کنٹونمنٹ الیکشن نے PTI کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

بلدیاتی الیکشن سے پہلے ہونے والے کنٹونمنٹ الیکشن کے نتائج نے حکمران تحریک انصاف کی مقبولیت کے دعووں کا بھرم کھول دیا ہے اور اسکے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان خود کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو مجموعی اکثریت حاصل کرنے پر خوش ہوجائیں، مگر حقیقت تلخ ہے اور اسکے برعکس ہے۔ تحریک انصاف نے ملک کے چاروں صوبوں میں اپنے مضبوط علاقوں سے بدترین شکست کھائی ہے۔
سینئر صحافی عامرخاکوانی اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں کہ پنڈی میں تحریک انصاف نے پچھلے انتخابات میں ایک طرح سے سوئپ کیا تھا، لیکن اس بار چکلالہ پنڈی سے انہیں بہت بری شکست ہوئی ہے، واہ کینٹ میں بھی تحریک انصاف کو سخت نقصان ہوا۔ کچھ ایسے کی حالات لاہور میں بھی رہے۔ اندرون لاہور یا باغبان پورہ اور اچھرہ وغیرہ کے علاقوں میں اسکی زیادہ بہت خراب پوزیشن رہی۔ لاہور کینٹ میں ن لیگ نے بڑی اکثریت لی۔ ملتان میں بھی تحریک انصاف کو لمبی شکست ہوئی، زیادہ تر آزاد امیدوار جیتے ہیں۔ کہنے کو تو حکومتی وزرا دعوے کر رہے ہیں کہ یہ ان کے لوگ ہیں، لیکن اگر یہ دعویٰ سچ ہو تب بھی سوچنا چاہیے کہ ووٹروں نے پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر کے بجائے آزاد امیدوار کو کیوں جتوایا؟ کیا یہ مقامی تنظیم کی ناکامی نہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ کھاریاں کینٹ اور بہاولپور نے تحریک انصاف کا بھرم رکھ لیا، ورنہ پنجاب میں ان کا صفایا ہوجانا تھا۔
عامر خاکوانی کے مطابق پشاور بھی تحریک انصاف کا مضبوط قلعہ تھا جہاں سے الیکشن 2018 میں پارٹی نے سویپ کیا تھا۔ لیکن اس بار پشاور میں تحریک انصاف زیادہ اچھا پرفارم نہیں کر سکی، نوشہرہ میں بھی اسے نقصان ہوا۔ کے پی نے بہرحال تحریک انصاف کو سہارا دیا ہے، ورنہ پنجاب میں تو یہ واضح طور پر ن لیگ سے پیچھے رہی ۔ کراچی میں البتہ تحریک انصاف کی کارکردگی اچھی رہی۔ سندھ میں مجموعی طور پر ان کی نشستیں زیادہ ہیں، مگر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ جہاں سے تحریک انصاف کو جیتنا چاہیے تھا، وہاں سے ہار گئی۔ کلفٹن سے یہ عام انتخابات میں نشستیں نکالتی رہی ہے اور یہاں پر پارٹی کے اہم لیڈروں کے گھر بھی ہیں۔ ملیر کینٹ اور فیصل بورڈ سے البتہ انہوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ کمزور اور نااہل کپتان کی قیادت میں خوئی بھی ٹیم کبھی نہیں جیت سکتی۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن نتائج نے مستقبل کی جھلک دکھا دی ہے، بلدیاتی انتخابات میں مزید اندازہ ہو جائے گا۔ عمران خان نے پنجاب ٹیم کا بزداری کپتان چننے میں جو بہت بڑی غلطی کی، اس کی قیمت اگلا الیکشن گنوانے کی صورت میں بھی بھگتنا پڑ سکتی ہے۔

Back to top button