کرنل انعام کو غلط فہمی کی بنا پر40 روز زیر حراست رکھا گیا

لاپتہ افراد کے کیسز کی پیروی کرنے والے کرنل انعام الرحیم کی 40 روزہ حراست کے بعد رہا ہونے پر ان کے صاحبزادے کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع اور کرنل انعام کے درمیان غلط فہمی تھی جو کہ دور ہو گئی اور اب معاملات ٹھیک ہیں۔
یاد رہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے کرنل (ر) انعام پر لگائے گئے جاسوسی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکامی پر عدالت نے کرنل کو مشروط رہائی دی ہے۔ تاہم اب کرنل انعام کے بیٹے کا کہنا ہے کہ دفاعی اداروں اور کرنل انعام الرحیم کے درمیان غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی جو اب دور کر لی گئی ہے اور اب معاملات ٹھیک ہیں۔
واضح رہے کہ کرنل (ر) انعام کی طرف سے بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عسکری حکام پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں بغیر کسی باضابطہ الزام کے اٹھایا گیا تھا اور پھر اس لیے رہا کرنا پڑا کہ وزارت دفاع کے پاس انہیں حراست میں رکھنے کی کوئی وجہ یا ثبوت نہیں تھا۔ رہائی کے بعد کرنل انعام نے جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
دوسری طرف کرنل انعام کے وکیل شیخ احسن الدین کا کہنا ہے کہ کرنل صاحب کے ساتھ کس قسم کے معاملات طے پائے ہیں اس بارے میں وہ کُھل کر بات نہیں کر رہے۔ ظاہر ہے کہ حساس معاملات ہیں اور عدالت نے بھی کرنل انعام کو تحقیقاتی میں تعاون کرنے کا کہا ہے اس لیے وہ کوئی بھی بات کرنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزارت دفاع کی طرف سے الزامات ثابت کرنے میں ناکامی پر کرنل انعام الرحیم کو بے نظیر میڈیکل ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ انہیں 16 دسمبر 2019 کو گھر سے اغوا کیا گیا تھا جس کے بعد ان کے بیٹے نے تھانے میں درخواست دی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے یہ ثابت ہونے پر کہ کرنل انعام الرحیم ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں، وزارت دفاع کو ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔جس پر وزارت دفاع نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے انعام الرحیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ پاکستان کے جوہری پروگرام اور آئی ایس آئی کے حوالے سے حساس معلومات دشمن کو فراہم کر رہے تھے ۔ جبکہ کرنل انعام کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں ضمانت منسوخ کرواتے وقت وزارت دفاع نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ عدالت میں کرنل انعام کے جاسوسی میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد پیش کرے گی۔تاہم وزارت دفاع کی طرف سے جاسوسی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد 40 روز سے گرفتار کرنل انعام الرحیم کو مشروط طور پر رہا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے روبرو کہا تھا کہ اگر وہ اپنے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ حکام کو دے دیں اور اپنے خلاف جاسوسی کے الزامات پر ہونے والی تحقیقات میں تعاون کریں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حیران کن طور پر اس سے پہلے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے سپریم۔کورٹ کو بتایا تھا کہ کرنل انعام کے لیپ ٹاپ سے جو معلومات ملی ہیں ان کی بنیاد پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ دشمن کے لیے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں اور آئی ایس آئی کے بارے میں جاسوسی کر رہے تھے ۔ مطلب یہ کہ اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے سامنے سفید جھوٹ بھولا۔
