کرپٹ بزدار سرکار بیوروکریسی کے ذریعے کمائی کرنے لگی

وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس کی زیر قیادت پنجاب میں اس وقت فیاض بزدار، طور بزدار، جمیل گجر کی بیوی فرح خان اور ایس پی امیر تیمور بزدار جیسے کئی گروپ مبینہ طور پر کروڑوں روپے لے کر من پسنند شہروں میں اے سی اور ڈی سی تعینات کروانے کا کام کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ صوبے میں کرپشن روز بروز بڑھ رہی ہے۔
عام تاثر ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی میں آج کل کرپشن انتہائی تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اور ہر کوئی اس کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جائز و ناجائز کام کے لئے ہی رشوت نہیں چل رہی بلکہ اب تو پنجاب کی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے بھی رشوت دے کر ہونے کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ اس وقت کئی گروپ اور کئی افراد حکومت کے حلقوں میں پھر رہے ہیں جہاں پر وہ افسران اور عوام کو یہ آفر کرتے نظر آتے ہیں کہ پیسے دو اور کام کراو۔ سابقہ دور میں ایسا سر عام نہیں ہوتا تھا، شہباز شریف دور میں پینل بنتے تھے اور حساس اداروں کی رپورٹ آتی تھی، یا پھر ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ حمزہ شہباز افسران کے انٹرویوز کرتے تھے پھر تقرر و تبادلہ کئے جاتے تھے، لیکن بزدار حکومت میں معاملہ الٹ ہے۔اب یہاں پر فوری اور کھڑے کھڑے آرڈر ہو رہے ہیں اور بہت سے تقرر و تبادلوں میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو بھی نہیں پوچھا جا رہا ہے۔ آج کل پنجاب سول سیکرٹریٹ میں یہ الزام عام ہے کہ ڈی سی گوجرانوالہ سہیل خواجہ تین کروڑ روپے دے کر ڈی سی تعینات ہوئے ہیں۔ دوران ڈی سی شپ ان کا سابق اے ڈی سی آر علی اکبر بھنڈر سے ایک ہاوسنگ سوسائٹی کے مختلف ایشوز میں کرپشن اور پیسوں کی تقسیم پر مبینہ پھڈا ہو گیا، جس پر ڈی سی گوجرانوالہ سہیل خواجہ نے اے ڈی سی آر علی اکبر بھنڈر کا تبادلہ کرادیا اور چیف سیکرٹری کو اس کے خلاف لکھ کر بھیج دیا،جس پر انکوائری کا پراسیس ہو رہا ہے۔ یہ۔الزام بھی۔لگایا جا رہا ہے کہ ڈی سی جہلم راو پرویز اختر کی تقرری کے پیسے جہلم کی سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے مالک نے دیئے اور بعد ازاں ان سے سوسائٹی کی زمین کی سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کا مسئلہ حل کرایا گیا۔ ڈی سی راولپنڈی عامر عقیق سرکاری زمین کی رشوت لے کر جعلی الاٹمنٹ کے کیس میں جیل یاترا کر چکے ہیں لیکن اب انہیں اوکاڑہ کے بعد راولپنڈی جیسے اہم ترین ضلع کا ڈی سی لگا دیا گیا ہے۔ ڈی سی بہاولنگر شفقت اللہ مشتاق کے بارے میں بھی ایسی ہی افواہیں باز گشت کر رہی ہیں۔ اس وقت فیاض بزدار، طور بزدار، جمیل گجر کی بیوی فرح اور ایس پی امیر تیمور جیسے کئی گروپ اے سی ڈی سی لگوانے کے لئے سرگرم ہیں۔
اسی طرح سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود نے راولپنڈی رنگ روڈ اتھارٹی کیس میں اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کی اور ابھی تک آزاد ہیں۔ کیپٹن (ر) محمد محمود اس سے قبل نندی پور پراجیکٹ میں بھی مبینہ کرپشن کر چکے ہیں۔ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان سب الزامات کے باوجود ہر حکومت انہیں بہترین تقرری دیتی رہی ہے۔ ایک اہم محکمے کے سیکرٹری جو سابق ڈی سی فیصل آباد بھی رہے ہیں،ان کے بارے میں بھی کرپشن کی خبریں عام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سابق چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے کرپشن پر آواز اٹھائی اور کرپٹ افسران کو عہدوں سے ہٹایا، لیکن بعد ازاں انہیں اس وجہ سے خود تبدیل ہونا پڑ گیا تھا۔ ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ، ڈی جی ایکسائز صالحہ سعید، رجسٹراڑ کوآپریٹیو عثمان معظم، سیکرٹری ہاوسنگ ظفر نصراللہ، سیکرٹری جنگلات جاوید اقبال بخاری، سیکرٹری ایکسائز وقاص علی محمود، سیکرٹری انرجی محمد عامر جان کے بار ے میں بھی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں مبینہ کرپشن کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کے موجدہ دور کے برعکس سابق چیف سیکرٹری جاوید محمود اور ناصر محمود کھوسہ کے دور میں سنیارٹی اور میرٹ پر تقرر و تبادلے کئے جاتے تھے۔ لیکن اب تو ایک اُدھم مچ چکا ہے اور اب ایماندار افسران کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں، جن کا کوئی پر سان حال نہیں۔ پنجاب کا ینگ اے سی اس وقت پریشان ہے کہ کہاں سے اتنے پیسے لائے اور اے سی لگے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کو اس وقت ایک مضبوط سٹینڈ لینا ہوگا اور تمام کرپٹ افسران کو نہ صرف اُن کے عہدوں سے ہٹایا جانا چاہئے بلکہ انہیں گھر بھیج دینا چاہئے۔ ویسے بھی اب ان افسران کو نوکری کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اتنا کما لیا ہے کہ اب ان کی کئی نسلیں آرام سے گھر بیٹھ کر گزارا کر سکتی ہیں۔

Back to top button