کاکڑ کے اہم وزرا کی وزارتیں خطرے میں پڑ گئیں؟

الیکشن کمیشن نے وفاقی کابینہ میں سیاسی افراد کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے ہونے والے اعتراضات کی نشان دہی کر دی ہے۔ جس کے بعد سیاسی بیک گراؤنڈ کے حامل وفاقی وزراء کی وزارتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن اس سے قبل سیاسی وابستگیاں رکھنے والی خیبرپختونخوا کی پوری نگراں کابینہ کو فارغ کر چکا ہے اور اب وزیراعظم کو لکھے گئے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے نگراں وزرا کو بھی فارغ کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری ظفر اقبال نے نگران وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری توقیر شاہ کو خط میں وفاقی کابینہ میں سیاسی افراد کی شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کو ہدایت کی ہے کہ نگراں کابینہ اراکین کے تقرر میں سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کے انتخاب سے اجتناب کیا جائے اور سینیئر سول سرونٹس کی اہم عہدوں پر تقرری میں غیرجانبداری کو قائم رکھا جائے۔خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ نگراں حکومت کو سابقہ حکومت کا تسلسل قرار دینے کا تاثر عام ہو چکا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران اس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، اور الزام لگایا گیا ہے کہ نگران حکومت سابقہ حکومت کی وراثت لے کر چل رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کے خط کے تناظر میں یہ سوال سامنے آ رہا ہے کہ  ایسے کون سے وفاقی وزراء ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہے یا ماضی میں کسی بھی طرح کی وابستگی ہے؟ مبصرین کے مطابق وزارت داخلہ، انسداد منشیات اور اوورسیز پاکستانیوں کی وزارتوں کا قلمدان رکھنے والے سرفراز بگٹی کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے اور اس پارٹی کے سینیٹر ہیں۔ اس سے قبل وہ 2013 سے 2018 تک بلوچستان کابینہ میں بھی بطور وزیر فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ باپ پارٹی سے قبل سرفراز بگٹی کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے بھی رہ چکا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارتوں کا قلمدان رکھنے والے عمر سیف پنجاب میں 2008 سے 2013 تک، مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں کابینہ کا حصہ رہ چکے ہیں، جبکہ سال 2011 میں عمر سیف کو وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا سربراہ مقرر کیا تھا، پنجاب کابینہ کا حصہ رہنے پر عمر سیف کو مسلم لیگ ن کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

رواں ہفتے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد کو وفاقی وزیر مقرر کیا ہے۔ فواد حسن فواد پاکستان مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں 2 وزرائے اعظم نواز شریف اور پھر شاہد خاقان عباسی کے نومبر 2015 سے جون 2018 تک پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ پی ٹی آئی دور حکومت میں نیب کیسز کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔ فواد حسن فواد کو مسلم لیگ ن کی قیادت کے انتہائی قریب تصور کیا جاتا ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان رکھنے والے سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی کا براہ راست تو کسی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلق نہیں ہے تاہم پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کی تقرری پر مرتضیٰ سولنگی کو پیپلز پارٹی کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

Back to top button