کراچی: کورنگی کے علاقے میں 4 منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس

کراچی میں ایک اورعمارت گِرگئی، کورنگی کراسنگ پر اللہ والا ٹاؤن میں 4 منزلہ رہائشی عمارت گرگئی، ملبے سے 2 لاشیں اور 8 زخمیوں کو نکال لیا گيا۔ہیوی مشینری موقع پر پہنچ گئی، ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو روز قبل عمارت خالی کرنے کے احکامات دیے گئے تھے اور ایک دو کے سوا تمام خاندان عمارت چھوڑ گئے تھے۔
کورنگی کے علاقے اللہ والا ٹاؤن میں رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عمارت 4 منزلہ تھی، ریسکیو اور پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں جبکہ بھاری مشینری کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔عمارت گرنے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 6 زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ عمارت کے ملبے سے کچھ افراد کو نکال لیا گیا ہے تاہم 25 کے قریب افراد تاحال موجود ہونے کا خدشہ ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق جس مقام پر عمارت گری ہے وہاں کافی عرصے سے پانی کھڑا رہا۔ زمین بوس ہونے والی عمارت میں چھ فیملی کے رہائش پذیر ہونے کی اطلاعات ہیں. واقعہ کے بعد پولیس رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں جب کہ انتظامیہ کی جانب سے مشینری بھاری نفری طلب کرلی گئی ہے۔ریسکیو ذرائع کاکہنا ہےکہ عمارت کے ملبے سے اب تک 8 زخمیوں اور ایک بچے کی لاش کو نکال لیا گیا ہے اور تمام افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت گرنے کے باعث قریبی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے جس کے باعث اسے بھی خالی کروا لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ٹریفک پولیس کے اہل کار ذوالفقار کی فیملی بھی اسی مکان میں رہائش پذیر ہے، ذوالفقار اپنے اہل خانہ کو فون کر رہے ہیں مگر کوئی فون پر رابطے میں نہیں آ رہا۔ایس بی سی اے کے ذرائع کاکہنا ہے کہ گرنے والی عمارت کو مخدوش قرار نہیں دیا گیا تھا تاہم عمارت گرنے کی وجوہات کا تعین کیا جارہا ہے اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے کہ عمارت کا نقشہ پاس کرایا گیا تھا یا نہیں۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اللہ والا ٹاؤن میں جس مقام پرعمارت گری ہے وہاں کافی عرصے سے پانی کھڑا رہا۔
علاوہ مکینوں نے بتایا کہ منہدم عمارت میں کم از کم 3 خاندان مقیم تھے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی جانب سے مدد کے لیے آوازیں دی جارہی ہیں۔ کورنگی انڈسٹریل ایریا کے اسٹیشن ہاؤس افسر نے بتایا کہ مذکورہ عمارت 5 منزلہ تھی، پولیس جائے حادثہ پر موجود ہے اور ریسکیو کا کام انجام دے رہی ہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کورنگی کے ڈائریکٹر آصف رضوی نے بتایا کہ عمارت غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ عمارت چائنا کٹنگ کی زمین پر بنائی گئی تھی، اس عمارت کا کوئی نقشہ یا اپروول پلان نہیں تھا۔
230322 6961310 updates
خیال رہے کہ رواں برس کے دوران کراچی میں کسی رہائشی عمارت کے گرنے کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔رواں برس سب سے ہولناک حادثہ 6 مارچ کو گلبہار میں پیش آیا جہاں کثیر المنزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔اس حادثے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہایس بی سی اے کے عہدیداروں نے رشوت لے کر غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی تھی۔بعدازاں 8 جون کوکراچی کے علاقے لیاری میں 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔اس حادثے کے بعد وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ نسیم الثانی کو ہدایت دی تھی کہ وہ شہر میں غیر قانونی عمارتوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ بلڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔علاوہ ازیں 8 جولائی کو لیاقت آباد میں سندھی ہوٹل کے قریب 5 منزلہ مخدوش عمارت زمین بوس ہوگئی تھی تاہم متاثرہ عمارت کو پولیس اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ایک روز قبل ہئ خالی کراولیا تھا جس کے باعث اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہ ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button