کوئی جماعت دوسرے کو PDM سے نہیں نکال سکتی

اسلام آباد میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی کوئی جماعت ایک دوسرے کوPDM سے نہیں نکال سکتی
قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ میں مولانا کو ان کی صحت یابی کی مبارک باد دینے آیا تھا اور کل پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی صدارت میں کل پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا، جس میں ملکی صورت حال، سیاسی معاملات، اگلے مہینے حکومت نے بجٹ پیش کرنا ہے، افغانستان کے حالات سمیت تمام امور پر بات ہوگی۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی پی ڈی ایم میں واپسی سے متعلق انہوں نے کہا کہ کل پی ڈی ایم کے اجلاس میں مشاورت کے ساتھ جو فیصلہ ہوگا اسے مطلع کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) دوسری جماعتوں کے ساتھ ایک پارٹی ہے، کسی ایک پارٹی کو یہ اختیار نہیں کہ کسی کو لے آئے یا چھوڑ دے، یہاں مشاورت کے ساتھ فیصلے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میری کوئی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رائے ہوگی، مجھے اپوزیشن کی جماعتوں نے اپوزیشن لیڈر منتخب کیا ہے تو میری ذمہ داری ہے کہ اسمبلی میں مشاورت کے ساتھ ایک مشترکہ لائحہ عمل بنائیں تاکہ بجٹ سمیت حکومت کی تمام محاذوں پر بدترین غفلت اور انتہائی ناکامیاں ہیں ان کو بے نقاب کریں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ کووڈ کے حوالے سے پاکستان میں تیسری لہر ہے اور ڈیڑھ سال کے عرصے میں دنیا میں ویکسین دستیاب ہوئی لیکن انہوں نے کیا اقدامات کیے، دنیا کے وہ ممالک جو ہم سے پیچھے ہیں اور ان کی ویکسینیشن کی شرح ہم سے کہیں آگے ہے۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے امداد میں ملنے والے ٹیکوں پر اکتفا کیا، یہی چینی، گندم اور سبسڈی کرپشن اور اسکینڈل ہوئے ہیں، یہی پیسہ اس کرپشن کی نذر نہ ہوا ہوتا تو یقین کریں اج ملک میں ویکسین سے متعلق معاملات بہتر ہوتے ہیں اور جو پیسہ ہڑپ ہوا ہے وہ یہاں استعمال ہوتا لیکن شومئی قسمت ہمارے سلیکٹڈ وزیراعظم کو اس کا احساس نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ریاست مدینہ کی باتیں کرتے ہیں لیکن 100 فیصد اس کے خلاف ہیں، اگر ریاست مدینہ کا ان کو ذرا بھی احترام ہوتا تو پاکستان کے کونے کونے پہنچتے اور ویکسین سینٹر بناتے اور لوگ جھولیاں اٹھا اٹھا کر دعا دیتے۔
شہباز شریف نے کہا کہ جب ڈینگی آیا تو ہم نے نواز شریف کی قیادت میں سر توڑ کوشش کی، ٹیسٹ کے لیے مشینیں جرمنی سے منگوائیں اور ٹیسٹ نجی سطح پر صرف 90 روپے مقرر کیے اور سرکاری طور پر مفت رکھا اور پوری مشینری کی کوشش سے اقدامات کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے سال ڈھائی سو افراد جاں بحق ہوئے تھے لیکن دوسرے سال اللہ کے کرم سے ڈینگی کے باعث کوئی موت نہیں ہوئی لیکن یہاں تو تیسری لہر چل رہی ہے اور حالات ابتر ہیں۔
پی ڈی ایم کے صدر مولانافضل الرحمٰن نے شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پچھلے تین سال سے مسائل سے دوچار ہے، پہلی دفعہ ایسا ہورہا ہے کہ پاکستان میں مرض تو آرہا ہے لیکن اس کے علاج کی کوئی صورت نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ قوم کی بدقسمتی ہے کہ جن لوگوں کو سلیکٹ کرکے مسلط کیا گیا ہے وہ نااہل ثابت ہوئے ہیں اور پھر ان نااہلوں کو سہارا دینا اسے بڑا جرم ہے، جس پر ہر ایک کو نظر ثانی کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اپنی ان غلطیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے جو اسے پہلے سرزد ہوئی ہیں چاہے وہ ادارے ہیں، چاہے وہ جماعتیں، عوام یا نوجوان ہیں سب کو دیکھنا ہوگا کہ کس طرح ملک کے مستقبل کو سنوارنا ہے، حملے جگہ جگہ پر ہور ہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے، پاکستان میں بڑے بڑے ادارے قوم اور ملک کے لیے کام کر رہے ہیں لیکن آپ نے دیکھا کہ انہوں نے دینی مدارس کے اندر بھی نقب لگائی وہاں پر جو ادارے پہلے سے موجود تھے اس کے مقابلے میں ڈمی قسم کے نئے بورڈز متعارف کروایا اور جبراً مدارس کو ان کی طرف لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ تھا کہ اداروں کی اصلاح کی جائے، ان کو قومی دھارے میں لایا جائے اور اس پر مذاکرات بھی گزشتہ 10 یا 12 سال سے چل رہے تھے لیکن یکدم ان میں توڑ پھوڑ کرنا کیا یہ اصلاح کی نیت سے ہوتا تھا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں جب کہتا تھا کہ یہ لوگ نیک نیت نہیں ہیں تو نتیجہ سامنے آگیا کہ کس طرح بدنیتی سے اداروں کو تباہ کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وقف املاک بورڈ کے حوالے سے شریعی، آئینی، قانونی تعین کے لیے اس کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیج دیا جائے اور زبردستی ہم پر قانون مسل نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم لاکھ کہیں کہ بھارت کے ساتھ اچھے اور پرامن تعلقات تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں تو کشمیر پر سودا کرکے بھارت سے تعلقات پہلے بھی قائم کرسکتے تھے۔
