کرونا کیسز میں اضافہ: این سی او سی کا دوبارہ لاک ڈاؤن کا عندیہ

این سی او سی اجلاس میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور ہلاکتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہارکیا گیا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) میں آج ایک اہم اجلاس کے دوران حکام نے کہا کہ اگر احتیاطی تدابیر کی عمل درآمد نہ ہوا تو دوبارہ سخت اقدامات کرنا پڑیں گے۔ اجلاس میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور ہلاکتوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔
اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز بھی شریک تھے جس میں این سی او سی ذمہ داران نے بتایا کہ وہ کورونا کی صورتحال کا جائزہ لےرہے ہیں اور اگر کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی اسی طرح جاری رہی تو کئی شعبے دوبارہ بند کیے جاسکتے ہیں۔اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کے تناظر میں تمام چیف سیکرٹریز کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کردی گئی ہے۔این سی او سی حکام کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق ہائی رسک سیکٹرز یعنی ٹرانسپورٹ، مارکیٹس، شادی ہالز، ریسٹورانٹس اورعوامی اجتماعات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانا بھی بہت ضروری ہے۔این سی او سی کے مطابق، ان ہائی رسک شعبوں سے کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔
اجلاس میں مقامی انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے، تمام صوبے ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لے کر بھاری جرمانے عائد کریں جبکہ ٹرانسپورٹ، مارکیٹوں، شادی ہالز، ریسٹورانٹس اور عوامی کی مانیٹرنگ سخت کی جائے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ کورونا کے اعداد و شمار بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 19 اموات ہوئی ہیں جو پریشان کن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے روزانہ تقریباً ساڑھے چار سو کیسز رپورٹ ہو رہے تھے لیکن اب یہ تعداد ساڑھے چھ سو یومیہ سے زیادہ ہوچکی تھی جبکہ پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی شرح 2 فیصد سے کم تھی جو اب بڑھ کر 2.47 فیصد ہوگئی ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ صورتِ حال اگرچہ ابھی تک خطرناک تو نہیں لیکن کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنا بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی بروقت اقدامات سے پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کورونا کم پھیلا۔معاون خصوصی صحت کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے کورونا سے نمٹنے کیلئے فوری اور بروقت اقدامات کئے، حکومت نے کورونا پر قابو پانے کیلئے این سی او سی تشکیل دی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ این سی او سی نے انتہائی اہم اور مشکل فیصلے کئے، ان فیصلوں کے نتیجے میں ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاون کئے گئے، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ ، سیاحتی مقامات و دیگرمتعدد سروسز بند کردیے گئے جس کے نتیجے میں کورونا کیسز کے پھیلاو کو روکا گیا۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ حکومت نے کورونا سے متاثرہ افراد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر بیرون ملک سے طبی وحفاظتی سامان خریدے گئے جن میں ماسک، سینی ٹائزر اور وینٹی لیٹرز شامل تھے، کورونا ٹیسٹ کی یومیہ صلاحیت میں اضافہ کیا گیا،پھر ملک کے اندر ماسک، سینی ٹائزرزکی تیاری بڑے پیمانے پر شروع کی گئی،اب یہاں وینٹی لیٹرز بھی مقامی سطح پر تیار کئے جارہے ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ حکومت نے لاک ڈاون سے متاثرہ افراد کیلئے مالی معاونت فراہم کی، وفاقی حکومت کی بروقت اقدامات سے پاکستان میں دیگر ممالک کے مقابلے میں کورونا کم پھیلا، پاکستان نے موثر انداز میں کورونا کو کنٹرول کیا، یہی وجہ ہے کہ کورونا کے خلاف پاکستانی اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں کورونا کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے،ہمیں احتیاطی تدابیر و ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا،آئندہ ایک دو ہفتے ہمارے لئے بڑا اہم ہے، اگر ہم نے احتیاط نہ کیا تو یہ وائرس ہماری معیشت کیلئے نقصاندہ ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button