کار ساز کمپنیوں نے نئی گاڑیوں کی فراہمی سے معذرت کر لی

ملک کے ابتر معاشی حالات اور گاڑیوں کی پیداوار میں کمی اور ڈالر کی اونچی پروز نے معروف کار ساز کمپنی ’’ٹویوٹا‘‘ کو صارفین کو بکنگ کی رقم واپس کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ٹویوٹا نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ معاشی حالات نے اس کے لیے پیداوار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے، ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹویوٹا نے سود کی رقم کے ساتھ مکمل رقم کی واپسی کا آپشن پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی کی پیداوار فروری اور مارچ میں ’بہت کم‘ رہے گی۔

پاکستان میں ٹویوٹا کاریں بنانے والی انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی اصغر جمالی نے کہا کہ حکومت کو سیاسی استحکام لانے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ہم آہنگ کرنے اور تیل کی درآمدات کو کم کرنے اور بجلی کی بچت کے لیے دن کی روشنی کے اوقات کو بروئے کار لانا چاہئے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکمل طور پر ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس پر درآمدی پابندیاں آٹو انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی ہیں، ہم فی الحال اپنی صلاحیت کے 40 سے 45 فیصد پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان پابندیوں میں نرمی نہیں کی جاتی، پلانٹ کی مکمل بندش اور پیداوار کو مکمل طور پر روکنا ناگزیر ہو جائے گا، سی ای او انڈس موٹر نے کہا کہ یہ فیصلے ملک کے نازک معاشی حالات کے ساتھ صنعت کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’روپے کی قدر میں مسلسل کمی پیداوار کی لاگت کو بڑھادے گی، جس کے نتیجے میں آنے والی سہ ماہیوں میں کم حجم، طلب اور رسد کے مسائل اور کم مارجن کی وجہ سے مینوفیکچررز کی نچلی لائن کو محدود کر دے گا۔

Back to top button