جی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق سنگین تحفظات دور کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔
خط میں کہا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے 30 جون 2026 کو مقرر کی گئی ایل پی جی کی قیمت درآمدی گیس کی حقیقی لینڈڈ لاگت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی قیمتوں، فریٹ چارجز، شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ، بندرگاہ پر ہینڈلنگ فیس، اندرونِ ملک نقل و حمل، مالیاتی اخراجات اور دیگر آپریشنل خرچ کے باعث درآمدی لاگت مقررہ فروخت قیمت سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ درآمد کنندگان کو ہر کارگو پر بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث کئی درآمد کنندگان اور اسٹوریج آپریٹرز پہلے ہی اپنی سرگرمیاں محدود یا معطل کرچکے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیاکہ اگر قیمتوں کے موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی نہ کی گئی تو مزید درآمدی ٹرمینلز اور ایل پی جی تنصیبات بند ہوسکتی ہیں، جس سے ملک بھر میں بلا تعطل فراہمی خطرے میں پڑ جائے گی۔
