کالعدم ہونے کے باوجود TLP کا امیدوار انتخابی میدان میں


کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 249 کے ضمنی انتخاب کے معرکے میں کالعدم تحریک لبیک کے امیدوار کی کھلم کھلا انتخابی مہم اور متعلقہ حکومتی اداروں کی خاموشی کو اس جماعت پر سے مستقبل قریب میں پابندی ہٹائے جانے کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 میں سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی خالی کردہ نشست پر ضمنی الیکشن 29 اپریل کو ہونے جا رہا ہے اور تحریک لبیک کس امیدوار بھی میدان میں ہے اور اپنی انتخابی مہم بھرپور طریقے سے چلا رہا ہے۔
حالیہ دنوں تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود تنظیم کے امیدوار مفتی نذیر احمد کمالوی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی الیکشن میں بھر پور طریقے سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم کے امیدوار کی انتخابی مہم کا نوٹس نہ لیے جانے کی بڑی وجہ یہی سمجھی جا رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک لبیک پر سے پابندی ہٹا کر اسے قومی دھارے میں لانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جیسا کہ صحافیوں سے ایک ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خود بھی بتایا ہے۔
اگرچہ وزیراعظم عمران خان تحریک لبیک پر پابندی لگائے جانے کے بعد اس جماعت کو مسلسل تنقید کا نشانہ نہ بنا رہے ہیں تاہم نہ صرف تحریک انصاف کے اندر لبیک کو کالعدم قرار دینے کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی یہ عندیہ دے رہی ہے کہ تحریک لبیک ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی اس لئے اسے قومی سیاسی دھارے میں واپس لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ عام انتخابات 2018 میں کراچی سے تحریک لبیک پاکستان نے دو صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ دونوں حلقے ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ اور یپلز پارٹی کا گڑھ رہے ہیں۔ الیکشن 2018 میں پی ایس 107 لیاری سے پیپلز پارٹی کے جاوید ناگوری امیدوار تھے جبکہ تحریک لبیک کے یونس سومرو نے انھیں شکست دے کر سیٹ جیت لی تھی۔ اسی طرح تحریک لبیک کے حصے میں سندھ اسمبلی کی دوسری نشست پی ایس 115 بلدیہ سے آئی جہاں سے مفتی محمد قاسم فخری نے 21000 سے زائد ووٹ حاصل کیے اور فاتح قرار پائے حالانکہ یہ علاقہ ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، تاہم 2018 کے الیکشن میں ایم کیو ایم کے انتشار اور پروگریسو ووٹر کے باہر نہ نکلنے کا فائدہ تحریک لبیک کو پہنچا تھا۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک کو دو نشستوں کی بدولت سندھ اسمبلی میں خواتین کے لئے مختص خصوصی نشستوں میں سے بھی ایک نشست مل گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان تحریک لبیک بارے کچھ بھی کہیں، اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ تنظیموں کو کالعدم قرار دینا اور سیاسی رہنماؤں کو سسٹم سے باہر کرنا یا سسٹم میں داخل کرنا اعلی عدلیہ یا الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں نہیں ہوتا بلکہ یہ سب فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ اگر فوجی قیادت تحریک لبیک پر سے پابندی ہٹا کر اسے مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کا ذہن رکھتی ہے تو عمران خان یا کوئی اور اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد نہ تو حکومت کی جانب سے تنظیم کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے اور نہ ہی سندھ اسمبلی میں موجود اس کے تین اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کے حوالے سے کاروائی شروع کی گئی ہے لہذا صاف نظر آ رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تحریک لبیک کو دوبارہ مرکزی دھارے میں لانے کا ذہن رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 29 اپریل کو کراچی میں ہونے جا رہے ضمنی الیکشن میں تحریک لبیک کے امیدوار مفتی نذیر احمد کمالوی اپنی جماعت کے انتخابی نشان کرین پر حصہ لے رہے ہیں اور ان کی سیاسی مہم پر ابھی تک کسی جانب سے اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کے بعد تحریک انصاف حکومت اپنے فیصلے پر کنفیوژن کا شکار ہے۔ اسی لیے اس پر عائد پابندی ختم کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی متضاد دعوے کر رہے ہیں۔ ایک طرف وفاقی وزیر فواد چوہدری کہتے ہیں کہ تحریک لبیک پر سے پابندی ہرگز نہیں اٹھائی جائے گی جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کہہ چکے ہیں کہ بہت جلد لبیک سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔ خیال رہے کہ حال ہی میں حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی کی سمری کابینہ میں پیش کی تھی اور وزارت داخلہ نے اس پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا۔ قانون کے مطابق حکومت کو کسی بھی پارٹی پر پابندی کے لیے کابینہ کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا ہوتا ہے لیکن بظاہر لگتا ہے کہ حکومت کے ایسے ارادے نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی لگانے اور اسے ختم کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتی ہے۔یہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ تحریک لبیک کے معاملے پر حکومت کے اندر دو دھڑے بن چکے ہیں اور اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی حکومت کے ساتھ ایک پیج پر نظر نہیں آتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button