ڈینگی وباء کی صورت اختیار کر گیا، لاہور میں تباہی مچا دی

پاکستان میں ڈینگی وائرس نے وبائی شکل اختیار کر لی ہے اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈینگی نے بے قابو ہو کر تباہی مچا دی ہے جسکے بعد 11 نومبر کو ایک ہی دن میں ڈینگی وائرس سے پانچ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں، دوسری جانب ڈینگی بخار کم کرنے والی پیناڈول ٹیبلیٹس بھی مارکیٹ میں نایاب ہو چکی ہیں اور اب یہ بلیک میں فروخت ہو رہی ہیں۔
پچھلے پانچ برس میں یہ پہلا موقع ہے کہ لاہور میں ڈینگی وائرس نے اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس برس حکومت نے وقت پر ڈینگی سپرے کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا جس سے 90 فیصد لاروا مچھر کی صورت اختیار کرگیا اور اب پورے شہر میں اپنے ڈیرے جما چکا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ بھر میں ایک ہی روز میں 550 ڈینگی کے مریض سامنے آئے ہیں جو اس وبا کے آغاز سے لے کر اب تک ایک ہی روز میں متاثر ہونے والے افراد کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
صوبائی دارالحکومت سمیت تمام ہسپتالوں میں مختص ڈینگی وارڈز اس وقت مریضوں سے بھر چکے ہیں۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں ڈینگی وبا کو مکمل کنٹرول میں لایا گیا تھا تو اس بار ایسے کیا حالات پیدا ہوئے کہ وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکا؟اپنے دور میں ڈینگی مچھر کو کامیابی سے قابو میں رکھنے والے سابق وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے ساون کے موسم میں وہ اقدامات نہیں کیے جو اس وبا کے شروع ہونے سے پہلے کرنے چاہئیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ یہ حکومت ہر کام میں کیوں ناکام ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ نااہل وزیراعلی اور انکی ٹیم یے۔ خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ جب 2011 میں پہلی بار ڈینگی وارڈ بنایا گیا تو ساتھ ہی بڑے پیمانے پر اس کی مستقل روک تھام کے اقدامات کیے گئے تھے اور ایس او پیز کو قانونی دستاویز کی شکل دی گئی تھی۔ کسی اندھے کو بھی وہ ایس او پیز دے دئے جائیں تو وہ اس وائرس کو بروقت کنٹرول کو سکتا ہے لیکن عثمان بزدار اور ان کی نا اہل ٹیم سے یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں ہو پایا جس کا خمیازہ اب لاہور کے عوام بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے نہ تو سپرے کیا ہے اور نہ مچھر کے انڈوں کو تلف کرنے کے لیے کوئی اقدامات کیے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے لیے تب سب سے مشکل کام یہ تھا کہ اس وائرس کے بارے میں لٹریچر بالکل موجود نہیں تھا۔ ہر چیز صفر سے شروع ہوئی اور پھر بھی ہم نے ایک سال میں اس موذی وائرس کا خاتمہ کر دیا۔ لہازا بزدار حکومت کے ذمے تو کچھ تھا ہی نہیں، اس نے صرف بنائے گے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا تھا۔
پنجاب کی موجودہ وزیر صحت یاسمین راشد نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ بچگانہ الزامات ہیں۔ اس وقت محکمہ صحت کی تمام طاقت اس مرض کو روکنے کے لیے لیے صرف ہو رہی ہے۔ جو لوگ اس بات پر اعتراض کر رہے ہیں کہ ہم نے کیا کیا ہے۔ ان کو اندازہ نہیں ہے اس وقت ہم کورونا سے بھی لڑ رہے ہیں اور ڈینگی سے بھی۔‘ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ حکومت پر یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ ڈینگی ایس او پیز پر عمل درست طریقے سے نہیں کیا جا رہا تو یاسمین کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک بے وقوفانہ بات ہے کیونکہ کوئی بھی ایشو ایس او پی ایز کے بغیر حل ہی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے دور میں کرونا آیا ہے تو ہر چیز کے ایس او پیز بنائے گئے ہیں۔ چاہے وہ فاصلہ رکھنے سے متعلق ہو، چاہے وہ سیمپل لینے سے یا ویکسن کا معاملہ ہو۔ اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان ایس اوپیز پر ہمارے کاپی رائٹس ہیں، کام ہوتا ہی ایسے ہے۔‘
دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب کے مطابق ڈینگی وبا میں اب تک 14 ہزار 500 سو افراد ایسے ہیں جن کو ہسپتال لایا گیا جبکہ اس وقت 2100 افراد پنجاب کے مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں لیکن اب ہسپتالوں میں مزید مریضوں کی گنجائش ختم ہوچکی ہے لہذا زیادہ تر لوگوں کو گھر پر ہی رہ کر علاج کروانے کے طریقے بتائے جارہے ہیں۔
